جتنا بھی ہم خود کو تسلی دیں لیں، دل کو سمجھا لیں مگر جو خواب نہیں پورے ہوئے
وہ پوری شدت سے دل کے اندر ایک چھپے ہوئے خانے میں سے جھانکتے رہتے ہیں،
مشکل ہی تو ہے دستبردار ہونا، بڑی ہمت چاہیے ہوتی ہے بلکہ اپنی نفی کرنی ہوتی ہے تب جا کے آپ اپنی خوابوں سے دستبردار ہوتے ہیں۔
🍂!
ہمارے لیے سب سے بڑی تسلی ہی اس ایک جملے میں ہوتی کہ
“ُجو خدا کی مرضی،
جب ہم اُس کی مرضی تسلیم کر لیتے، اُسکی رضا سمجھ جاتے ہمارے لیے ساری مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں
ہم اپنی خوشیاں، اپنی خواہشات کو صرف اس لیے روند دیتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔؟
لوگوں کی پرواہ کے چکر میں ہم لوگوں نے اپنی زندگیاں، خواب
سب کچ داو پہ لگا دیا
پر لوگ کیا کہیں گے، اس جملے کی تکرار ختم نا ہوئی۔۔۔۔۔!
گھڑی کی سوئیاں کتنی ہی آگے کیوں نا ہو جائیں ، ہم کچھ لمحوں میں ہمیشہ کے لیے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان لمحوں سے نکلنے کے لیے ہمیں گھڑی نہیں بلکہ اپنی جگہ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے
کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہیں، زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اُسے جینا آنا چاہیے
پر سوال یہ ہے کہ کیا ہم جینے کے اتنے وسائل ملتے؟؟؟
ساری زندگی کھینچا تانی میں گزر جاتی ۔
شکایت نہیں ہے بس ایک سوال ہے
اب تو بڑھاپا سارے کا سارا وجود میں سرایت کر چکا ہے۔
ہڈیوں میں درد
دل میں درد
نا کہیں آنا نا جانا ہوتا،
نا کسی سے باتیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں،
نا کچھ لکھا جاتا نا ہی پڑھا جاتا ہے
بس اب دل چاہتا ایک کونے میں پڑے رہو
وقفے وقفے سے چائے پیو
اور ۔۔۔۔۔۔
اور کچھ بھی نہیں
🍂
میری اماں حضور کو شکایت رہتی تھی کہ صبح کا سورج نہیں دیکھتی میں
تواب ہم صبح کا سورج دیکھ کے آرام فرماتے ہیں پر شام کا سورج نہیں دیکھ پاتے
لہزا اب وہ اس بات پہ متفق ہیں کہ صبح کا سورج نا دیکھنا بہتر ہے بہ نسبت شام کے سورج کے۔
پر آج صبح اور شام دونوں کا سورج دیکھنے کا ارادہ ہے میرا