⚔️ صوفی حیدر علی کا بیٹا ٹیپو سلطان — وہابی ہوگیا! 💕
♦️ تاریخ بھی ایک عبرت کدہ ہے، کبھی کبھی حیران کر دیتی ہے۔
یہ 1799ء کا مارچ تھا۔ نمازِ جمعہ پڑھ کر لوگ مسجد سے نکلے تو منادی کرنے والے نے اعلان کیا:
"اے مسلمانو! سنو، میسور کے صوفی بادشاہ حیدر علی کا بیٹا فتح علی ٹیپو وہابی ہوگیا ہے!"
یہ اعلان کرناٹک کے مقبوضہ مضافات سے لے کر نظامِ حیدرآباد کی ریاست کے گلی کوچوں تک پڑھ کر سنایا گیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی بہادر، مرہٹے اور نظامِ حیدرآباد، میسور کے ٹیپو سلطان کے خلاف چوتھی جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ 💕
ایسٹ انڈیا کمپنی سلطان ٹیپو کے ہاتھوں شکستوں سے دوچار ہو چکی تھی اور میسور کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی تھی۔ اسے ختم کرنے کے لیے صرف عسکری منصوبہ بندی نہیں کی گئی، بلکہ ہر محاذ کو استعمال کیا گیا۔
سلطان ٹیپو کے خلاف مذہبی کارڈ بھی کھیلا گیا اور یہ بات پھیلائی گئی کہ ٹیپو سلطان تو وہابی ہوگیا ہے۔ 💕
اس کے بعد دوسرا مرحلہ "وہابی سلطان" کے خلاف فتووں کا تھا۔
ریاستِ حیدرآباد کے مفتی صاحبان سے فتوے لیے گئے کہ ٹیپو سلطان وہابی ہوگیا ہے، لہٰذا اس کے خلاف جنگ کرنا واجب ہے اور جو شخص اس جنگ میں شریک ہوگا وہ عنداللہ ماجور ہوگا۔
یعنی ثواب کا حقدار قرار پائے گا۔
چنانچہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی، مرہٹوں اور نظامِ حیدرآباد کے ساتھ مل کر میسور پر حملہ آور ہوئی تو ان کے ساتھ وہ مسلمان جنگجو بھی شامل ہوگئے جو ثوابِ دارین کی خاطر سلطان ٹیپو سے لڑنے چلے آئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں مختلف اعلانات کیے جا رہے تھے۔
کہیں کہا جا رہا تھا کہ ٹیپو وہابی ہوگیا ہے،
اور کہیں اعلان کیا جا رہا تھا کہ ٹیپو شیعہ ہوگیا ہے۔ 💕
یاد رہے کہ ایسا ہی ایک فتویٰ ڈیڑھ سال بعد سلطانِ عثمانیہ کے خلاف بھی لیا گیا، جب ترکوں سے لڑنے کے لیے برصغیر سے مسلمان فوجیوں کی ضرورت تھی۔
ان فوجیوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سلطنتِ عثمانیہ اور خلیفہ کے خلاف جارحیت میں انگریز سرکار کا ساتھ کیسے دیا جائے۔
چنانچہ ایک "تاریخی" فتویٰ لیا گیا کہ عثمانی ترکوں کو مقاماتِ مقدسہ کا انتظام سنبھالنے کا کوئی استحقاق نہیں اور یہ حق دراصل شریفِ مکہ کا ہے۔ 💕
تاریخ واقعی ایک پورا عبرت کدہ ہے۔
القدس میں عثمانی ترکوں کو شکست دے کر جب برطانوی لشکر داخل ہوا تو اس کے اولین دستوں میں ہندوستان کے مسلمان بھی شامل تھے۔
اسی ہندوستان میں بعد میں تحریکِ خلافت چلائی جاتی رہی۔
عربوں نے عرب مزاحمت کے پرچم تلے ترکوں سے بغاوت کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ القدس برطانیہ کے پاس چلا گیا۔
وہی عرب بغاوت کا پرچم تھام کر آج فلسطینی اسی آزادی کو تلاش کر رہے ہیں جو اسی پرچم تلے گنوائی گئی تھی۔ 💕
اور سلطان ٹیپو کو بھی کسی نے وہابی سمجھا، کسی نے شیعہ، اور اسی بنیاد پر مرہٹوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا ساتھ دیا۔
