مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے ملنے گیا، کوئی ہفتہ یا چار پانچ دن پہلے کی بات ہے۔
میں نے کہا، "مولانا! یہ آپ کا جگر ہے، خدا کی قسم!
اس سے پہلے میں نے دین کے بڑے کام کیے ہیں، لیکن خداے پاک کی قسم!
یہ سیاست بڑا مشکل کام ہے کیوں؟
سیدھا عزت پر حملہ ہوتا ہے۔"
میں نے مولانا سے کہا، "یہ آپ کا جگر ہے!
اگر آپ کسی مدرسے کے شیخ الحدیث ہوتے،
تو اس وقت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے کر کے نہیں، ان سے اوپر کے شیخ الحدیث ہوتے۔
آپ کسی خانقاہ میں پیر ہوتے ہیں، ہیں پیر آپ!
تو اس وقت آپ کے لوگ جبے چوم رہے ہوتے۔
لیکن ادھر اللہ اکبر! اتنا بہتان اور تہمت لگتی ہے، مشکل ترین کام ہے۔
#قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
مولانا سے اسی مثبت اپروچ کی توقع تھی!
بہت سے لوگ جنہوں نے جذبات میں مولانا کے سابقہ بیان کے بعد ریاست مخالف پراپیگینڈا جمیعت کے پلیٹ فارم سے شروع کیا، انکو بھی سکون کرنا چاہئے۔
یاد رکھیں، جمیعت کے کارکن صرف اسلئے خوارج نے شہید کئے کیونکہ وہ نظریہ پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے
کہتے ہیں مولانا نے پہلا جملہ کہا: 'ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ اگر اس جملے کو آپ پورا چلا دیتے، اگر مولانا کی گفتگو نشر کر دیتے، مین اسٹریم چینل کے اوپر، میڈیا کے اوپر، اگر مولانا کی یہ تین سے پانچ منٹ کی گفتگو مسلسل چلا دی جائے، عوام کی عدالت میں فیصلہ آ جائے گا۔
لیکن انہوں نے اپنے بھونڈے عزائم کے لیے ایک ہی جملہ اٹھایا، 'جی ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں'۔ مولانا نے کہا ہے کہ شہید اس لیے ہوتے ہو کہ تم تنخواہیں لیتے ہو تو تنخواہ کے بدلے میں شہید ہوتے ہو۔ مفتی عبدالرحیم صاحب، میں آپ سے مخاطب ہوں۔ کیا آپ عالمِ دین نہیں ہیں؟ کیا آپ سیاق و سباق مدرسے میں پڑھنا پڑھانا نہیں جانتے؟ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے، سیاق و سباق کے بغیر بات کی جاتی ہے؟ میں یہاں بیٹھ کے کہوں، اسپیکر دو نمبر ہے، نہیں بتایا جائے گا۔ یہ اسپیکر جو آوازیں دے رہا ہے، یا اسمبلی کا اسپیکر، جب تک مکمل بات نہیں کریں گے، بات نہیں کھلے گی۔
آپ کے مطابق مولانا نے یہ غلط بات کر دی ہے۔ تو مجھے بتائیں، حضرت مولانا نے جو سوالات کیے ہیں، آپ ان سوالات کو اپنے چینل پہ چلوا دیں۔ ویسے بھی ماشاءاللہ آپ کو لائک چاہیے، آپ کو وہاں پر کچھ فالوورز چاہیے، کچھ فالوورز کی بھیک چاہیے، کوئی ادھر ادھر سے مل جائے گا، ٹوٹی کے بجائے مولانا کے الفاظ اپلوڈ کروا لینا، ادھر سے بھی آپ کو مل جائیں گے۔ اور آپ یہ ساری چیزیں آگے پھیلا کر عوام کے سامنے آپ سرخرو ہونے کی بات کر رہے ہیں، اور الٹا کہہ رہے ہیں معافی؟ معافی تو تمہیں مانگنی چاہیے۔ معافی تو آپ کی ساری بریگیڈ کو مانگنی چاہیے، کہ جنہوں نے ایک بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر، مولانا کے منہ میں ٹھونسنے کی کوشش کی ہے۔
حضرت مولانا فرما رہے ہیں کہ 'جی، ہم کیوں لشکر اٹھائیں؟ میرا قبائلی جوان کیوں لشکر اٹھائے؟ میرا قبائلی جوان جو مقامی ہے، جس نے وہاں رہنا ہے، اس کی نسل در نسل تم لوگ دشمنیاں کیوں لگوانا چاہ رہے ہو؟' جب ذمہ داری تمہاری ہے، تحفظ کی ذمہ داری کا معاملہ تم نے لیا ہے، اسلحہ تمہارے پاس ہے، ایمونیشن تمہارے پاس ہے، قلعے تمہارے پاس ہیں، تمہارے پاس عسکری، فوجی، آرمی، پولیس کی طاقتیں موجود ہیں۔ تو تم اپنے معاملے کو دیکھو، اپنی ناکامی کا بوجھ ان عوام کے اوپر نہ ڈالو۔
