قیدی نمبر 804
غلام حسین وہاں پیدا ہوا جہاں غریب پیدا ہوتے ہیں۔ غریب ہمیشہ غریبوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی عین اسی مقام پر پیدا ہوا۔ امیر بچہ پالتے ہیں غریب اپنی امید پالتے ہیں۔ غلام حسین کے باپ نے بھی اپنے بچے کو امید کر طرح پالا۔ وسائل نہ ہونے کے باجود میٹرک کروا دیا۔ اپنے علاقے کے ہر سیاستدان کی چاپلوسی کی۔ کسی الیکشن سے قبل ایک کی خوشامد کام آگئی اور غلام حسین کو جیل خانہ جات میں نوکری مل گئی۔
اب غلام حسین اپنی امیدوں کو پال رہا ہے۔ انسان غریب ہو اور اوپر سے ایمانداری کا کیڑا بھی ہو تو دوہری مصیبت۔ حالات ایسے شخص کو کبھی بھی سیدھا نہیں ہونے دیتے۔ اسے بھی ہر غریب کی طرح لگتا ہے کہ ایک دن کوئی ایسی حکومت آئے گی جو اس کا سوچے گی۔ وہ اخبار پڑھتا ہے۔ ٹی وی دیکھتا ہے۔ شام کو گلی کی نکر میں واقع دوکان کی سیاسی بیٹھک میں بھی بیٹھتا ہے۔ خاموش رہتا ہے سب کی سنتا رہتا ہے۔
چھ دن پہلے اس کی ڈیوٹی بیرک تبدیل ہوگئی۔ کوئی بہت بڑا شخص قیدی ہو کر جس بیرک میں آرہا تھا وہاں غلام حسین کی ڈیوٹی لگنا تھی۔ راولپنڈی کی اس جیل میں اکثر بڑے لوگ آتے رہتے تھے۔ جس سیاستدان کی جماعت زیر عتاب ہوتی وہ سیاستدان جیل میں آجاتا۔ کچھ عرصہ گزرتا رات کے اندھیروں میں کالی گاڑیوں میں کچھ لوگ آتے ۔ اس سیاستدان سے ملاقاتیں ہوتیں گفتگو ہوتی۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ زیر عتاب شخص جیل سے چلا جاتا۔ اسکے مخالف آجاتے اور ملاقاتوں کا وہی سلسلہ پھر شروع ہوجاتا۔
غلام حسین کو لگا کہ شاید اب بھی معمول کی کاروائی ہوگی۔ ایک روز غلام حسین ڈیوٹی پر موجود تھا۔ سرکاری گاڑیاں چیختی چلاتی جیل میں داخل ہوئیں۔ ہر طرف تھرتھلی مچ گئی۔ کالی گاڑیوں والے بھی ایک بڑی تعدا میں آ پہنچے۔ رسمی کاروائی کے بعد “وہ “ بیرک میں داخل ہوا۔ یہ تو “ وہ “ تھا۔ بیرکوں میں زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوگئے۔ غلام حسین نے اسے دیکھ کر زرا سی تیوریاں چڑھا لیں۔ کیونکہ غلام حسین کے خیال میں “وہ” تو ملک کے تمام مسائل کی جڑ تھا۔وہ تو بدکردار تھا۔
قیدی کو جو نمبر الاٹ ہوا وہ تو کچھ اور تھا۔ لیکن ہر کوئی اسے 804 پکار رہا تھا۔ جب سب معمول کے مطابق ہوا تو جیلر نے غلام حسین اور اس بیرک میں تعینات تمام اہلکاروں کو اپنے دفتر بلایا۔ جلاد صفت جیلر بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا۔ کالی گاڑیوں والے لوگ دفتر کی تمام کرسیوں پر قبضہ جمائے ہوئے تھے۔ تمام اہلکاروں کو سختی سے مختصر احکامات دیے گئے۔ جو کہا جائے گا وہ بلکل اسی طرح ہونا چاہیے۔ تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے گھر میں بھی کسی ذکر نہیں کرے گا کہ جہاں تمہاری ڈیوٹی ہے وہاں 804 آیا ہوا ہے۔ کوئی بھی شخص 804 سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرے گا۔ تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ زرا سی بھی حکم عدولی ہوئی تو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ غلام حسین شریف ضرور تھا لیکن یہ جانتا تھا کہ کالی گاڑیوں والے واقعی نشان عبرت بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ احکامات سننے کے بعد وہ واپس ڈیوٹی پر چلا گیا۔ 804 کے سیل کے سامنے سے گزرا۔وہ زمین پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ اسکے ہاتھ میں تسبیح تھی۔ غلام حسین کو ایک کمینی سی خوشی محسوس ہوئی کہ اس ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار بلآخر جیل میں ہے۔ شام سے زرا پہلے غلام حسین کی ڈیوٹی ختم ہوئی تو وہ گھر چلا گیا۔
آج غلام حسین خود کو اہم تصور کررہا تھا۔ آخر کو اسکی ڈیوٹی ملک کے سب سے خطرناک قیدی کے سیل کے باہر لگی تھی۔ وہ آج جلدی سیاسی بیٹھک پر جا پہنچا۔ آہستہ آہستہ تمام لوگ پہنچ گئے۔ آج ہر کوئی اسی قیدی کا ذکر کررہا تھا۔ غلام حسین سب کو چلا چلا کر بتانا چاہتا تھا کہ آج اس کی بات سنی جائے۔ وہ قیدی کس حال میں ہے کیسا ہے غلام حسین سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کالی گاڑیوں والے لوگوں نے اگر خاموش رہنے کاکہا ہے تو اس کا مطلب خاموشی ہے ورنہ وہ ہمیشہ کےلیے خاموش کردیا جائے گا ۔
رفیق دوکاندار اس سیاسی بیٹھک کا سب سے اہم فرد تھا۔ کیونکہ دوکان، اسکے سامنے پڑی چارپائیاں اور کرسیاں ساتھ پڑا واٹر کولر، سب اسی کی ملکیت تھا۔اسکی گفتگو کسی بھی معاملے میں حرف آخر ہوتی تھی۔ وہ کہنے لگا
“قیدی نشئی ہے۔ ایک ہی رات میں دماغ درست ہوجائے گا۔
یہ ترلے منتیں کرے گا۔چیخے چلائے گا۔ منشیات کی طلب اسے دیوانہ بنا دے گی”
کچھ لوگوں نے تصدیق کی کچھ نے تکرار لیکن غلام حسین خاموش رہا۔ وہ بیتابی سے صبح کا انتظار کرنے لگا کہ جب صبح وہ ڈیوٹی پر جائے گا تو قیدی ادھ موا پڑا ہوگا۔ چیخ چلا رہا ہوگا۔ سلاخوں سے سر ٹکرا رہا ہوگا۔ منہ سے رالیں بہہ رہی ہوں گی۔ غلام حسین نے جیلوں میں منشیات کے عادی بے تحاشا قیدی دیکھے تھے۔ سب پرانی یادیں اسکے دماغ کے پردوں پر چل رہی تھیں۔
1/2
جاری ہے
In this critical moment, it is our urgent collective responsibility to combat misinformation, and change such harmful narratives. We, Baloch people like all other people of world love and care. We fear and we dare. We are hopeful and aspire to live in a more just World with no rank of suffering.
You are requested to share your video clips in your social media channels, practicing solidarity with Baloch March.
#IStandWithBalochMarch
#MarchAgainstBalochGenocide
خان صاحب ہمیشہ ہائی مورال میں رہتے ہیں۔ اللّہ نے انہیں استقامت بخشی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پوری پارٹی اج ان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ ہمیں ان سے انسپیریشن ملتی ہے وہ ہمیشہ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں اور استقامت کی تلقین کرتے ہیں!