لیکن اسی سلطان کے مزار پر لکھا ہے:
"ٹیپو بنامِ دینِ محمد شہید شد۔"
سلطان ٹیپو امر ہوگیا، اور سلطان کے شہید ہونے کے بعد آج ان "سہولت کاروں" کی دھول کا بھی کوئی نشان باقی نہیں۔
مذہبی کارڈ صرف کل استعمال نہیں ہوا، آج بھی ابلاغ کے میدان میں مسلم معاشروں کی فالٹ لائنز کا تذکرہ اہتمام سے کیا جاتا ہے۔
یہی کام ٹیپو سلطان کے ساتھ بھی ہوا۔
حالانکہ سلطان ٹیپو کسی بھی قسم کی فرقہ واریت سے بلند انسان تھا۔
اس کی کہانی تو بس اتنی سی تھی:
"ٹیپو بنامِ دینِ محمد شہید شد۔"
مسلمانوں کے مکاتبِ فکر کی عصبیت تو کجا، اس نے تو ہندوؤں کے ساتھ بھی کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا۔ ایک حکمران کی حیثیت سے وہ اپنی رعایا کے لیے خیر چاہتا تھا۔ 💕
سلطان کے دربار میں ہندوؤں کے پاس اہم مناصب تھے۔
سلطان کا وزیرِ خزانہ کرشنا چاریا پورنیا ہندو تھا۔ یہی ہندو ریاستِ میسور کا پہلا دیوان بھی تھا۔
سلطان کے خزانے سے 156 مندروں کی مالی مدد کی جاتی تھی۔ 💕
ٹیپو کے خزانے کے سونے اور چاندی کے سکوں کے نام بھی مذہبی یک جہتی کے استعارے تھے۔
سب سے قیمتی سکّے کا نام سرکارِ دوجہاں ﷺ کی نسبت سے احمدی تھا۔
اس کے بعد قیمتی ترین سکّہ صدیقی تھا، جسے صدیقِ اکبرؓ سے نسبت تھی۔
تیسرے سکّے کا نام فاروقی تھا۔
ایک سکّہ عثمانی اور ایک حیدری کہلاتا تھا۔
ٹیپو کے خاص دستے کا نام اسداللہی تھا۔
یہی ٹیپو سلطنتِ عثمانیہ کو لکھ بھیجتا ہے کہ فرات سے نجف تک نہر کھودی جائے، اس کا خرچ ریاستِ میسور برداشت کرے گی۔
یہ سفارت جب واپس میسور پہنچی تو ٹیپو سلطان دفن ہو چکا تھا۔
ٹیپو بنامِ دینِ محمد شہید شد۔ 💕
لیکن جب تزویراتی ضرورت محسوس ہوئی تو اسی ٹیپو کے خلاف مذہبی بنیادوں پر پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔
جہاں جو الزام سودمند ثابت ہوسکتا تھا، علاقے اور لوگوں کے رجحانات دیکھ کر ٹیپو پر وہی الزام عائد کیا گیا۔
فرقہ وارانہ منافرت کا برصغیر میں یہ پہلا تزویراتی استعمال تھا۔
اس بیانیے میں لفظ "صوفی حیدر علی" کا استعمال بھی بڑا دلچسپ ہے۔ 💕
یہ گویا تاثر دیا جا رہا تھا کہ سلطان حیدر علی کی فکر سے اس کے بیٹے نے بغاوت کر رکھی ہے اور حیدر علی کے وفاداروں کو اب اس کے بیٹے کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔
میسور کی فتح کے بعد انگریزوں نے سلطان کے کتب خانے کا معائنہ کیا تو وہاں سے صوفی ازم پر 115 کتابیں نکلیں۔
چارلس اسٹیورٹ نے سلطان کے کتب خانے کی مکمل فہرست شائع کی، جو "A Descriptive Catalogue of the Oriental Library of the Late Tippoo Sultan" کے نام سے مشہور ہوئی اور پاکستان آرکائیوز میں بھی محفوظ ہے۔
لیکن اب کسی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ:
"صوفی حیدر علی کے وہابی بیٹے کی لائبریری سے صوفی ازم کی 115 کتابیں نکل آئی ہیں۔"
اب ایک نیا اعلان فرمایا جانے لگا۔ 💕
