Kashmiri refugees have paid the price for coming to Pakistani soil. Our rivers have turned red with their blood, and you are saying their right to vote should be taken away? The stake of 250 million Pakistanis lies in Kashmir. The grandmother of Hamid Mir was also left there, every household has a story. Are those people not Kashmiris? Those who live in Azad Kashmir have no real stake in this, said Defense Minister Khawaja Asif
#Kashmir#sstvi#altın
🚨 پرامن احتجاج کا دعویٰ کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا سفاک چہرہ اور خطرناک عزائم بے نقاب
ویڈیو میں نقاب پوش مظاہرین کو انتہائی مہلک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی فوجی اسنائپر رائفل جیسے جدید ترین اسلحے سے لیس دیکھا جا سکتا ہے۔
عام لوگوں کی رسائی سے باہر ایسے خطرناک ہتھیاروں کی بلواٸیوں کے پاس موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ کوئی عوامی یا پرامن تحریک نہیں بلکہ ملک میں ٹارگٹ کلنگ خون خرابے اور افراتفری پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا ایک منظم مسلح نیٹ ورک ہے جو حقوق کی آڑ میں ریاست اور امن کے خلاف ایک گہری سازش میں مصروف ہے۔
The real victims of the protests taking place in Kashmir are the people of Kashmir themselves.
Just as the terrorism sponsored by the TTP primarily victimized the Pashtuns, and just as the terrorism carried out by Fitna al-Hindustan (BLA) primarily affected the Baloch people, the victims of this India-sponsored subnationalism in Kashmir are, likewise, the people of Kashmir and the Kashmiris themselves.
آزاد کشمیر میں کس نے قتل کئیے؟؟
سردار امان کے قریبی ساتھی سردار خیام کشمیری اور عمر نذیر کشمیری کے قریبی ساتھی کی کال لیک میں خوفناک انکشافات
شوٹر بھیجو اور اپنے تین بندے مارو، لاشیں گریں گی تو ماحول گرم ہوگا! لوگ ٹھنڈے ہو گئے ہیں اور واپس جا رہے ہیں، جذبات گرماؤ
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی عوام کو پولیس کے خلاف نکالنے کی منصوبہ بندی
پی ٹی آئی اورسیز، کشمیر میں انتشار پھیلانے میں پیش پیش | پی ٹی آئی برمنگھم کے ذمہ دار انعام الحق ایکشن کمیٹی کے ممبر بن کر کشمیر میں تھانوں، عدالت اور سرکاری عمارتوں پر قبضے کرنے اور اراکین اسمبلی کے گھروں پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کینسر کے خلاف پاکستان کی اصل فرنٹ لائن
پاکستان اٹامک انرجی PAEC کے ہسپتال
پاکستان میں پچھلے 5 سال کے دوران تشخیص ہونے والے اور زندہ موجود کینسر مریضوں (5-year prevalence) کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 33 ہزار ہے
جبکہ ہر سال تقریباً 1.86 لاکھ نئے کینسر مریض رپورٹ ہو رہے ہیں
پاکستان میں لاہور کراچی میں شوکت خانم یا آغا خان جیسے چند بڑے کینسر ہسپتال تو موجود ہیں، لیکن وہاں مریض کی مالی حیثیت اور مستحقین کے لیے مخصوص سلیکشن کرائیٹیریا (Slicing/Selection Criteria) ،غریبوں کے علاج میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ سب سے اہم فیکٹر یہ ہے کہ یہ نجی اور فلاحی ادارے سالانہ صرف چند ہزار مریضوں کو ہی سنبھال سکتے ہیں؛ ان کے پاس ملک کے لاکھوں پرانے اور ہر سال سامنے آنے والے پونے دو لاکھ نئے کینسر مریضوں کے علاج کی گنجائش یا استعداد (Capacity) موجود ہی نہیں ہے
ایسے حالات میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے کینسر ہسپتال لاکھوں خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے 2026 کے مطابق ملک کے تقریباً 80 فیصد کینسر مریضوں کا علاج PAEC کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے، جبکہ ملک بھر کے دیگر تمام ہسپتال مجموعی طور پر صرف 20 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔80 فیصد ایک ایسا عدد ہے جو اکیلے ہی اس نظام کی اہمیت بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
کینسر کیئر میں 'پراکسیمیٹی ٹو ٹریٹمنٹ' (علاج تک قریبی رسائی) مریض کی بقا کی شرح (Survival Rate) پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ کینسر کا علاج طویل اور کثیر المراحل (Multi-staged) ہوتا ہے، جس کے لیے مریض کو بار بار ہسپتال جانا پڑتا ہے۔