آج کا کالم
ترکیہ میں زلزلے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں ہوئی جاپان نے اپنے زیادہ سے زیادہ سٹرکچر کو زلزلہ پروف بنا رکھا ہے کیا اسلام آباد میں بلند و بالا عمارتیں بنانے والے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں؟؟
جویریہ صدیق
https://t.co/QhZln1HIO8
ہمارے وکلا صاحبان خان صاحب کو ڈیفینڈ کریں گے آر اے بازار کیس میں ان کو لگ بھگ چھ ماہ کے بعد علم ہوا ہے کہ ان واقعات میں بھی خان صاحب کا ہاتھ ہے آج خان صاحب کے خلاف کیسز کی تعداد 202 ہو گئی ہے۔
8 ماہ سے پابند سلاسل پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کے آر او کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار - ایپلیٹ ٹریبونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی اپیل مسترد کر دی۔ اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ تین رکنی بنچ میں جلینچ کیا جائے گا سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ نگران حکومت متعلقہ ادارے پر این او سی نہ جاری کرنے کا پریشر ڈال رہی ہے ۔ ترجمان @EjazChaudhary
کسی ماں کے سامنے ہتھکڑیوں میں جکڑا اس کا بیٹا جِگر چیر دینے کیلئے کافی ہے لیکن حقیقی آزادی کی جنگ میں میری اور میرے خاندان کی یہ قربانی بہت چھوٹی ہے۔ سیالکوٹ کی تاریخ اور عوام اس ظلم کو کبھی نہیں بھولے گی اور اس ظلم کا پہلا بدلہ 8 فروری کو اپنے ووٹ سے لے گی انشااللہ۔
#ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے
چند اہم سوال 9 مئی کو لے کر:
کیا کوئی یہ معمہ حل کر سکتا ہے کہ جب عوام نے ان فوجی ٹرکوں کو آگ نہیں لگائی جن سے سادہ لباس لوگ اُتر کر مظاہرین میں شامل ہو رہے تھے تو عوام نے کور کمانڈر ہاوس کو آگ کیوں لگانی تھی؟ حالنکہ ٹرک کو آگ لگانا زیادہ آسان تھا
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ راولپنڈی/پشاور میں سادہ لباس افراد فوجی ٹرکوں سے نہ اُترے تو پنڈی میں وہ جلاؤ گھیراؤ نہ ہوا جو لاہور میں ہوا جہاں ٹرکوں سے سادہ لباس افراد اُترے؟ حالنکہ ان دونوں شہروں میں تحریک انصاف ، لاہور سے زیادہ مقبول ہے
جس طرح طاقت اور تشدد کا استعمال کرکے ریاست اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے اس سے کئی زیادہ شدت کے ساتھ یہ تحریک ہر شہر، گلی اور محلوں میں ابھر رہا ہے۔
تحریک کے تیسرے فیز کے تحت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بلوچستان کے پانچ اہم شہر پنجگور، سوراب، قلات، منگوچر اور مستونگ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل اس تحریک کے ساتھ اپنے حمایت کا اظہار کیا۔
عوامی مزاحمت زندہ باد
عوامی جدوجہد زندہ باد
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
بہت اہم