تخت پر اب کرشنا راجا بیٹھا تھا، سلطنتِ میسور کو غدار پورنیا چلا رہا تھا اور اس کی سرپرستی ایسٹ انڈیا کمپنی کر رہی تھی۔
ادھر نظامِ حیدرآباد کی ریاست میں عام آدمی دل گرفتہ تھا کہ سلطان ٹیپو شہید ہوگیا اور ہماری فوج نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر اسے شہید کیا۔
چنانچہ اب نیا اعلان اور نیا پروپیگنڈا شروع کیا گیا۔
خطبوں اور مساجد میں بتایا جانے لگا کہ سلطان ٹیپو تو محض اقتدار کے لیے اسلام کا نام استعمال کر رہا تھا۔
اس کا ثبوت یہ بتایا گیا کہ اس کے کتب خانے میں شاعری کی 190 کتابیں موجود تھیں، جبکہ قرآن و حدیث کی کتابیں اس سے آدھی بھی نہیں تھیں۔
اس دور کی ریاستِ حیدرآباد کے "علمائے کرام" اور "مفتیانِ عظام" نے جو مضامین باندھے، یا بندھوائے گئے، کبھی ان کا کوئی مجموعہ پاکستان میں شائع ہو جائے تو چودہ نہیں، آٹھ دس طبق ضرور روشن ہوجائیں کہ تاریخ میں مذہبی منافرت کا تزویراتی استعمال کیسے کیسے کیا جاتا رہا ہے۔ 💕
اللہ تعالیٰ شیرِ ہند سلطان ٹیپو شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی کھربوں رحمتوں کا نزول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲💕
کاش کوئی لکھنے والا ٹیپو سلطان پر اس طرح لکھے جیسے اس پر لکھے جانے کا حق ہے۔
ٹیپو بنامِ دینِ محمد شہید۔
سیتا وائٹ اور ٹیریان کیس کی حقیقت
منقول کی پوسٹ
ٹیریان کی ماں سیتا وائٹ برطانوی تھیں، جس کی دوستی عمران خان سمیت دنیا بھر کی کئی مشہور شخصیات سے رہی۔ جمائما بھی اس کی اچھی دوست تھی۔
وہ اس مصری ارب پتی کے بھی کافی قریب رہی جو لیڈی ڈیانا کے ساتھ کار حادثے میں ہلاک ہوا تھا۔
پر اسرار کردار کی مالک سیتا وائٹ امیر باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار رہی۔ اس کے باپ نے اس کو چند گھر دے رکھے تھے، جن کے کرائے پر اس کا گزارا تھا۔ مزید پیسوں کے لیے اس نے اپنے خاندان پر کچھ کیس بھی کر رکھے تھے، جن میں سے ایک آدھ میں اسے چند ملین ڈالر بھی ملے۔ اس نے بہت سی شادیاں کیں اور سب ناکام رہیں۔ سیتا وائٹ کی اپنی موت بھی پُر اسرار رہی اور بہت سے لوگوں نے اس کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔
1995ء اور 1996ء میں نواز شریف کا لندن آنا جانا بڑھ گیا جب ببلو ڈبلو بدنام زمانہ فلیٹس میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ انہی دنوں سیتا وائٹ کی شریف خاندان سے بھی ملاقات ہوئی۔ جنوری 1997ء میں پاکستان میں انتخابات کے لیے کاغذات جمع کروائے جارہے تھے۔ ان دنوں عمران خان چھوٹے موٹے اجتماعات میں ان کرپٹ خاندانوں کو للکارنے لگا تھا۔
اس انتخابی مہم کے دوران ہی دو کام ہوئے:
1ـ نواز شریف نے، بے نظیر بھٹو کی زبردست کردار کشی شروع کر دی اور ننگی تصویریں پھینکیں۔
2ـ ساتھ ہی سیتا وائٹ نے عمران خان کے خلاف امریکی عدالت میں کیس دائر کر دیا کہ اس کی 4 سالہ بیٹی ٹیریان دراصل عمران خان کی بیٹی ہے۔اس کیس کی شریف خاندان نے پشت پناہی کی اور خوب اچھالا۔
عجیب بات یہ تھی کہ عمران خان کا پاکستان کے بعد سب سے زیادہ وقت لندن میں گزرتا تھا۔
