یار یہ شعیب اختر کی ماں جی کو منا لیں کسی طرح۔۔۔
سیاست میں زرداری صاحب اور بلاول مجھے اچھے لگتے ہیں اگر میں پنڈی سے الیکشن لڑوں مجال ہے کسی کی،
لینڈ سلائیڈ وکٹری ہوگی
@BBhuttoZardari@NadeemAfzalChan#لائلپورکاجیوےبھٹو
ندیم رانا صاحب آپ کی یہ ٹویٹ NCCCIAکے دائرہ اختیار میں آتی ہے قاضی فائز عیسی کا مکمل انٹرویو کا لنک ساتھ پوسٹ کر رہا ہوں یہ انٹرویو تین سال سے زائد عرصہ پہلے دیا گیا تھا جھوٹ بولنا اور جھوٹ کو پھیلانا شاید آپ جیسے لوگوں کا شیوا بن چکا ہے اس پوری وڈیو کو سن کر بتائیں جو آپ نے لکھا ہے اور جو اے آئی کے زریعے آواز کی ٹیمپرنگ کی گئی ہے کتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے اپنی آئی ڈی میں لکھ رہے ہو کہ تم حقیقی ہو لیکن اتا پتا کوئی نہیں جھوٹوں کی جماعت کاجعلی اکاؤنٹ لگتے ہو https://t.co/VukAqf6Q9r
جیو نیوز پر چلنے والے خاکوں کا معاملہ پابندی سے دو چند ہوا ہے۔ بہر حال اُمید کی جا سکتی ہے اس سے تنازعہ مزید نہ بڑھے۔جیو ایک بڑا اور ذمہ دار ادارہ ہے اُسے خود احتسابی کا موقع ملنا چلئے۔ جیو اس غلطی پر معافی بھی نشر کر چکا ہے ۔ بہر حال چینل کو سُنے بغیر بند کرنا قطعی طور پر مناسب عمل نہیں اور نہ ہی اچھی روایت۔ #Geo
Ashura is a time of remembrance, sacrifice and reflection.
Today, on the 10th day of Muharram, we are reminded of Imam Hussain's unwavering commitment to truth and dignity. His timeless legacy reminds us of the enduring values of faith, service to one another, and the belief that justice is always worth fighting for.
Our City’s strength comes from the many faith traditions that shape it — and our shared struggle against injustice and oppression.
May we carry these values forward as we continue building a more just City for every New Yorker.
اگر ملک کسی معاشی یا سیاسی مشکل کا شکار ہو تو کیا ل سفارتی یا دوسرے معاملات روک دیئے جائیں؟
در اصل محمد حنیف اور وسعت اللہ خان کی تحریریں جذباتیت مایوسی اور دوسروں پر طنز کی "طاقت"ہی سے چلتی ہیں اور یہی ان کا "سرمایہ" ہیں
البتہ زمینی حقائق ایک الگ چیز ہے
@NkWarraich غزنوی ، ابدالی ، سوری یا مغل سب باہر سے آئے ہوئے حملہ آوور اور لُٹیرے تھے ، پنجاب کا اصل حکمران رنجیت سنگھ تھا جو دھرتی کا بیٹا تھا اور جس نے افغانوں کو شکات فاش دی ، جب تک وہ زندہ رہا انگریزوں کی پنجاب میں گھسنے کی ہمت نہیں ہوئی اس لیے پنجاب کا ہیرو رنجیت سنگھ ہے ✌️
پولیس کی موجودگی میں یتیم بچے پر تشدد کرنے والا یہ بدمعاش کون ہے ؟
کیا اس بدمعاش کو گرفتار کرکے ان کا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا جائے گا ؟
کیا اس پولیس اہلکار سمیت پولیس کی گاڑی میں آنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو سبق سکھانے کیلئے گھر بھیج دیا جائے گا تاکہ دیگر کیلئے عبرت کا نشان بن جائیں یا
پھر اس شہر ناپرسان میں حکومت تماشہ دیکھتے رہی گی
@Matiullahjan919@mustafa_nawazk ہمیں نہ تو قاتلوں سے نفرت ہے اور نہ ہی مظلوموں سے ہمدردی، ہماری ہمدردی اور نفرت صرف اور صرف سیاسی ہے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ریاست مدینہ میں اسی طرح سانحہ ساہیوال ہوا تھا، اس وقت قاتلوں کو سزا ملی ہوتی تو شاید آج یہ سانحہ پیش نہ آتا