جس وقت تم باجوہ کو اپنا ابا بنا رہے تھے، نکا، نکا ابا، یہ معاملہ اور یہ کھیل چل رہا تھا، اس وقت بھی مولانا آئین اور قانون کی پاسداری کا علم بلند کیے ہوئے تھے۔ اور میں ایسے لوگوں پہ حیران ہوں، جو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تو نہیں ہے، لیکن پھر بھی مولانا نے بات ٹھیک نہیں کی۔ اور سنا بھی نہیں ہے، تو پھر مولانا نے کون سی بات ٹھیک نہیں کی؟ اتنا دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں ؟
#مولانا_سے_معافی_مانگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#مولانا_شان_پاکستان
@Tahirmughalpml8 میرے پیارے نبی کا فرمان مبارک ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔اور دنیا دار سیاسی جماعتوں کے پیچھے لگ کے نبی کے فرمان کو نعوذباللہ جھٹلا رہے ہو عالم کی گستاخی کر کے۔
@Tahirmughalpml8 میری پہلی ترجیح مولانا کی جماعت اور دوسری ن لیگ تھی اب ن لیگ پر تھوکتا بھی نہیں ہوں۔جو مولانا کے خلاف اس بیغیرت کی وڈیوز کو شیئر کر رہے ہیں۔اس نے جو باتیں پی ٹی آئی میں رہ کر ن لیگ کے اور نواز شریف کے خلاف جو بکواسات کی تھیں وہ بھی شئیر کریں اگر یہ سچا ہے تو
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 800 ارب تقریباً سالانہ پر پہنچ گیا
یعنی تین ارب ڈالر
تین ارب ڈالر سے ہم اپنا بیرونی قرضہ بھی اتار سکتے
سالانہ قسطیں دیکر
تین ارب ڈالر سے ہم کئی صنتیں لگا سکتے
جس سے ہزاروں لاکھوں نوکریاں جنریٹ کر سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم پی آئی اے کو دوبارہ اعلی معیار کی ائر لائن بنا سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں سکول کالجز بنا سکتے پسماندہ علاقوں میں
ہم اپنی آنے والی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکتے
تین ارب ڈالر سے زرعی انقلاب لا سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم دور دراز کے علاقوں میں بہترین قسم کے ہسپتال بنا سکتے
تین ارب ڈالر سے کئی ایسے منصوبے لگا سکتے جس سے ہمارے پڑھے نوجوانوں کو نوکریاں مل سکتی
تین ارب ڈالر عوام کو قرض دیکر ہم نئی فیکٹریاں لگوا سکتے ان مصنوعات کی جو ہم امپورٹ کرتے ہیں
ہم اپنی ایکسپورٹ کو دو گناہ کر سکتے
لیکن ہم نے عوام کو فقیر ہی بنانا ہے بس
باچا خان مرکز میں قادیانیت کا داخلہ 🚨
چند دن قبل عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے باچا خان مرکز کے ایک نئے میڈیا پلیٹ فارم"فیکٹس آر فیکٹس" کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس کا ڈائریکٹر اور چیئرمین زلان مومند کو بنایا گیا۔ یاد رہے کہ زلان مومند ایک مشہور قادیانی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ زلان مومند کے دادا صاحبزادہ سیف الرحمن خود قادیان گئے تھے اور وہاں مرزا حکیم نورالدین کے ہاتھ پر قادیانیت قبول کی تھی۔ پھر یہی صاحبزادہ سیف الرحمن واپس آ کر پشاور کے بازید خیل بڈھ بیر پشاور کے علاقے کو قادیانیت کا مرکز بنانے میں سرگرم رہے، مضبوط مبلغِ قادیانیت تھے۔ انہی صاحبزادہ گان خاندان کی وجہ سے ان علاقوں میں قادیانیت پھیل گئی، بازید خیل میں ابھی تک انہی لوگوں کی تبلیغ کے اثرات موجود ہیں۔ اس بات کا اقرار "صوبہ سرحد میں احمدیت کا نفوذ" نامی کتاب میں بھی موجود ہے، ثبوت کے طور پر تصاویر نیچے لف ہے۔
