آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔
آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔
ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔
کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
🚨🚨🚨قائد عمران خان کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے پشتون قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کر لیا، وفاق کو کوئی سرپلس نہیں دے رہا بلکہ 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، اس بجٹ میں عمران خان صاحب کے ویژن کے مطابق تعلیم اور صحت کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہوئے تعلیم کیلئے 486 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ صحت کیلئے 334 ارب روپے مختص ہے!!!👏❤️
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
اگر عرفان سلیم کو آگے لانے میں فیل ہوئے تو عرفان سلیم نہیں بلکہ نظریہ فیل ہو گا، جدوجہد فیل ہو گی، میرٹ فیل ہو گا، سب سے بڑھ کر عمران خان کا عام کارکن فیل ہو گا..
یہ اچھا طریقہ ہے ، اگر پیٹرول 57 روپے فی لیٹر بڑھانا ہو تو پہلے 137 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرو، پھر احسان جتلا کر 80 روپے کم کردو اور وہی 57 روپے اضافہ رہنے دو
میڈیا کو اشتہارات کے پیسے مل رہے ہیں۔
ہمارے دور حکومت میں 10 روپے پیٹرول مہنگا ہونے پر بازاروں میں مائیک لیکر لوگوں سے پوچھنے والے کہ مہنگائی ہوگئی ہے
آج بھی جاکر ذرا یہ رپورٹ کریں ۔
میڈیا مہنگائی پہ آواز اٹھائے اور اپنا فرض پورا کرے۔
رکن قومی اسمبلی عاطف خان
بات یہ ہےکہ چار سال میں معیشت اس نہج پر آگئی کہ ملک چلانے کے لیے سارا پیسہ پیٹرولیم مصنوعات پر اکھٹا کیا جارہا ہے۔ حکومت اگر ٹیکس نہ لے تو اس وقت بھی پیٹرول 250 روپے فی لیٹر ملے۔
سوال یہ ہے کہ معیشت کو اس مجبور حد تک کون لے کر آیا؟
چار سال میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیوں نہ ہوسکا؟ سرمایہ کیوں نہ آئی؟ ڈالر کی قیمت کیوں اوپر گئی؟ انڈسٹری اور بڑی کمپنیاں کیوں بند ہوئیں؟
عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود معیشت تباہ کرنے والے ان تجربہ کاروں کو کس نے مسلط کیا؟
ان سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے جو پتا تو سب کو ہے لیکن لکھنے کی اجازت نہیں۔
پٹرول کے ٹیکس یعنی لیوی کے بغیر قیمت 245 بنتی ہے لیکن ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد حکومت یہ کمی عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر پورا کرتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کرائسس کی صورتحال ہے لیوی 80 سے بڑھا کر 161 روپے کیوں کر دی گئی۔۔۔؟ لیوی بڑھانے کا مطلب کیا یہ لیا جائے کہ حکومت کرائسس مینجمنٹ میں باکل ناکام ہو گئی
کیا عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کی آڑ میں حکومت لیوی بڑھا کر ایف۔ بی آر کا شارٹ فال پورا کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ایف بی آر کی نااہلی کی سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے۔
لیوی بڑھا دو
ٹول ٹیکس بڑھا دو
ٹول پلازے بڑھا دو
نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کر دو
آئی پی پیز سے معاہدے حکومت نے کیے لیکن فکس سر چارج لگا کر عوام سے کیسپٹی پےمنٹس وصول کرو۔
گیس پر فکسڈ ٹیکس لگا دو
سولر پر جنرل سیلز ٹیکس لگا دو
گوبر پر 30 روپے ٹیکس لگا دو
دوسری طرف بیوروکریسی کے لیے گاڑیاں خرید لو
فری پٹرول کا کوٹہ بڑھا دو۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی تنخواہیں بڑھا دو
اس طرح کی معاشی مینجمنٹ یا معاشی پالیسیاں عام بندہ بھی بنا لے گا پھر وزرات خزانہ اور بیوروکریسی میں بھاری بھر سٹاف رکھنے اور ان کی فراہم کی گئیں سہولتوں کا بوجھ عوام کیوں اٹھائیں
شکریہ جنرل ر قمر جاوید باجوہ
شکریہ جنرل ر ندیم انجم اور شکریہ آپ دونوں کے تمام ہمنواوں کا۔۔۔
آپ نے یہ تجربہ کار جوتے کھانے والی قوم مسلط کئے
غلامی ذندہ باد
آزادی مردہ باد
عمران حکومت۔۔
8 مارچ 2022۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تھی 120 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 149.86 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 144.15 روپے فی لیٹر تھا۔۔شہبازحکومت۔۔
2 اپریل 2026۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ہے 108.28 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 458.49 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر ہے جبکہ ہمارے لئیے آبنائے حر مُز بھی کھلی ہوئی۔۔
بات پھر وہی جب “گوبر حکومتیں” آئیں گی تو “گوبر فیصلے”ہوں گے اور “گوبر ٹیکس” لگیں گے۔۔
”تقریباً تیرہ ارب رمضان پیکج دس لاکھ سے زائد لوگوں تک پہنچایا گیا، افغان مہاجرین کے 54 کیمپس میں سے 43 خیبرپختونخوا میں ہیں ان کے واپسی کا کرایہ رہنے اور کھانے کا خرچ بھی خیبرپختونخوا حکومت ادا کررہی ہے۔ صحت کارڈ میں 56 ارب روپے ادا کر چکے ہیں۔ پولیس کے رسک الاؤنس کے لیے 16 ارب روپے خرچ کیے“۔
مزمل اسلم
@MuzzammilAslam3