یعقوب بن بختان کہتے ہیں:
"میرے ہاں سات بیٹیاں پیدا ہوئیں، تو جب بھی میرے ہاں بیٹی پیدا ہوتی، میں امام احمد بن حنبل کے پاس جاتا۔
وہ مجھ سے کہتے:
'اے ابو یوسف! انبیاء بیٹیوں والے باپ ہوتے ہیں۔'
تو ان کا یہ جملہ میرا سارا غم دور کر دیتا تھا۔"
— ابن القیم | تحفۃ المودود
"جو لوگ حق سے پھر گئے (گمراہ ہو گئے)، ان میں سے اکثر حقیقت میں اپنے باطن میں کبھی حق پر تھے ہی نہیں، بلکہ کسی وقت حق ان کی خواہشِ نفس کے موافق آ گیا تو انہوں نے اس کی پیروی کر لی، پھر جب ان کی خواہش بدل گئی تو انہوں نے حق کو بھی چھوڑ دیا۔"
شیخ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ
اعتدالِ کامل اور توازنِ صحیح صرف سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث کے مجموعہ کے مطالعہ اور کسی نمونۂ کامل کی صحبت اور تربیت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔
سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ
[تاریخِ دعوت وعزیمت ص:١٦٦،ج:١]
میڈیا پر بالقصد ایسی گفتگو کرائی جاتی ہے جس کا مقصد علماء کی علمی مرجعیت و سیادت کو دھیرے دھیرے بالکل ختم کرنا دینا ہے، تاکہ ایسی لغویات سے لوگ آہستہ آہستہ بیزار ہوتے ہوتے پورے دینی طبقے کے پاس موجود سارے کے سارے مواد کو لغویات کا
مجموعہ سمجھنے لگیں۔
مفتی ارشاد احمد اعجاز
"میں نے والد کی وفات کے بعد ایک سال تک اپنے لیے کوئی دعاء نہیں مانگی؛
صرف والد کیلئے دعاء کرتا رہا!"
امام عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمه اللہ
(مسائل صالح : 902)
حافظ ابنِ حجر نے فرمایا:
جو بندہ بیت اللہ کے دور ہونے کی وجہ سے وہاں پہنچنے سے قاصر ہو تو وہ بیت اللہ کے رب کی طرف توجہ کرے
کیونکہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔
ہم مسکین لوگ ہیں؛ گر اللہ کی پردہ پوشی نہ ہوتی تو ہم رسواء ہو جاتے!"
امام احمد بن حنبل رَحمَهُ اللہ
(حلية الأولياء : 181/9)
اللھم انت الغني ونحن الفقراء
اللهم انت القوي ونحن الضعفاء
(اور اُن سے کہیں گے کہ) "تم پر سلامتی ہو، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو" پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!
🌹
(الرعد :24)