This old tree had curved itself into a frame so beautiful that it felt incomplete without you.
Had we been trekking together, I would have asked you to sit there for a while, framed by ancient wood and summer light, while I captured a memory I would never wish to outgrow. 🍁
وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا
وہ جو اُلجھا تھا وحشی ہَوا سے کبھی، اُس دِیے کو بُجھے تو زمانہ ہُوا
اب تو امجدؔ جُدائی کے اُس موڑ تک، درد کی دُھند ہے اور کچھ بھی نہیں
جانِ من! اب وہ دن لَوٹنے کے نہیں، چھوڑیے اب وہ قصّہ پرانا ہُوا
🍁🍁
بس یونہی کبھی خزاں کے مُوسم میں، اکتوبر کی کسی اُداس شام کو، چاۓ کے کَپ سے پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے، کبھی سورج کو ڈھلتے دیکھ کر، چودھویں کے چاند کو تکتے ہوۓ، کبھی رات کے پچھلے پہر بے مقصد جاگتے ہوۓ، کہیں تنہا سفر میں، کوئی پُرانی غزل سُنتے ہوئے یا شاید کسی نظم میں کھو کر..
🍁🍁
یہاں تو دل کا یہ عالم ہے، کیا کہوں
کم بخت
بھلا نہ پایا وہ سلسلہ
جو تھا ہی نہیں
وہ اک خیال
جو آواز تک گیا ہی نہیں
وہ ایک بات
جو میں کہہ نہیں سکا تم سے
🍁🍁
آکھ مائے، ادھی ادھی
راتیں موئے متراں دے
اُچی اُچی ناں نہ لَوے
متے ساڈے موئیاں پِچھوں
جگ ایہہ شریکڑا نی
گیتاں نُوں وی چندرا کہوے
مائے نی مائے
میرے گیتاں دے نیناں وچ
برہوں دی رڑک پوے
ادھی ادھی راتیں
اُٹھ رون موئے مِتراں نُوں
مائے سانوں نیند نہ پوے..!
💔💔
میں بہت زیادہ اداس ہوں
سنا ہے لوگ اتنی اداسی میں خود کی جان لے لیتے ہیں
مجھے پیار سے سمجھاؤ
کہ اگرچہ زندگی مشکل ہے
مگر ہم بھی تو جی رہے ہیں
مجھے پیار سے سمجھاؤ
اور میں نہ سمجھوں تو
مجھے گلے سے لگائے رکھو
تا کہ میں اتنا تو جی سکوں جتنی دیر تک تم مجھے
گلے سے لگائے رکھتے ہو!
🍁🍁