Quiet, but breaking the glass ceiling
Social Media Influe
Digital marketing ninja
Walk like rain
Tweets are purely my opinion
Not trying to be a social guru
Mai
بہادرآبادٹولےوالو!
-MQMکارکنان نےاپنی حلال کمائ سےفنڈزدیئےجس سےالطاف بھائی نےMQMکےنام پرپراپرٹیزخریدیں
مگرتم غداران قوم نےپارٹی/پراپرٹیز پر
ناجائزقبضہ/دعوےدائرکئے
اوبےغیرتو!
یہ بتاؤکہ ملکی دولت لوٹ کر
دبئی میں اپنےنام پرپراپرٹیزخریدنےوالوں کےخلاف،تم کب دبئی کی عدالت میں جارہےہو؟
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کا رابطہ کمیٹی کے رکن سید محفوظ حیدری کی بھابھی محترمہ گل نہار حیدری کے انتقال پر تمام اہل خانہ سے دلی اظہارتعزیت
مرحومہ گل نہار حیدری کافی عرصہ سے علیل تھیں، مرحومہ کی تدفین کل بروزاتوار ہوگی
یہ کراچی کا وہ علاقہ ھے جو ٹیکس نہیں دیتا
اور
افعانستان سے آکر یہاں پہاڑوں کو کاٹ کر گھر تعمیر کرلیۓ ہیں
انہی بجلی گیس پانی بھی ملتا ھے بغیر بل ادا کیۓ کنڈے لگا کر پانی کی مین پائپ لائن میں موٹر لگاکر کہینچتے ہیں
ھر سہولت موجود ھے تمام ادارے آنکہیں بند کرکے بیٹھے ہیں 💔
اسلام وعلیکم / آداب
محترم قائد تحریک
بھائی آپ پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جو اس ایشو پر کھل کر کشمیریوں کے لئے بات کرہیں ہیں اور انکے مطالبات کی حمایت ہمیشہ سے کرتے رہیں ہیں۔
ضمنی انتخابات میں PTI کو دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا، @PTIofficial کے چیئرمین بیرسٹرگوہر@BarristerGohar اور دیگر رہنماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ 8فروری کی طرح اس موقع کو ضائع نہ کریں اور ضمنی انتخابات میں دھاندلی اورناانصافی کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اوراس وقت تک احتجاج جاری رکھیں جب تک عمران خان @ImranKhanPTI ، ان کی زوجہ بشریٰ بی بی اورجیلوں میں قید PTI کی تمام خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کو رہا نہ کردیا جائے۔
ٹک ٹاک پر خطاب (21 اپریل 2024ء )
میں آج پنجا ب اسمبلی کے باہرحکو مت پاکستان کی گندم خریداری پالیسی کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والےکسانوں کی گرفتاریوں اوران پرتشدد کی شدید مذمت کرتاہوں۔ کسان حکومت سے کوئی بھیک یا خیرات نہیں بلکہ اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن انہیں ان کا حق دینے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرتشدد کیاجارہا ہے، انہیں گرفتارکیا جارہا ہے۔ پنجاب اورسندھ کے کسان لاکھوں ٹن گندم لئے حکومت سے فریادیں کررہے ہیں کہ ان کی گندم خریدی جائے لیکن حکومت کی جانب سے مسلسل انکارکیا جارہا ہے اور کسانوں کوجواب دیاجارہا ہے کہ سرکار کے پاس گندم کے بہت ذخائر موجود ہیں لہٰذا حکومت گندم نہیں خریدسکتی۔ جبکہ حقائق یہ سامنے آرہے ہیں کہ گزشتہ سال پنجاب میں 46لاکھ ٹن گندم موجودتھی اس کے باوجود حکمراں اشرافیہ نے گزشتہ سال22 اکتوبر 2023ء کویوکرین سے 34لاکھ ٹن گندم درآمد کرلی۔ اس حکمراں مافیا نے 3100 روپے کے حساب سے یوکرین سے گندم خرید کرپنجاب میں 4300 روپے کے حساب سے فروخت کی۔ اس طرح اس حکمراں مافیانے ایک اندازے کے مطابق 85 ارب روپے کامنافع کمایا۔ یہ حکمراں مافیا اپنی بے قاعدگیوں کے ذریعے قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹ رہی ہے جبکہ چھوٹے کسانوں سے ان کی گندم نہیں خریدی جارہی ہے، اس طرح کسانوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے ۔حکومت کی گندم خریداری پالیسی کی وجہ سے چھوٹے کسان سڑکوں پر گندم لئے اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں ۔یہ سراسرظلم ہے کہ آج اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے باہرپرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کوپولیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورانہیں گرفتارکیاگیا۔ میں اس ظلم کی شدید مذمت کرتاہوں اورحکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ کسانوں پر یہ ظلم بند کرے،گرفتارکئے گئے کسانوں کوفی الفور رہا کیا جائے، حکومت گندم خریداری پالیسی پر فی الفورنظرثانی کرے۔ خدارا اس بات کا احساس کیا جائے کہ کسانوں کی گندم کھلے آسمان تلے پڑی ہے اور بارشیں بھی شروع ہوچکی ہیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ کسانوں کی ہزاروں ٹن گندم بارشوں کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائے اور کسان مکمل طور پر تباہ ہوجائیں، کسانوں سے ان کی گندم مناسب نرخوں پر خریدی جائے اورکسانوں کی حق تلفی بند کی جائے
Today, I want to express my deep concern and outrage over the arrests and mistreatment of farmers who peacefully protested outside the Punjab Assembly against #Pakistan's wheat procurement policy.
These farmers are not seeking charity from the government, but rather their rights.
Instead of addressing their legitimate demands and ensuring their rights, they are being subjected to violent harassment and unjust arrests.
The farmers in Punjab and #Sindh are pleading with the government to purchase millions of tons of wheat from them.
However, the government has consistently refused, claiming to have sufficient wheat reserves.
This refusal to purchase wheat from the farmers is causing significant distress and hardship.
Interestingly, it has been revealed that there were 4.6 million tons of wheat in #Punjab alone last year.
Despite this surplus, the ruling elite imported 3.4 million tons of wheat from Ukraine on October 22, 2023.
The wheat was purchased at Rs.310,0 per ton and sold in Punjab at Rs 430,0 per ton. As a result, it is estimated that this ruling elite profited approximately Rs.85 billion.
This ruling elite's corrupt practices are not only draining the national treasury but also depriving small farmers of their livelihoods. While the ruling elite profits from irregularities, small farmers are left struggling to sell their wheat on the streets at reduced prices due to the government's flawed wheat procurement policy.
It is truly heart-wrenching that the farmers, who peacefully voiced their demands outside the Punjab Assembly, were subjected to torture and arrests by the police.
I strongly condemn this cruelty and urge the government to immediately stop mistreating the farmers.
The arrested farmers must be released without delay, and the government should urgently review its wheat procurement policy.
It is crucial to acknowledge that the farmers' wheat is currently exposed to the elements with the onset of rain. Before thousands of tons of wheat are destroyed, resulting in the complete devastation of these farmers, their produce must be purchased at fair prices.
It is essential to respect the farmers' rights and support them during these challenging times.
یکم مئی”یوم مزدور “
یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ سال میں ایک بارمزدوروں کاعالمی دن منانے سے محنت کشوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
میں زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی وخوشحالی کیلئے
محنت کشوں کی اہمیت کوتسلیم کرتا ہوں، میں نے ہمیشہ پاکستان میں محنت کشوں کےحقوق کیلئے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ عملی جدوجہد بھی کی ہے۔
میری ہمیشہ سے یہ دلی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ آجر اوراجیر کے درمیان خوشگواراورپُراعتماد تعلقات قائم ہوں تاکہ معیشت اور اقتصادیات کا پہیہ چلتا رہے،سرمایہ دار طبقہ معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرےاور مزدوروں کوبھی انکے جائز حقوق ملیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں محنت کشوں کی حالت بہتر بنانے کے بجائے ان کا روزگار چھینا جارہا ہے، حکمراں اشرافیہ کی مزدور دشمن پالیسیوں سے ہونے والی مہنگائی کے باعث غریب مزدوروں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے ۔دوسری طرف کسان سراپا احتجاج ہیں۔
وقت کاتقاضا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے لیبر قوانین پر سختی سےعملدرآمد کرایا جائے اور محنت کشوں کے بنیادی مسائل کے حل عملی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔
آج مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر میں، ملک کے تمام محنت کشوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سیاسی اورنظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کریں اور اپنے جائز حقوق کیلئے متحد ہوکر جدوجہد کریں۔
#LaborDay2024
اگر سپریم کورٹ نے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سےججوں پر دباؤ ڈالنے کےسنگین معاملے پر جراتمندانہ فیصلہ کیا تو پاکستان بچ جائے گا
اس سے ملک میں آئین اورقانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ISI اوردیگرسرکاری ایجنسیوں کی جانب سے ججوں پر دباؤ ڈالنے اورانہیں بلیک میل کرنے کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی شکایات پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی کھلی سماعت کابھرپورخیرمقدم کرتاہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر سپریم کورٹ نے اس انتہائی سنگین معاملے پرکسی دباؤ میں آئے بغیر سماعت کی اورحق اورسچ کی بنیادپر جراتمندانہ فیصلہ کیا تو پاکستان بچ جائے گااورملک میں حقیقی معنوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی لیکن اگرسپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی فوج اور ISI کے دباؤمیں آگئے اور انہوں نے حق اورسچ کی بنیاد پر اس معاملے میں کوئی جراتمندانہ فیصلہ نہیں کیا توپاکستان میں آئین کی حکمرانی اور ملک کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
میں نے 46سال قبل جب مہاجروں کے حقوق کےلئے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) قائم کی، پھر1984ء میں ایم کیوایم قائم کی ،میں اس وقت سے بتارہاتھا کہ ISI اور فوج کی دیگرایجنسیاں فسادات کراتی ہیں، سازش کرکے عوام کوآپس میں لڑاتی ہیں، سیاسی جماعتوں کوتوڑتی ہیں، ان میں گروپ بناتی ہیں تویہ حقائق بیان کرنے پر مجھے فوج کامخالف کہاگیا، مجھےملک دشمن، انڈین ایجنٹ کہا گیا،پنجاب اور سرحد کے عوام کومیرے خلاف بھڑکایاگیا، میری MQM کے خلاف فوجی آپریشن کیاگیا، لیکن آج 46 سال بعدملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جج صاحبان خود کہہ رہے ہیں کہ ISI اور فوج کی ایجنسیاں اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کیلئے ججوں پر دباؤ ڈالتی ہیں، عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں، ججوں کو قتل کی دھمکیاں دیتی ہیں،ان کے رشتہ داروں کو اغواکرتی ہیں ، ان پر تشدد کرتی ہیں، ان کے گھروں پر حملے کرتی ہیں، انہیں بلیک میل کرنے کے لئے ان کے گھروں اور بیڈ رومز میں خفیہ کیمرے لگاتی ہیں،انہیں دھمکیاں دیتی ہیں،ان کے فون ٹیپ کرتی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ، لاہورہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ، بلوچستان ہائیکورٹ اورسندھ ہائیکورٹ ،سپریم کورٹ کوبھیجی گئی اپنی درخواستوں میں ججوں پر من پسند فیصلے کرانے کیلئے دباؤ کی تفصیلات بیان کررہی ہیں اورفریادیں کررہی ہیں۔
میں اس معاملے میں سپریم کورٹ اورہائیکورٹس کےججوں کے ساتھ ہوں ، ملک بھرکے عوام بھی ان کا ساتھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سپریم کورٹ کے ججوں کواتنی ہمت دے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی شکایت پر آئین وقانون کے تحت جراتمندانہ فیصلہ کریں اور اپنے فیصلے کے ذریعے عدلیہ کی آزادی وخودمختاری کے آگے ایسی مضبوط دیوار کھڑی کردیں کہ آئندہ فوج، ISI یا کوئی خفیہ ایجنسی یاکوئی بھی حکومتی ادارہ عدلیہ پرکسی قسم کا دباؤ نہ ڈال سکے، فوج اپنے آئینی دائرہ کار میں رہے، فوج کاکام سیمنٹ، ریتی، بجری ، مشروبات، سیرئیل اورگوشت بیچنا ، پیٹرول پمپس اور شادی ہالزچلانا، زراعت، رئیل اسٹیٹ ، ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیمیں اورطرح طرح کے کاروبارکرنا نہیں، فوج کاروبار کرنے کے بجائے سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے، فوج اپناکام کرے اور جو سویلئنزکے کام ہیں وہ سویلئنزکو کرنے دیں۔
میری دعاہے کہ پاکستان میں فوج کی سیاست میں مداخلت کاسلسلہ بند ہو،ملک میں آئین کی بالادستی اورقانون کی حکمرانی ہو، جمہوریت کاراج ہو، عدلیہ آزاد ہو، ملک آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے قرضوں اور غیرملکی خیرات وامداد سے آزاد ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
آج سپریم کورٹ میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کے دباؤ کے معاملے پر ہونے والی سماعت اور اس دوران بیان کئے جانے والے حقائق دراصل میرے دیرینہ مؤقف کی سچائی کاکھلا ثبوت ہیں، یہ جہاں میری محنت اورجدوجہد ہے وہاں اس جدوجہد میں جانیں دینے والے میرے شہیدوں، اسیروں اور لاپتہ ساتھیوں کی قربانیاں شامل ہیں، یہ میرے ان وفاپرست ساتھیوں، ماؤں، بہنوں ، بزرگوں اور نوجوانوں کی کامیابی ہے جو تمام تر ریاستی مظالم اور مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہے اور انہوں نے الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑا۔
میں مطالبہ کرتاہوں کہ عمران خان ،ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اورتمام گرفتار شدگان کو رہاکیا جائے اورعمران خان پر پابندی ختم کی جائے