لیکن سیتا وائٹ نے یہ کیس پاکستان یا لندن میں نہ کیا۔
عمران خان کو نوٹس ملا تو امریکی عدالت جانے کو تیار ہو گیا لیکن اس کو خبر ملی کہ اس کو امریکا میں قتل کیا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد عمران خان نے سیتا وائٹ کو پیغام بھیجا کہ آپ پاکستان یا لندن میں کیس لڑیں، میں ڈی این اے اور بلڈ ٹیسٹ بھی دینے کو تیار ہوں۔
لیکن عجیب بات ہے کہ بیٹی کو حق دلانے کے لیے سرگرم برطانوی شہری سیتا وائٹ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔
عمران خان کی عدم پیروی پر امریکی عدالت نے محض سیتا وائٹ کے دعویٰ کی بنیاد پر اس کے حق میں یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ یہی وہ فیصلہ ہے جس کو قطری کے سالے چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف تو امریکی عدالت کا فیصلہ موجود ہے لیکن آج تک کسی DNA میں ایسا ثابت نہ ہوا کہ ٹیریان عمران خان کی بیٹی ہے۔
سیتا وائٹ کی موت کے بعد اس کی وصیت کھولی گئی تو اس میں لکھا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد وہ اپنی بیٹی کی بہتر زندگی کے لیے صرف جمائما پر بھروسہ کر سکتی ہے۔ اس کی بیٹی جمائما کے سپرد کی جائے اور اس کے اکاؤنٹ میں جو چند لاکھ ڈالر ہوں وہ بھی جمائما کو دئیے جائیں۔ وہ وصیت آج بھی موجود ہے اور اس میں کہیں نہیں لکھا کہ ٹیریان عمران خان کی بیٹی ہے۔
جمائما، سیتا وائٹ کی دوست تھی۔ وہ بنیادی طور پر رحم دل خاتون ہے۔ اس نے یہ درخواست قبول کر لی اور ٹیریان کو اپنی نگرانی میں لے لیا جو آج بھی اسی کے پاس ہے۔
سیتا وائٹ بیٹی کے 4 سال کی ہو جانے تک خاموش رہی، پھر اچانک کیس کِیا اور وہ بھی امریکہ میں۔
ان دنوں وہ اپنی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے کئی دیگر ،
پُر اسرار سرگرمیوں میں بھی ملوث تھی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو ہائر کیا گیا تھا تا کہ عمران خان کو ٹریپ کیا جا سکے، جس میں شریف خاندان ماہر ہے۔
اس کیس کو شریف خاندان نے ہمیشہ استعمال کیا ،
حتیٰ کہ 2018ء کے الیکشن میں بھی شریف خاندان کے بدنام زمانہ ساتھی افتخار چودھری نے کہا کہ وہ ٹیریان کا کیس پاکستان میں لڑے گا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کیس میں کچھ نہیں سوائے سیتا وائٹ کے زبانی دعوے کے،
لہذا کیس دائر کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔
اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹ میں بھی عمران خان کو
نا اہل کروانے کے لیے دائر کردہ یہ کیس کھوکھلے نکلے۔
عمران خان فرشتہ نہیں نہ آسمان سے اترا ہے لیکن شریف خاندان کے تمام مردوں سے ہزار گنا اچھا ہے۔ ٹیریان اور سیتا وائٹ کا معاملہ بالکل ویسا نہیں جیسا بتایا جاتا ہے۔
اس وقت اخلاقی لحاظ سے پاکستان بھر میں عمران خان کے پائے کا کوئی ایک بھی سیاستدان موجود نہيں۔
