محسن نقوی صاحب کہتے ہیں کہ اگر کے پی حکومت دھرنے کی بجائے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے پر فوکس کرے تو دہشتگردی ختم ہو جائے ،
پہلی بات تو یہ ہے کہ کے پی میں دہشتگردی کے خاتمے کی صوبائی نہیں وفاقی پالیسی چل رہی ہے،
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ لاجک مان بھی لی جائے تو بلوچستان حکومت تو کوئی دھرنے نہیں کررہی، وہاں دہشتگردی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ کیوں رہی ہے؟
تیسری بات، جب آپ دعویٰ کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت کا پورا فوکس دہشتگردی کے خاتمے پر ہے تو چار سال سے مسلسل دہشتگردی بڑھ کیوں رہی ہے؟
اب تو ایک مدت سے افغانستان کا بارڈر بھی بند ہے
پچھلے ایک سال میں بتا دیں کہ شہبازشریف نے دہشتگردی کے حوالے سے کتنے اجلاس کیے ہیں؟
لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کو پنجاب پولیس کی جانب سے اغوا کی کوشش کے بعد لکشمی چوک پر ان کی سیکیورٹی کے بغیر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ فٹ پاتھ پر بغیر سیکیورٹی کے بیٹھ گئے، جہاں کچھ دیر بعد عوام اور ان کی سیکیورٹی ٹیم ان کے پاس پہنچی۔
یہ پانچ کروڑ عوام کے منتخب نمائندے کی توہین اور بے حرمتی ہے، انشااللہ ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا۔ پنجاب پولیس کی اغوا کی کوشش اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی اور کارکنان کے حوصلے بلند ہیں۔ ظلم، جبر اور فسطائیت کے باوجود عوامی مہم اور اسٹریٹ موومنٹ جاری رہے گی۔
خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ @SohailAfridiISF کے ساتھ پنجاب پولیس کا مبینہ ناروا سلوک ناقابلِ برداشت ہے.
لاہور میں ایک منتخب وزیراعلیٰ کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی گاڑی میں بٹھا کر ان کی سیکیورٹی اور سرکاری گاڑیوں سے الگ کرنا انتہائی سنگین، غیر قانونی اور شرمناک اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ کو دور جا کر بے یار و مددگار چھوڑنا ریاستی پروٹوکول اور جمہوری اقدار کی کھلی توہین ہے۔
پنجاب حکومت اس واقعے کی مکمل ذمہ دار ہے۔ ایک منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے یا زبردستی کہیں لے جانے کی کوشش کی گئی تو اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے پر فوری وضاحت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کو کری کری سنا دی!!!
تم پاکستان کو تقسیم کرنے کے ارادے سے آئے ہو؟ یہ لوگ یہاں پرامن کھڑے ایسا کیا کررہے کہ ان کو بھگا رہے ہو میں وزیراعلی ہوں مجھے کوئی اعتراض نہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے؟
وزیراعلی سہیل آفریدی کا پولیس افسران سے مکالمہ
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
میں افضل خان کوڈواڑی بول رہا ہے جہنم میں جاؤ۔ لیکن سچ بولونگا۔
جنرل ایوب ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا تحریک انصاف کے ساتھ ہوا
اسلام آباد کے 25 سے 30 بڑے بڑے اینکرز صحافیوں نے اسلام آباد میں درخت کٹنے پر کہرام برپا کر دیا کیونکہ ان کے لیے ماحول خراب ہو رہا تھا یہ اینکرز صحافی 26 نومبر قتل عام پر مکمل خاموش رہے ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں آج یہ اینکرز صحافی پاکستان میں لوڈ شیڈنگ پر خاموش تھے لیکن جونہی اسلام آباد میں لوڈ شیڈنگ ہوئی ان کے لیے مسئلہ بن گیا ہے ۔
صدیق جان
🚨 بریکنگ نیوز :
چینی پروفیسر کا کہنا ہے کہ اسرائیل خفیہ طور پر مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کر رہا ہے تاکہ ان کی بنیادیں نیچے سے ختم کی جائیں
اور پھر اس پر ایک میزائل 🚀 مارا جائے اور الزام یہ لگایا جائے کہ یہ میزائل ایران نے داغا ہے اور اس مسجد کو ایران نے گرایا ہے
اور تمام تر ملبا ایران پر ڈال کر تمام مسلم مسلم امہ کو ایران کے خلاف کیا جائے اور ایک خطرناک جنگ شروع کی جائے۔
اور اسی طرح اپنے گھناونے منصوبے جو کہ 3rd ٹیمپل کا منصوبہ ہے اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جا سکے
عبداللہ فضل — 7 میچز، Average 51 منتخب نہیں ہوا۔
شمائل حسین (طلعت کا بیٹا)— 6 میچز،Average 28 بنگلہ دیش کےدورے کے لئے منتخب ہو گئا ،کیونکہ وہ اس بے غیرت ٹاؤٹ کا بیٹا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ پالش کرتا ہے، جبکہ عبداللہ فضل منتخب نہیں ہوا کیونکہ اس کے والد اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ پالش نہیں کرتے۔
پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا اضافہ نہیں ھوا ۔ 55 روپے فی لیٹر اضافہ ۔ کدھر ھے وہ جو سائیکل پر آتے تھے اور راتوں کو جاگ جاگ ویڈیو ریکارڈ کرتے تھے اور مہنگائی کا رونا روتے تھے ۔ جب پٹرول عمران خان کی حکومت میں 150 پر پہنچا تھا ۔ تب جلسوں میں یہ لوگ چیخ چیخ کر مہنگائی پر تقریر کرتے تھے۔قائد عمران خان نے کہا تھا میں یہ سب سہہ لونگا۔ لیکن آپ برداشت نہیں کر پاؤں گے ۔
🚨آج ہم اڈیالہ جیل اس امید کے ساتھ جا رہے تھے کہ آج ہ۔اری ملاقات عمران خان سے ہو جائے گی اود ہماری تسلی ہو جائے گی لیکن انہوں نے چکری کے مقام پر ہمیں روک کر حراست میں رکھ لیا ہم واپس بنی گالا آنا چاہتے تھے تاکہ میڈیا سے بات کر سکیں لیکن ہمیں روکا گیا۔
علیمہ خان کی بنی گالا میں پریس کانفرنس