فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
🇵🇰 Fmr. Pakistani PM Imran Khan’s medical check was apparently limited to an eye exam and blood pressure, nothing more.
Dr. Uzma Khan (his sister) says that no blood tests or further diagnostics were carried out.
Khan has been imprisoned at Adiala Jail in Rawalpindi since Aug. 2023, facing over 100 legal cases and convictions related to alleged corruption.
Khan and his party, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), maintain that all the prosecutions are politically engineered by the government to prevent him from participating freely in elections or holding power again.
Is Pakistan criminalizing political dissent?
Source: Dr. Uzma Khan / Writer: Samuel
عمران خان کے ورکرز ، جانثاران اور سب چاہنے والوں نے عظیم نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور شفا ہسپتال کے تمام راست رات بھر کھلے تھے اور کسی جگہ پر بھی کسی قسم کا اجتماع نہیں کیا گیا، حکومت کی جانب سے اب توہین عدالت کی کاروائی کو کور کرنے کے کیے اب جھوٹا پروپیگینڈا سامنے آئے گا کہ ورکرز نے رش بنا کر راستہ روک رکھا تھا بلکل غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔
عمران خان کو جیل سے اسپتال لایا گیا چیک اپ کے بعد واپس جیل بھیج دیا گیا اسکا مطلب یہ کہ وہ صاحبان جن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوئی ڈیل کر لی ہے وہ غلط ثابت ہو گئے حکومت نے توہین عدالت سے بچنے کے لئے ایک کڑوا گھونٹ پیا لیکن حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی
یا اللہ! عمران خان کی حفاظت فرما، انہیں ہر شر، ہر مشکل اور ہر سازش سے محفوظ رکھ، ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما اور جلد رہائی عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
الحمدللہ
آج رات پاکستان خوشی سے جھوم اٹھا ہے۔
عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
تین سال سے ہم نے دیکھا کہ انہوں نے وہ تنہائی برداشت کی جو بڑے بڑوں کو توڑ دیتی۔ اخباروں سے دور، کتابوں سے دور، اپنے خاندان سے دور، اس ملک سے دور جسے انہوں نے سب کچھ دیا۔ آج بالآخر امن کا دروازہ کھلا ہے۔
دعائیں۔ بے شمار دعائیں۔ ان کے عظم کے لیے، ان کی طاقت کے لیے، ان کی مکمل اور بھرپور صحت یابی کے لیے۔
جو لوگ انہیں جانتے ہیں، جیسا کہ میں 35 سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہوں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ: وہ انتقام پسند نہیں۔ وہ اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتے، یہاں تک کہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے لیے بھی نہیں۔ یہی ہمیشہ ان کی طاقت رہی ہے، اور اگر ہم اسے اپنائیں تو یہ پاکستان کی طاقت بھی بن سکتی ہے۔ اس ملک کو مزید غصے کی ضرورت نہیں۔ اسے امن چاہیے۔ اسے شفا چاہیے۔ اور مجھے یقین ہے، مجھے یقین رکھنا ہے، کہ یہ اسی بارش کا پہلا قطرہ ہے، اللہ کی رحمت کا پہلا قطرہ۔
اس شخص نے کیسی ہمت دکھائی ہے۔ تین سال۔ تنہائی، بیماری، غیر یقینی، اپنے لوگوں کا غم، اور پھر بھی وہ نہیں جھکے۔ طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی کی پیروی کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے اصولوں کو آرام کے عوض نہیں بیچا۔ وہ سرنگوں نہیں ہوئے۔ تاریخ اس باب کو یاد رکھے گی، اور اسے اس بات کی گواہی دے گی کہ ایک انسان کا یقین کیا کچھ برداشت کر سکتا ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
آج رات میں بہت خوش ہوں۔ سچی بات ہے۔ الفاظ چھوٹے پڑ رہے ہیں اس لمحے کے سامنے۔ ان کے خاندان کے لیے، ان کے کارکنوں کے لیے، ان کروڑوں لوگوں کے لیے جنہوں نے ان تین سالوں کے ہر دن انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا۔
صحت یاب ہو جائیں، عمران خان تاکہ آپ ایک کپتان کی طرح ہمیں ابتری اور انتشار کے طوفانی سمندروں میں راستہ دکھائیں۔
یہ لمحہ حقیقی انصاف کے آغاز کی گھڑی ثابت ہوگا۔ انشاللہ
عمران خان صاحب کی ایک جھلک سے زیادہ ضروری ان کی صحت ہے۔۔ آئیے اپنے قائد سے محبت کا ثبوت یہ دیں کہ ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ بنیں۔
شیخ وقاص اکرم
@SheikhWaqqas
جو ساتھی الشفاء ہسپتال گیا، وہ عمران خان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہوگا۔ بے شک اس کی ویورشپ بڑھ جائے گی، لیکن پی ٹی آئی اور عمران خان سے محبت کرنے والوں کی نظر میں اس کی قدر و عزت ختم ہو جائے گی۔جو واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔
”میرے پاکستانیو اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانو. آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے- “- @SohailAfridiISF
میرے پاکستانیو اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانو
آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے-
پاکستانیو۔۔ ابھی ہم نے مزید محنت کرنی ہے۔ آرام کا وقت نہیں ہے۔ یہ آپ کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔ آگے کا مرحلہ سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم نے عمران خان، بشرٰی بی بی ، تمام لیڈران اور تمام ورکرز کو انصاف دلانا ہے اور ناحق قید سے آزاد کروانا ہے- بس آپ نے گھبرانا نہیں اور اپنے اللّٰہ پر ایمان کامل رکھنا ہے۔ انشاء اللّٰہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کی تحریک ابھی آگے لے کر چلنی ہے۔ حقیقی آزادی کی پہلی سیڑھی آزاد عدلیہ ہے۔ آزاد عدلیہ ہی صحیح معنوں میں انصاف کر سکتی ہے۔ عدلیہ کے انصاف سے ہی ہم نے اپنے لیڈر کو واپس لانا ہے۔ آزاد عدلیہ کی بنیاد آپ نے رکھنی ہے۔ آپ نے ہی حق پرست ججز کے بازو بننے ہیں۔ آپ کے تعاون سے ہی ان کو طاقت ملنی ہے۔
آپ لوگوں نے ایک آزاد، خوشحال، ترقی یافتہ اور خودمختار پاکستان کے لئے عمران خان صاحب کا انتخاب کیا ہے۔ مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر آج بھی عمران خان صاحب اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں تو ان کی طاقت آپ ہیں۔ ان کی اُمید آپ ہیں۔ آج تک اگر وہ ہار نہیں مان رہے تو اُس کی ایک وجہ آپ ہیں کیونکہ آپ بھی عشق عمران سے باز نہیں آرہے۔ میں آپ لوگوں کی اس خلوص، اس عشق اور جہد مسلسل کو سلام پیش کرتا ہوں۔