ایک غریب مریض جو گلگت، بنوں، ڈیرہ غازی خان، سکھر، کوئٹہ یا بہاولپور میں رہتا ہے تو اس کے لیے لاہور کراچی پشاور جانا آسان نہیں، کینسر کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ "سفر اور رہائش کے اخراجات" ہیں۔ ایک غریب مریض کے لیے کینسر کے علاج کی لاگت سے زیادہ، بار بار بڑے شہروں کا سفر کرنا اور وہاں مہینوں قیام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
پاکستان اٹامک انرجی نے PAEC ملک بھر کے 21 شہروں میں خصوصی کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک بنایا جو، نوابشاہ، لاڑکانہ، کوئٹہ، ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، بنوں، جامشورو، لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور،گلگت،مظفرآباد،ایبٹ آباد، سوات اور دیگر شہروں تک پھیلا ہوا اور دیہی علاقوں اور قصبات کے لیے قابل رسائی ہے
کینسر صرف ایک بیماری نہیں، بلکہ اکثر خاندانوں کے لیے معاشی تباہی کا نام بھی ہے کینسر کے صرف چند سائیکل کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، PET-CT سکین، بون میرو ٹیسٹ اور جدید ادویات طویل مدتی نگہداشت کا بوجھ لاکھوں غریب اور متوسط گھرانوں کی استطاعت سے باہر ہے
پاکستان اٹامک انرجی کےINMOL سمیت تمام ہسپتال اپنی اوپن ڈور پالیسی کے واضح اصول پر کاربند ہیں کہ علاج مریض کی ادائیگی کی صلاحیت سے قطع نظر فراہم کیا جائے
ایسے غریب اور نادار مریضوں کو، جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے،لاکھوں روپے کی تشخیصی اور علاج کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ مستحق مریضوں کے لیے فلاحی معاونت، ادویات اور دیگر سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔
ان ہسپتالوں میں مستحق مریضوں پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
پاکستان اٹامک انرجی کے ہسپتال کینسر کے تقریباً 10 لاکھ مریضوں کو تشخیصی و علاجی مراحل فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ ہر سال PAEC کے ہسپتال ستر ہزار سے زائد نئے کینسر مریضوں کا علاج شروع کرتے ہیں یہ حجم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں غیر معمولی ہے
عام طور پر سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی پرانی ہوتی ہے۔ لیکن PAEC کے کینسر ہسپتال اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ چونکہ یہ ادارہ بنیادی طور پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور سائنسی ریسرچ سے جڑا ہے، اس لیے یہاں کی مشینری عالمی معیار کی ہے ان مراکز میں PET-CT اسکین، لینیئر ایکسیلیریٹرز (Linear Accelerators)، سائبر نائف (CyberKnife)، براکی تھراپی (Brachytherapy)، اور جدید ترین ایم آر آئی مشینیں موجود ہیں۔ پاکستان میں نیوکلیئر میڈیسن (Nuclear Medicine) اور ریڈیوتھراپی کی بنیاد ہی PAEC نے رکھی ہے، اور آج بھی ملک کے بہترین کینسر اسپیشلسٹ اور میڈیکل فزکس کے ماہرین اسی ادارے کے تربیت یافتہ ہیں
پاکستان اٹامک انرجی کے ہسپتال کینسر کی جنگ کی خاموش مگر سب سے بڑی فوج ہیں۔
اگر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کےہسپتال اپنی اوپن ڈور پالیسی (جہاں ہر آنے والے مریض کو بغیر کسی فلٹریاسلیکشن کےداخل کیا جاتا ہے) کے ساتھ موجود نہ ہوں، تو پاکستان میں کینسر کا پورا علاج مفلوج ہو کر رہ جائے
یہ وہ ہیں جو شہرت سے زیادہ خدمت، اور تشہیر سے زیادہ جانیں بچانے پر توجہ دیتے ہیں۔ لاکھوں غریب پاکستانیوں کے لیے یہ ہسپتال آخری امید ہیں۔حجاب رندھاوا
پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت میں خیبرپختونخوا میں ہر فنڈ ریلیز پر کمیشن لیا گیا، جس کا انکشاف خود ان کے رکن ادریس خٹک نے کیا۔ یہ کرپشن کا بدترین ماڈل ہے..
#CDFForGlobalPeace#helevier#WilliamEst
"کالعدم ایکشن کمیٹی کا حصہ نہ بنیں"
میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سعد انصاری کے بھائیوں کا اہم ویڈیو پیغام،، اور احسن انصاری نے عوام سے خون ریزی اور تصادم سے دور رہنے کی اپیل کر دی
#CDFForGlobalPeace#helevier#WilliamEst
کراچی میں بسنے والے کشمیریوں نے انتشار ہڑتال اور پاکستان مخالف نعروں سے لاتعلقی کرتے ہوئے مسترد کردیا.
کشمیری بزرگ کا کہنا یے کہ 78 سال سے اس ملک کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں لیکن قافلہ چل رہا ہے.
#CDFForGlobalPeace#helevier#WilliamEst
پی ٹی آئی ہر قومی معاملے پر پاکستان کے بجائے بھارت، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج جیسے دشمنوں کے بیانیے کی وکالت کر کے ایک مستقل پاکستان مخالف میڈیا ونگ کا روپ دھار چکی ہے۔
#CDFForGlobalPeace#helevier#WilliamEst