فزکس کا پہلا اصول ہے آگ اور پانی ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں پانی آگ کا گلا گھونٹ دیتا ہے لیکن اس زمین پر ایک ایسا پراسرار سمندر بھی ہے جہاں پانی کی گہرائیوں میں آگ کے شعلے ناچ رہے ہیں اور چودہ سو سال پہلے ایک ایسی کتاب نے اس کا دعویٰ کیا تھا جس نے آج کے بحری سائنسدانوں (Oceanographers) کے ہوش اڑا دیے ہیں
قرآنِ پاک کی سورہ الطور (آیت 6) کے ان دو الفاظ پر آ کر آج کی سائنس کا سفر رک جاتا ہے جہاں کائنات کا مالک فرماتا ہے:"وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ
"اور قسم ہے سلگتے ہوئے (بھڑکتے ہوئے) سمندر کی..." چودہ سو سال پہلے عرب کے بدو یہ پڑھ کر سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ یا اللہ! سمندر تو پانی کا ہوتا ہے وہ کیسے سلگ سکتا ہے؟
اس 'مسجور' لفظ کے پیچھے کیا چھپا تھا؟
اس سسپنس کو ڈی کوڈ کرتے ہیں۔ لفظ 'مسجور' کا مادہ (Root Word) 'س - ج - ر' (S-J-R) ہے۔پرانی عربی لغت میں اس کا مطلب ہوتا ہے: "کسی تندور یا بھٹی (Oven) کو نیچے سے اتنی تیز آگ دینا کہ اس کے اوپر موجود پانی ابلنے لگے"۔قرآن چودہ سو سال پہلے کہہ رہا تھا کہ سمندر کا فرش نیچے سے کسی جلتی ہوئی بھٹی کی طرح گرم ہے لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟پھر بیسویں صدی آئی۔ انسان نے گہرے سمندروں میں اترنے والی خاص آبدوزیں (Submarines) بنائیں اور جب وہ سمندر کی آخری گہرائیوں میں پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کے کمپیوٹرز فریز ہو گئے انہوں نے دیکھا کہ سمندر کے فرش (Ocean Floor) پر زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس کے درمیان میلوں لمبی دراڑیں ہیں۔اور ان دراڑوں کے اندر سے پگھلا ہوا لال ابلتا ہوا لاوا (Lava) اور مائع آگ باہر نکل رہی ہے ان گہرے خلائی نما مقامات کو سائنس میں Hydrothermal Vents یا Underwater Volcanoes کہا جاتا ہے۔وہاں پانی کا درجہ حرارت 400°C تک چلا جاتا ہے آگ ابلتی ہے اور کالا دھواں نکلتا ہے لیکن اوپر موجود کروڑوں ٹن سمندر کا پانی اتنا ٹھنڈا اور بھاری ہوتا ہے کہ وہ اس آگ کو بجھنے نہیں دیتا اور نیچے کی آگ پانی کو ختم نہیں ہونے دیتی آگ اور پانی دونوں ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کے اندر زندہ ہیں بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی
سورہ التکویر میں اللہ پاک نے قیامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک اور ہولناک بات کہی ہے:"وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ
"اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے..." یعنی وہ آگ جو آج سمندر کے نیچے لٹو کی طرح بند ہے ایک دن وہ پورے سمندر کو آگ کا دریا بنا دے گی فزکس کا وہ آخری دھماکہ کیسا ہوگا؟غور کریں کہ کائنات کا وہ عظیم ڈیزائنر کتنا لاڈلا ہے جو سمندر کی تاریک ترین گہرائیوں میں جہاں کوئی انسان دیکھنے والا نہیں تھا وہاں بھی چودہ سو سال پہلے اپنے کلام کی سچائی کا لائیو ثبوت (Live Proof) سجا کر بیٹھا تھا وہ آپ کو کیسے بھول سکتا ہے؟
ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے حالات اب کبھی نارمل نہیں ہوں گے ذرا اس کائناتی بیلنسنگ سسٹم کو دیکھیں۔جو رب پانی کے خوفناک دباؤ کے نیچے آگ کو زندہ رکھ کر کائنات کا توازن قائم رکھ سکتا ہے کیا وہ آپ کے بکھرے ہوئے حالات میں سکون کا توازن لانے پر قادر نہیں ہے؟
ایک خاتون اپنے گھر میں دوران ٹھوکر کھا کر گر گئیں۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر کو دکھایا جائے، لیکن وہ پُراعتماد تھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی جوتی کی وجہ سے اینٹ سے ٹکرا گئی تھیں
مگر اس دعوت کے بعد ان کے شوہر نے سب کو اطلاع دی کہ انہیں اسپتال لے جایا گیا اور شام 6 بجے ان کا انتقال ہو گیا در اصل دعوت کے دوران انہیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔
اگر وہاں موجود لوگ فالج کی علامات پہچان لیتے، تو شاید وہ آج بھی زندہ ہوتیں۔
درحقیقت، فالج کی کچھ ابتدائی علامات ہوتی ہیں اور اسے روکا جا سکتا ہے۔ ایک نیوروسرجن کا کہنا ہے کہ اگر وہ فالج کے مریض تک تین گھنٹوں کے اندر پہنچ جائیں، تو وہ فالج کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد یہ ھے کہ فالج کی علامات کو جلد پہچانا جائے اور مریض کو تین گھنٹوں کے اندر علاج فراہم کیا جائے ۔۔ یہ مشکل نہیں ھے
فالج کی شناخت کے لیے
یاد رکھیں تین آسان حروف: S، T، R
براہِ کرم پڑھیں اور سیکھیں!
اگر آپ کے اردگرد لوگ فالج کی علامات نہ پہچان سکیں، تو مریض کو شدید دماغی نقصان ہو سکتا ہے۔
تین آسان سوالات پوچھیں:
S: (Smile) مسکرائیں
مریض سے کہیں کہ وہ مسکرائے۔
اگر منہ کا ایک کونہ نیچے جھک جائے، تو یہ علامت ہے۔
T: (Talk) بات کریں
مریض سے کہیں کہ ایک سادہ جملہ بولے، جیسے:
"آج دھوپ والا دن ہے"
اگر جملہ بے ربط یا الجھا ہوا ہو، تو یہ بھی علامت ہے۔
R: (Raise) ہاتھ اٹھائیں
مریض سے کہیں کہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔
اگر ایک ہاتھ نیچے گر جائے، تو یہ بھی فالج کی علامت ھے
ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض سے کہیں کہ زبان باہر نکالے۔
اگر زبان ایک طرف کو مڑی ہوئی ہو یا ٹیڑھی ہو تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔
اگر مریض ان چاروں میں سے کوئی بھی عمل نہ کر سکے تو فوراً ایمبولینس یا اسپتال کو کال کریں اور علامات بتائیں۔
کچھ شیر شکار کے لیے نکلتے تو ہیں... لیکن کبھی واپس نہیں لوٹتے🦁🌍
جنگل کی دنیا انتہائی بے رحم ہے، جہاں ہر شکار اپنے ساتھ شدید خطرات اور زخم لے کر آتا ہے۔ قدرت کا قانون سب کے لیے برابر ہے، یہاں تک کہ جنگل کے بادشاہ کے لیے بھی کوئی رعایت نہیں🌿💔
ایمازون کے جنگلات سے سامنے آنے والی اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔
ایمیزون کے جنگل میں عجیب و غریب اور بڑی تعداد میں جانداروں کی دریافت۔۔اتنی بڑی تعداد میں ایسے انوکھے جاندار شاید ہی کسی نے پہلے کبھی دیکھے ہوں۔ منظر دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے!
