“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
“مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اورحقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہییں۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ اس کی جان کو شدید خطرات ہیں- مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر میرے خلاف بطور گواہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہر موقع پر میری ہدایات کے مطابق حقیقی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام۔۔۔ (9 ستمبر، 2025)
3/3
گذشتہ دنوں میں نے مقتدرہ کی طرف سے ایک ملاقات میں رکھی گئی شرائط کا ذکر کیا تھا، جنہیں جھٹلانے کی صورت میں دو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ جن کا الیکشن سے پہلے کے ماحول میں تذکرہ مناسب نہیں ہوتا۔
ایک کا نقطۂ آغاز وہ کردار کُشی کی مہم تھی جو بشری بی بی کے خلاف چلائی گئی تاکہ اُن پر پریشر ڈالا جاسکے اور وہ خان صاحب کو ڈیل پر آمادہ کریں اور اُس کے لیے دباؤ اُن کی ذات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اُن کے بچوں تک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہی سلسلہ ہم زیر حراست ان پر ذہنی تشدد اور اُن کو جسمانی طور ہر کمزور کرنے کے لیے روا رکھے گئے سلوک کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ مقصد ان کو توڑنا اور انہیں تکلیف دے کر خان صاحب کو مجبور کرنا ہے۔
اُس وقت شرائط پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خان صاحب، اُن سے وابستہ افراد اور پارٹی پر سختیاں بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی کاغذاتِ نامزدگی چھیننے، مسترد کرنے، پارٹی سے انتخابی نشان لینے اور امیدواروں کو جبراً انتخابات سے دستبردار کرنے جیسی کاروائیں کی گئیں۔
دوسری دھمکی (معدے کی خرابی کے حوالے سےاُن دنوں چلنے والی خبروں کا حوالہ دے کر دی گئی) کہ طبیعت تو اُن کی (خان صاحب کی) ویسے بھی ناساز رہتی ہے۔ مزید طبی مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مستند معلومات موصول ہوئیں کہ اگر عمران خان ڈیل پر آمادہ نہیں ہوتے تو اُن کا مصر طرز پر کوئ بندوبست کیا جائے۔ صاحبِ علم یہ اشارہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
بشری بی بی کی جانب سے تب اسلام آباد ہائیکورٹ میں خان صاحب کی صحت اور تحفظ کے حوالے سے پٹیشن دائر کی گئی (جسے تقریباً دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق سماعت کے لیے نہیں مقرر ہونے دے رہے)۔
انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی سے ہواس باختہ قوتیں جہاں دیگر سازشیں اور چالیں چل رہی ہیں وہاں بشری بی بی کے ساتھ حراست میں روا رکھا گیا سلوک, ان کے حوالے سے موصول ہونے والی خبریں اور ڈیل نہ کرنے کی صورت میں ان کو دی گئی دھمکی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اُن کے وکلاء سے استداء کرتا ہوں کہ اُن کی زندگی کو لاحق خطرات اور اُن سے روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک سے فوراً عدالت کو آگاہ کریں۔
میں نہایت اخلاص اور تحمل سے مقتدرہ کو بھی متنبی کردوں کہ اپنی انا کی جنگ اور طاقت کے نشے میں خدانخواستہ کوئ قدم ایسا نہ اٹھالیں کو جو ناقابلَ تلافی ہو کیونکہ نا یہ مصر ہے اور نا عمران خان محمد مُرسی! آپ کی ہر دھمکی اور ہر چال سے آگہی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آگ سے کھیلنے سے اجتناب کریں۔