@RebelByThought پاکستان کی بدقسمتی کہ پاکستان کو نوازے گئے تمام وسائل اور نعمتوں کی اخیر بےقدری کی گئی اور پھر لوٹ مار اور نااہلی الگ
پاکستان کی اسٹریٹجک لوکیشن،قدرتی وسائل اور نوجوان نسل اِن تمام سےحقیقی دیرپا ترقی خوشحالی کے لیئے فائدہ اٹھانےکی بجائے اِن کو تباہ کیا جارہا
@iRaiSaqib یہ تو ریاست پاکستان میں بیٹھنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ وہ ایسا کون سا کارنامہ کرتے ہیں کہ بلوچی بھی اُن سے بدگمان ، پختون بھی ،کشمیری بھی اور اب تو تقریبا پورا پاکستان
ایسی نوبت آخر آنےکیوں دی جاتی ہے
ہر مسئلے کا حل گولی ڈنڈا اغواء تشدد موت نہیں ہوتی
@khurram143 بابوں کو اس ملک پر سیاست و اقتدار کرتے سالوں گزر چکے
اب عمر کا آخری حصہ آچکا لیکن اِن کےمطابق پاکستان کو عظیم ملک بنانے کے لیئے اِنہیں اور وقت چاہیئے
اب تو قبر میں جا کر ہی لینا وہ وقت ۔۔۔
پاکستان بدلےگا لیکن اِن بابوں کے ہوتے ہوئے ہرگز نہیں
عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، جب ہم اپوزیشن میں تھے تو یہ ہم سے بات نہیں کرتے تھے کہ کہیں عمران خان ناراض نہ ہو جائیں، پیپلزپارٹی کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھی ہم رات کو کھانا اکٹھے کھاتے تھے، خواجہ آصف
@PTIofficial عمران خان صاحب کی بہنوں نے اور کچھ کارکنان عہدے داران نے مزاحمت زندہ رکھی ہوئی ہے
اللہ پاک جلد خان صاحب سمیت تمام قیدیوں کو باعزت رہائی دے
آمین
@RebelByThought میں یہی سوچتی ہوں کہ ہم پر مسلط ناجائز حکمران جنہوں ظلم زیادتی بےایمانی جھوٹ منافقت معاشی بربادی اور امن کی تباہی کی وہ معتبر کیسے ہوسکتےہیں !
ان کےہاتھوں کوئی اچھا کام قدرت کیسے لےسکتی ہے !
وہ عزت کے مستحق کیسے ہوسکتےہیں !
@RajaFaisalPK طالبان کےساتھ ساتھ انکے پڑوسیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ حقیقی معنوں میں معاشی مواقعے تلاش کرکہ ان کو باقاعدہ زیر استعمال لانا ہے
یا پھر وہی دہشتگردی تیری جنگ میری جنگ کو معیشت بنانا ہے
@rizwanghilzai جب پی آئی اے سرکاری اثاثہ تھی تو اس کی بہتری کے لیئے کچھ نہیں کیاگیا
برباد کرکہ اونے پونے داموں بیچ دیاگیا
اور اب سرکاری لیوریج دےکر اسے بہتر بنایا جارہا
کس کو فائدہ پہنچانے کے لیئے
جس انتظامی انداز میں پاکستان کو لوٹا کھسوٹا جارہا اس کی شاید کہیں مثال ملے
تمام ننھی بچیوں کی ماؤں کے نام درد بھری گزارش!
خدا کے لیے جاگ جائیں!
یہ وہ زمانہ نہیں رہا جہاں ہر گلی محفوظ اور ہر چہرہ قابل اعتبار ہے۔ درندے اب جنگلوں نہیں،انسانوں کے روپ میں گلیوں میں گھوم رہے ہیں۔
اپنی ننھی بچیوں کو اکیلے دکان پر چیز لینے کے لیے مت بھیجیں، گلیوں اور محلوں میں بنا نگرانی کھیلنے کے لیے مت جانے دیں۔
شوہر کو دکان پر بھیجیں یا خود جائیں۔آپ کی عمر 35 یا 40 سال ہے، اگر آپ خود دکان تک چلی جائیں گی تو کوئی قیامت نہیں آ جائےگی لیکن اگر آپکی معصوم بچی کسی درندہ صفت انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو آپ کی پوری زندگی قیامت بن جائے گی۔!
اپنے بچی کی اسکول انتظامیہ کو خبردار کریں کہ جب تک ہم والدین یا ہمارا نامزد کردہ بندہ نہ آئے، ہماری بچی کو اسکول سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ بچی صرف اسی شخص کے حوالے کی جائے جس کا اندراج پہلے سے آپ نے کروا رکھا ہو۔!
روزانہ اپنےبچی سے بات کریں۔ اس سے پوچھیں کہ آج کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ کون ملا؟ گارڈ نے کیا بات کی؟ ڈرائیور کیا کہہ رہا تھا؟ نچیوں کو اس بات کا عادی بنائیں کہ وہ دن بھر کی کہانی فر فر آپ کو بتائیں۔ کیونکہ خاموش بچے اکثر شکار بن جاتےہیں۔!
اگر آپ بچوں کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس استعمال کرتی ہیں تو ڈرائیور کی مکمل چھان بین کریں۔ اس کا شناختی ریکارڈ، فون نمبر، گاڑی نمبر اور دیگر تفصیلات اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ اسے خبردار کریں کہ اس کی تمام معلومات متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں کیونکہ جب ایک شخص کو کان ہوں کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے تو اس کا دماغ درست رہتا ہے۔
یاد رکھیں! دنیا کا کوئی حفاظتی نظام سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن احتیاط غفلت سے ہزار گنا بہتر ہے۔
اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر مت چھوڑیں۔اپنی مصروفیات، سستی یا بے فکری کو اپنی بچیوں کی سلامتی پر ترجیح مت دیں۔ آج محتاط رہیں تاکہ کل پچھتاوے کی آگ میں نہ جلنا پڑے۔
اپنے بچوں کی حفاظت کریں، کیونکہ ان کی دنیا آپ ہیں، اور آپ کی دنیا وہ ہیں۔