ماہرین اب تک حیران ہیں کہ یہ کس قسم کی نئی نسل ہے۔ آپ کے خیال میں یہ کیا چیز ہوسکتی ہے؟🤔
اس ویڈیو نے تو سمندری ماہرینِ حیاتیات کو بھی حیران کر دیا ہے! 😳
کیا واقعی یہ اب تک کیمرے میں قید ہونے والی سب سے بڑی وہیل ہے، یا پھر صرف دیکھنے میں اتنی دیوہیکل لگ رہی ہے؟
امریکی ریاست جورجیا میں معمول کی پرواز کے دوران مسافر طیارے کا انجن اچانک فیل ہو گیا، جس پر پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو آخری جذباتی پیغام بھیجنے کے بعد اپنی جان پر کھیل کر جہاز کا رخ مصروف ہائی وے کی طرف موڑ دیا۔
نیچے چلتی گاڑیوں کے ڈرائیورز ابھی کچھ سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ تیز رفتار طیارہ سڑک پر نمودار ہوا اور تین گاڑیوں کو کچلتا ہوا شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا، لیکن پائلٹ کی ناقابل یقین مہارت کی بدولت تمام مسافر اور ڈرائیورز اس ہولناک حادثے میں معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔
سورج غروب ہو رہا تھا اور کیلی فورنیا کے سائپریس بیچ پر لہریں معمول سے زیادہ سرکش ہو رہی تھیں۔ لیکن وہی ایک فوٹوگرافر اپنے کیمرے کے لینز سے سمندر کی خوبصورتی کو قید کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی نظر بپھری ہوئی لہروں کے بیچ پڑی۔ پانی کے اس خوفناک تلاطم میں ایک انسانی سر بار بار ابھرتا اور غائب ہو رہا تھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا، وہ خطرے کو بھانپتے ہوئے اپنی پوری طاقت سے لائف گارڈ چوکی کی طرف بھاگا۔
وہاں ایک ۱۰ سال کا بچہ اپنے سرف بورڈ سمیت لہروں کے رحم و کرم پر تھا، جو موت سے جنگ لڑ رہا تھا۔ ساحل پر موجود ایک نوجوان لائف گارڈ نے جیسے ہی یہ دیکھا، وہ بنا ایک پل گنوائے سمندر کی خوفناک لہروں میں کود گیا۔ لہریں اتنی غضب ناک تھیں کہ انسان کو تنکے کی طرح بہا لے جائیں، لیکن اس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بچے تک رسائی حاصل کر لی اور اسے مضبوطی سے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔
ساحل پر موجود کچھ لوگوں نے لائف گارڈ کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن سمندر کے سفاک لہروں نے انہیں اٹھا کر پٹخ دیا، اور وہ خوف کے مارے پیچھے ہٹ گئے۔ میدان میں اب صرف وہ لائف گارڈ اور موت کا کھیل کھیلتی لہریں تھیں۔ لہریں اسے بار بار پیچھے دھکیلتی رہیں، لیکن اس کے ارادے چٹان سے زیادہ مضبوط تھے۔ وہ آخری سانس تک لڑتا رہا اور بالاآخر بچے کو بحفاظت ساحل پر کھینچ لایا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ معصوم بچے کی جان بچانے والا یہ جری لائف گارڈ کوئی تجربہ کار پیشہ ور نہیں تھا، بلکہ یہ اس کی نوکری کا پہلا دن تھا، مگر پہلے ہی دن اس نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے پیشہ ور بھی نہیں کر پاتے۔
اگر تم سبط پیغمبر کا غم نہ کر سکتے تو مزاق بھی نہ اڑاؤ ۔
اسکا بیٹا مر جاۓ ابھی تو روۓ گا چینخے گا اور آل نبی کی شہادت پہ دانت نکال رہا۔
یہ فنی نہ ہے اس حرامی کے خلاف امام حسین پاک کی شہادت پہ طنزیہ ہنسنےمزاق اڑانے پہ مقدمہ درج ہونا چاہیے ۔
حرام ابن حرام ابن حرام ابن حرام لعنت 🖐