@mustafa_nawazk ہمیں نہ تو قاتلوں سے نفرت ہے اور نہ ہی مظلوموں سے ہمدردی ہماری ہمدردی اور نفرت صرف اور صرف سیاسی ہے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ریاست مدینہ میں اسی طرح سانحہ ساہیوال ہوا تھا، اس وقت قاتلوں کو سزا ملی ہوتی تو شاید آج یہ سانحہ پیش نہ آتا
پاکستان میں جو کشمیر کے صحافی اینکر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی منافقت نہ کریں وہ بھی کہیں کہ ہم ایک ازاد اور خود مختیار ملک بنا کر کشمیر میں بسنا چاہتے ہیں ہم پاکستان میں کوٹا سسٹم سے نا نوکریاں ہیں گے نا ہمارے بچے یہاں کوٹا سسٹم میں تعلیم حاصل کریں گئے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا ایک مسلمان ملک خود مختیار بن جائے لیکن اس کے بعد کیا ہوگا وہ بھی عوام کو بتائیں نا اپ کے پاس فوج ہے اسلحہ ہے بھارت سے لڑ پاؤ گے یا صرف ہمارے بھائیوں کی بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے رہو گے ابصار عالم
ایک بچی کا بہیمانہ اندھا قتل & یو ٹیومروں کی موجیں ۔نہ یہ صحافی نہ صحافی اقدار، ٹریننگ یا اکاؤنٹیبلٹی سو کچھ بھی بولتے رہو۔ پکڑے گئے تو معافی مانگ لیں گے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
ایک ٹویٹ پر ایمان-ہادی کو ۱۷ سال سزا & یہ آزاد کردار کُشی کو۔یہ ہی پیٹرن نور مقدم کی دفعہ دیکھا گیا
میں نے سیکیورٹی اور تحفظ کا مطالبہ کیا تو میرا ذاتی ڈیٹا اور نمبر پبلک کر دیا گیا: ۔ ڈاکٹر شازیہ خپلواک
تیزاب گردی کے واقعے میں کون ملوث ہے، یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔
یا اللہ رحم: حوا کی ایک اور بیٹی سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو گئی ، کل مورخہ 9 جون 2026 کو علاقہ ہیئر میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ شام 6 بجے کے قریب محمد یاسر ولد ناصر علی نے پولیس کو اطلاع کی کہ اسکی بہن ثوبیہ ناصر جسکی شادی 4 سال قبل ہوئی اور اسکے 2 بچے تھے ۔۔ اسکے سسرال والوں نے فون کرکے یاسر اور اسکے گھر والوں کو اطلاع دی کہ آپ کی بہن نے پنکھے سے لٹک کر خو.د .کشی کر لی ہے اور وفات پا گئی ہے ۔ سب گھر والے دوڑے اپنی بہن کے سسرال پہنچے تو دیکھا انکی بہن مردہ حالت میں پڑی تھی ساتھ گئی خواتین نے بغور دیکھا تو ثوبیہ کے جسم پر تشد.د کے کئی نشانات تھے اسکے ہاتھوں اور بازوؤں پر چوٹوں کے نشان تھے جسم پر ناخنوں سے نو.چنے کے نشانات اور پیروں پر ایسے نشانات تھے جیسے کرنٹ زدہ کے ہوتے ہیں ۔۔۔محمد یاسر کے مطابق ہماری بہن کو شروع میں اسکے شوہر معین نے ٹھیک رکھا لیکن کچھ عرصہ سے بہن کے سسرالی اس پر دباؤ ڈالتے تھے کہ جاکر ماں باپ اور بھائیوں سے پیسے لاؤ۔مدعی محمد یاسر کے بقول ۔۔میں نے خود کچھ روز قبل 2 لاکھ روپے انکے گھر جاکر معین کے حوالے کیے ۔ اب انہوں نے پھر ثوبیہ سے مطالبہ کیا کہ ہم سے رقم مانگے اسکے انکار پر سب گھر والوں نے ملکر ہماری بہن کو موت کے گھاٹ اتارا اس پر تشد۔د کیا گیا اور کرنٹ بھی لگایا گیا اور پھر اس واقعہ کو خو۔د۔ کشی کا رنگ دینے کے لیے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا ۔
جوں ہی محمد یاسر نے 15 پر کال کی ثوبیہ ناصر کا شوہر وہاں سے بھاگ گیا ، پولیس موقع پر پہنچی تو سب سسرالی رشتہ داروں نے شور مچا دیا کہ ثوبیہ نے خو۔د ۔کشی کی ہے ۔ والدین اور بھائیوں کی بار بار درخواست کے باوجود رات گئے تک سسرالی رشتہ دار پوسٹ مارٹم پر آمادہ نہ تھے ۔۔۔۔ ثوبیہ ناصر کے والدین اور بہن بھائیوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام پولیس سے ثوبیہ ناصر کی موت کی میرٹ پر تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے