موروثی سیاست ❌
نکلیف میں صرف اپنا خون ہے
بہنوں کی اپنے بھائی کے بنیادی انسانی حقوق بحال کروانے کی جدوجہد ۔ بہنوں کی اپنے بھائی کی آنکھ کا علاج کروانے کی جدوجہد ۔ بہنوں کی اپنے بھائی سے ملاقاتیں بحال کروانے کی جدوجہد۔
عمران خان کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو یقین دلانے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ انہیں سامنے لایا جائے
#WhereIsImranKhan
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
سنو، تحریک انصاف کے مجاہدو!
سچے ہو تو کسی کے باپ سے بھی نہ ڈرو۔
سچ کہو، ڈنکے کی چوٹ پر کہو
جو ضمیر کہے اس سے کبھی پیچھے نہ ہٹو
جو صحیح ہے وہ کرو
صحیح کام کرنے کے لئے کسی کی اجازت، کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔
آپ کا لیڈر عمران خان ہے اور اسی کا کہا ہمارا سپریم کوڈ آف کنڈکٹ اور ڈسپلن ہے۔
ڈٹ جاو
💪💪💪💪💪
اللہ کی۔مدد ہمارے ساتھ ہے۔ یقین رکھو، ایمان رکھو اور جان لو کہ صرف ایک خدا کی ذات کے لئے سجدہ روا ہے، کسی اور کے لئے نہیں۔
حقیقی آزادی ہماری منزل اور خان صاحب کی رہائی ہمارا فوری ہدف ہے۔
یاد رکھو جو آپ کی امید توڑے، جو آپ کا حوصلہ پست کرنے کی گھناؤنی کوشش کرے وہی آپ کا دشمن ہے۔
حقیقی آزادی زندہ آباد
مزاحمت زندہ آباد
ووٹ کاسٹ کرنے سے لیکر ووٹ کی حفاظت تک سادہ سا طریقہ اس مختصر ویڈیو میں سمجھا دیا گیا ہے۔ اسے فیس بک ، واٹس ایپ ٹک ٹاک پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔
ویڈیو کریڈٹ ؛@Kaptaan_squad
گلگت بلتستان ووٹ ڈالنا اسلئے ضروری ہے تاکہ فوج کو بار بار آئین توڑنا پڑے یاد رہے آئین توڑنا ملک سے سنگین غداری ہے اسلئے ووٹ ضرور ڈالیں اور فوج جنکو اسمبلی آنے سے روکنا چاہتی ہے ان سب کے انتخابی نشان یاد کرلیں
قاسم خان کی گفتگو بھولنا مت 🚨
ہمیں دو بار خبر ملی تھی کہ آپ کے والد جیل میں وفات پا چکے ہیں، اس وقت میرے والد کی زندگی کو خطرہ ہے اور ہم اس سے بہت پریشان ہیں
تین سال سے کیمرے لگا کر بھی جو عمران خان کا ایک کمزور لمحہ نہیں پکڑ سکے
وہ خود کیمروں سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہر فوٹیج غائب کر دیتے ہیں پھر یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں سچا مانو۔
جھوٹے جہان کے