کل اور آج یہ جان بوجھ کر کیا گیا،اس سے پہلے جج ہمایوں کے شٹ اپ والا معاملہ ہوا جب انتظار نے بھی اگے ست کہا تھا کہ یو شٹ اپ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا ، جج ہمایوں کے حوالے سے میں قوم کو وڈیو پیغام کے ذریعے کیس کے اور دلاور صاحب کی فیس بک آئی ڈی اور جو وہ کر رہے تھے حقائق بتاۓ،مجھے 8 گھنٹے ایف آئی اے میں اسی وجہ سے بیٹھایا گیا اور دھمکیاں دی گئی کہا گیا کہ ویڈیو کیوں بناتے ہو ہم آپ کے خلاف کاروائی کریں گے میں نے کہا کپتان میرا لیڈر ہے اور یہ ڈیوٹی مجھے میرے کپتان نے لگائی ہے میں ان کا سپوک پرسن ہو لیگل افئیر کا،پھر جب انہوں نے دیکھا کہ پاکستان بار کونسل اور وکلاء اور دیکر سوشل میڈیا کے دوستوں نے آواز اٹھائی تو مجھے چھوڑا گیا اور کہا گیا باہر پریس کانفرنس نہیں کرنی میں نے کہا میں نے کرنی ہے پھر باہر سے میڈیا والوں کو ہٹا دیا گیا اور پھر میں نے خود ویڈیو پیغام جاری کر دیا،اس سے ایک دن پہلے خان صاحب کی گرفتاری کے بعد خان صاحب سے پہلی ملاقات تھی اور میں نے باہر آکر لوگوں کو حقائق بتاۓ کہ اندر خان کیسا ہے اور خان کیا کہہ رہاہے ،جس پر انہوں نے دلاور کیس کا بہانہ بنا کر مجھے نوٹس بھیجا تھا اس وقت میں اے آر وائی پر بیٹھا تھا ،اب سائفر کیس مین بھی,سائفر کیس میں فرد جرم والے دن جج صاحب نے خان صاحب کو بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور میں نے سخت لیجے میں کہا کہ یہ ان کا حق ہے وہ جو مرضی ہیں بات کریں آپ کو سننا ہو گی جس پر خان صاحب نے سائفر سازش سے لے کر ڈونلڈ لو اور سابق چیف کے بارے میں سب حقائق کھول کے رکھ دیے.ابھی مجھے کالز آرہی ہیں کہ آپ کو اندر جیل میں بلا رہے ہیں جب فرد جرم کی کاروائی ڈال دی گئی اس کے بعد آپ آجاو،یہ باریک واردات پہلی دفعہ نہیں اس کے علاوہ بہت دفعہ ہو چکا ہے.
Children are coming out in support of this movement in every city of Balochistan. It is called public support of a mass movement.
These are pictures of the rally in the city of Dasht, Balochistan, where the majority of children can be seen in the rally.
We have said many times that this is a movement of every house in Balochistan; it has support from children to elders in Balochistan. Now, this movement wants moral support from worldwide.
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
میں اللہ رب العزت اور اپنی عوام خصوصا سوشل میڈیا پر موجود اپنے بیٹے اور بیٹیوں کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میرے لئے آواز اٹھائی اور ان کی دعاؤں کے باعث آج میرا بیٹا عمر ڈار عدالت پیش کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر معزز جج جسٹس باقر نجفی کا دِل سے شکریہ کہ انہوں نے ایک ماں کی فریاد کو رد نہیں کیا۔ آج میرے کاغذات نامزدگی بھی منظور ہو گئے جس پر عدلیہ کی شکر گزار ہوں۔ میرے مخالفین کی رچائی ہوئی چالیں انشااللہ ان کے منہ پر پڑیں گی۔ میرے خاندان کے ساتھ ہوئے ظلم کا گواہ پورا شہر سیالکوٹ ہے۔ لیکن اس ظلم کے خلاف جہاد سمجھ کر نکل چکی ہوں۔ 8 فروری کو ہر ظلم کا بدلہ ووٹ سے لیں گے انشااللہ۔ مجھے یقین ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ہر میرا بیٹا بیٹی میرے ساتھ ہیں۔ آپ سب کی محبتوں کا ایک بار پھر دِل سے شکریہ۔
خان نے اس قوم کو اتنا شعور دے دیا ہے الحمداللّٰہ
کہ رزق حلال کمانے والے ایک عام سے ریڑھی بان نے بڑے چینلز پر آنے والی صحافتی جونک کی صحافت کی تہہ لگا دی
۔۔
“غریدہ فاروقی اپنے ساتھ بازار لے کر گئے اپنے کرائے کے لوگوں سے بطور ن لیگی کارکنان انٹرویو کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی”