میں نے کھانے کی میز پر خواتین کی اس سے زیادہ تذلیل کبھی نہیں دیکھی جب خواتین اپنا چہرہ ڈھانپ کر کھانا کھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ دیوانگی کی انتہا ہے۔ چہرہ ڈھانپنے کا مطلب اپنی شناخت کھو دینا ہے۔ کسی نامعلوم وجہ سے پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنی شناخت کھو رہی ہے۔
مجھے ایک بیوٹی سیلون میں جانے کا اتفاق ہوا جو گھر سے زیادہ دور نہیں تھا وہاں لنچ بریک ہو رہا تھا اور پارلر کی اونر کرسچن کمیونٹی سے تھیں اور گھر ہی میں اُنکا پارلر تھا ۔ کھانے کی خوشبو بہت اچھی آ رہی تھی اور مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی میں نے پوچھا کیا پک رہا ہے بڑی اچھی خوشبو آ رہی ہے تو اُنہوں کہا سبزی روٹی کے ساتھ سبزی میری پسندیدہ تھی میں نے کہا پھر تو میں بھی کھاؤنگی اس پر وہ ہچکچا کر بولیں “ہم کرسچن ہیں آپ کھا لیں گی ہمارا کھانا ؟ “
وہ ایک ایسا تکلیف دہ لمحہ تھا جس کا احساس مجھے شرمندہ کر گیا اور بحثیت مسلمان مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا کم ظرف نفرت زدہ اور دوسروں کو اچھوت سمجھنے والا محسوس ہوا جو کرسچن ممالک میں رہیتے ہوئے ہر انسانی حقوق اور سیلف ریسپیکٹ کے ساتھ جی رہی تھی ۔
میرے ملک میں کرسچن یا ہندو یہ احمدی مسلم یہ تسلیم کر چُکا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کی نظر میں قابل نفرت ہیں ۔ لیکن میں نے اپنی اس شرمندگی اور ازیت کو بڑی مہارت سے چھُپاتے ہوئے کہا “ کیوں نہیں ضرور کھاؤنگی “ میرے اس جواب سے اُس خوبصورت معصوم دمکتے چہرے پر محبت بھری مُسُکراہٹ آئی جو شُکر گُزاری سے بھر پور تھی جیسے میں نے کیمرے میں اُس کی اجازت سے قید کر لیا ۔ اور خوب مزے سے گرم روٹی اور سبزی کو روح کی ازیت کے ساتھ نگلتی چلی گئی !
پورا پاکستان ہندؤں کا تھا 47 سے پہلے اور اُس سے پہلے بھی تم نے باہر سے آکر قبضہ کیا اُن کے ملک پر اور دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔ اور تم بھی ہندو ہی تھے ۔ دوسرے غیر مسلم ملکوں میں جا کر ڈھٹائی سے بس جاتے ہیں واقعی پاکستانیوں سے زیادہ بغیرت کوئی نہیں دنیا بھر میں
یونیورسٹی اور کولیجز کی تمام لڑکیوں کو چاہیے کہ ملکر ایسے ہر teacher کی پٹائی کریں بلکہ سر پھوڑ دیں اور جوڈو کراٹے بھی سیکھیں اپنی مدد آپ ہی کرنی پڑے گی کیونکہ حکمرانوں کو فرصت نہیں اور قانون ویسے بھی کوئی ہے نہیں پاکستان میں