اس صاحبزادہ سیف الرحمن کا ایک بیٹا تھا، صاحبزادہ حبیب الرحمن، جو پشتو زبان و ادب کے میدان و حلقوں میں قلندر مومند کے نام سے مشہور ہے اور پشتو زبان و ادب میں اس کے چاہنے والے اب بھی موجود ہیں۔ پشتو زبان و ادب کے شعراء اور صحافیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ قلندر مومند پکا ٹکا قادیانی تھا اور مختلف مواقع پر اس نے خود بھی اس کا اقرار کیا تھا۔ نیچے تصاویر میں اسی قلندر مومند کے ایک انٹرویو کا حصہ موجود ہے، اور یہ انٹرویو کرنے والا محترم حنیف خلیل صاحب آب بھی زندہ ہے، اس انٹرویو میں قلندر مومند خود قادیانی ہونے کا اقرار کر رہا ہے۔ قلندر مومند بھی مبلغِ قادیانیت تھا۔ اس تبلیغ کا اقرار خود قادیانی تاریخ دانوں نے کیا ہے کہ اس نے قلم کے ذریعے قادیانیت کی بڑی خدمت کی تھی۔ نیچے تصویر لف ہے، جس میں قادیانیی کتب میں قلندر کی تعریفیں و تعارف دونوں موجود ہے۔
کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی میں جب اس قلندر مومند قادیانی کی تصویر لگائی گئی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور پی ٹی وی کے امام و خطیب مولانا قاری ولی اللہ صاحب کی کوششوں سے وہ تصویر اتاری بھی گئی تھی۔ اس وقت بھی ایمل ولی خان نے اس تصویر کے ہٹانے پر احتجاج کیا تھا۔ ذیل میں ایمل ولی کا احتجاجی پوسٹ بمع تصویر موجود ہے۔
اسی قلندر مومند قادیانی کا بیٹا یہ زلان مومند ہے، جسے اب ایمل ولی خان نے اس نئے میڈیا پراجیکٹ کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ قادیانی ہمیشہ تبلیغی ذہنیت رکھتے ہیں اور جب کسی قادیانی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہو جو نسل در نسل مبلغ ہی رہا ہو تو پھر اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ اور اگر آپ کسی مبلغِ قادیانیت کو ایک ایسے ادارے میں جگہ دے دیں جس کا تعلق میڈیا سے بھی ہو اور پشتون بیلٹ میں بھی اس سیاسی مرکز کا اثر و رسوخ ہو، تو سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ قادیانی مبلغ میڈیا کے راستے اس باچا خان مرکز کو استعمال کرتے ہوئے قادیانیت کے لئے کیا کیا تبلیغی کام کر سکتا ہے۔
ابھی تو صرف پشتو زبان و ادب کے شعراء، ادیب اور صحافی حضرات کے درمیان اس موضوع پر گزشتہ کئی دنوں سے بات چل رہی ہے، لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ داران سے بھی درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو ایمل ولی خان کے ساتھ اس معاملے میں رابطہ کریں تاکہ وہ یہ تقرری واپس لے لیں۔
ایمل ولی خان صاحب سے بھی دست بستہ درخواست ہے کہ خدارا! آپ کے دادا خان عبدالولی خان ہی کے دستخط کے ساتھ پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا نہ اسلام کا وفادار ہے، نہ پاکستان کا وفادار ہے اور نہ ہی پختونوں کا وفادار ہے۔
درخواست : اگر ممکن ہو سکے تو آپ یہ پیغام آگے فارورڈ کیجئے۔ شکریہ
تحریر ✍️ ایمل صابر شاہ
وئیرل کر دو 2018کا حال سن لو👇👇👇🧐🤔🤔🤔🤔🤔
ویڈیو ڈھونڈاناں اور لگانا میرا کام .
اور ایک سچا پاکستانی ہونے کے نا طے مشہور کرنا آپ کا کام
جو امرن ڈو لنگڑا کا یار ہے وہ غدار ہے
امرن ڈو کی من جی ٹھوک کے رکھو
امرن ڈو پاکستان کا غدار ہے
بریکنگ نیوز 🚨:
ہماری اپنے والد سے اخری خواہش ہے کہ وہ ہماری بہن ٹیرین وائٹ کو بھی تسلیم کریں ہم نے بڑی کوشش کی کہ وہ اس انٹرویو پہ ہمارے ساتھ اتی - لیکن ہماری والدہ نے نہیں آنے دیا - قاسم خان کی سکائی نیوز کی صحافی یلد حکیم کے ساتھ تحلکہ خیز گفتگو
یوتھیوں تم مانو نہ مانو قاسم اور سلمان مان گئے ہیں۔۔۔۔دنیا تو پہلے ہی مانتی ہے۔۔۔۔
عمران خان کے بیٹے @Kasim_Khan_1999 نے اسکائی نیوز پر اپنے انٹرویو میں اپنی سب سے بڑی خواہش کا اظہار کردیا
ہمارے والد @ImranKhanPTI کو چاہئیے وہ ہماری بہن ثیریان عمران خان کو بیٹی تسلیم کریں
ہم اپنی بہن کو بھی ساتھ لانا چاہتے تھے مگر ہماری والدہ نے اس کی اجازت نہیں دی
پی ٹی آئی کے کرتوت سُن لیں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے ایسا قانون بنایا ھے کہ سُن کر آپکے چودہ طبق روشن ھو جائیں گے
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو صدر پاکستان اور آرمی چیف سے بھی زیادہ مراعات اور تحفظ دیا گیا اسمبلی ختم ھونے کے بعد بھی انکے گھر پر چھاپہ نہیں مارا جا سکے گا گاڑیوں کی تلاشی نہیں لی جا سکے گی جیسے مرضی منشیات اسمگلنگ کریں کوئی نہیں چیک کر سکے گا یہی نہیں انکی بیویوں اور نوکروں کے لیے وی وی آئی پی سہولتیں ھوں گے نوکر جہاز میں سفر حکومت کے خرچے پر کریں گے بیویاں بزنس کلاس سفر کریں گی سرکاری گھر نا ھو تو 20 لاکھ مہینہ کرایہ خزانے سے ملے گا یہاں بھی صبر نہیں کیا اگر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر فوت ھو جاتے تو یہ اسپیکر والی تمام سہولیات اسکی فیملی کو ملیں گی سارا میڈیا اور یوٹیومرز اس پر خاموش ہیں
افغان طالبان کے ایک رکن کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں وہ بڑے پُرجوش انداز میں کہتا ہے:
“میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ محبت پاکستان سے ہے۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ آج ہمارے افغانستان کے جتنے معزز علماء و مشائخ زندہ ہیں، ان کی بقا اور اثرات میں پاکستان کا بڑا کردار ہے۔
روس ہو یا امریکہ—ہم نے دونوں کے مقابلے میں جو کامیابیاں حاصل کیں، ان کے پسِ منظر میں پاکستان کی مدد شامل رہی۔ اگر پاکستان ساتھ نہ دیتا تو نہ روس کو شکست ہوتی اور نہ امریکہ کو پسپائی نصیب ہوتی۔”
وہ مزید کہتا ہے:
“کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان ہم سے بغض رکھتا ہے، مگر میں کہتا ہوں کہ تمہاری نسلیں پاکستان کی احسان مند ہیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔”
یہ بیان دراصل ان لوگوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو اسی وطن کی نعمتیں کھا کر اس کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ احسان کو پہچاننا اور اس کا اعتراف کرنا ہی شرافت اور دیانت کا تقاضا ہے۔
جنگل میں آگ کیطرح پھیلا دو
عمران بھی یہی کہتا تھا
وہ مغرب کو مغرب سے زیادہ جانتاھے
وہ امریکہ کو امریکیوں سےزیادہ جانتاھے
تاریخ کو اس سے زیادہ کوئی نہی جانتا
اسکےسب دعوے اس ویڈیو میں جمع ہیں
ٹرمپ بھی ہر معاملےپر یہی کہتاھے اسکی بھی ویڈیو تاکہ آپ سمجھ سکیں
#عمران_خان_دجال_اصغر