سال 1923ء : ترکی کا ایک چھوٹا سا وفد مصطفیٰ کمال اتاترک کے سامنے بیٹھا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ہو چکے تھے، ملک ملبے کا ڈھیر تھا اور معیشت دم توڑ رہی تھی۔
اتاترک نے نقشے پر ہاتھ رکھا اور اپنے وزراء سے پوچھا، "ہم اس اتنے بڑے ملک کو ایک ہی مرکز سے کیسے چلائیں گے؟" وزراء خاموش رہے۔ اتاترک نے مسکرا کر کہا، "ہمیں طاقت کو مرکز میں بند کرنے کی بجائے کئ مراکز بنانے ہونگے،مرکز عوام کی دہلیز پر پہنچانا ہوگا"۔
آج ترکی کا کل رقبہ ہمارے صوبے بلوچستان سے صرف دو گنا بڑا اور پاکستان سے چھوٹا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس چھوٹے سے ملک کو انتظام چلانے کے لیے 81 صوبوں (Provinces) میں تقسیم کیا گیا ہے! وہاں کا ہر صوبہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے، وہاں کا گورنر اپنے علاقے کی ترقی کا ذمہ دار ہوتا ہے،
اور یہی وجہ ہے کہ آج انقرہ اور استنبول سے لے کر غازی انٹیپ تک، پورا ترکی ترقی کی دوڑ میں یورپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
آپ ترکی کو چھوڑیے، دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کو دیکھ لیجیے۔ اس ملک نے اپنے نظام کو چلانے کے لیے 50 ریاستیں بنا رکھی ہیں۔ وہاں رہوڈ آئی لینڈ (Rhode Island) جیسی ریاست بھی ہے جس کا رقبہ ہمارے ایک چھوٹے سے ضلع جتنا ہے، لیکن اس کا اپنا گورنر ہے، اپنی عدالت ہے اور اپنا بجٹ ہے۔
اب ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے۔ 24 کروڑ کی آبادی کا ملک پاکستان، اور صوبے صرف چار! ہمارا ایک صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے دنیا کا گیارہواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ آپ خود سوچیے، لاہور میں بیٹھا ایک وزیراعلیٰ راجن پور، صادق آباد، یا اٹک کے کسی چھوٹے سے گاؤں کے ہسپتال میں ڈاکٹرز کا چیک اینڈ بیلنس کیسے رکھ سکتا ہے یا ہر قصبے میں بنیادی سہولیات کیسے پہنچا سکتا ہے؟
یونان کے رقبے سے بڑا سندھ جہاں کے دادو میں غربت سے لڑکیاں بک رہی ہیں اور حکومت کو خبر نہی جہاں کے کئ اضلاع میں بھوک سے خودکشیاں ہو رہی ہیں لیکن صوبائی مرکز کو علم نہیں
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے صوبوں کے قیام کو انتظامی ضرورت کے بجائے "لسانی اور سیاسی" مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیا صوبہ بن گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ صوبے انتظامی بنیادوں پر بنتے ہیں، جیسے دکانیں بڑھانے سے کاروبار پھیلتا ہے، ویسے ہی صوبے بڑھانے سے ملک مضبوط ہوتا ہے۔ہمیں یہ کڑوی گولی نگلنا ہوگی۔ اگر ہمیں پاکستان کو چلانا ہے، اگر ہمیں کراچی سے لے کر چترال تک کے عوام کو سکھ کا سانس دینا ہے، تو ہمیں کم از کم 15 سے 20 نئے انتظامی صوبے بنانا ہوں گے۔ ورنہ مرکزیت کا یہ پہاڑ ایک دن پورے نظام کو اپنے نیچے دبا لے گا، اور ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
حجاب رندھاوا
چھوٹے صوبے تقسیم نہیں پاکستان کو جوڑنے کا فارمولا ہے
🚨کیا پاکستان کو واقعی ایک مضبوط اور پائیدار ریاست بنانا ہے یا اسی روایتی ڈھانچے کو گھسیٹنا ہے؟
اگر ہمارا مقصد ایک بااختیار اور مستحکم پاکستان ہے تو ہمیں نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کی تشکیل سے خوفزدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
آج 24 کروڑ سے زائد کی آبادی کو صرف چار بڑی انتظامی اکائیوں میں قید کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ نچلی سطح پر شدید انتظامی بدحالی بڑھتی ہوئی محرومی اور مرکزی شہروں پر غیر معمولی بوجھ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
جب جنوبی پنجاب کا نوجوان ہزارہ کا استاد اندرون سندھ کا کسان اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع کا باشندہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی کے فیصلے اس کی دہلیز سے سینکڑوں کلومیٹر دور بیٹھے حکمران کر رہے ہیں تو ریاست سے اس کا تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔
محرومی کے اس احساس کو ختم کیے بغیر قومی یکجہتی اور یکجہتی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
جب ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے اربوں روپے کا بجٹ اور تمام سیاسی و انتظامی اختیارات تقسیم ہوتے ہیں تو دور افتادہ اضلاع کا پسِ پشت چلے جانا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ اگر بہاولپور سرائیکی پٹی ہزارہ یا جنوبی بلوچستان جیسے علاقوں کو چھوٹے انتظامی صوبوں کا درجہ مل جائے تو اقتدار بجٹ اور ترجیحات کا محور وہاں کے مقامی لوگ ہوں گے۔
جب عوام یہ دیکھیں گے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کے اپنے علاقے کے ہسپتالوں سکولوں اور سڑکوں پر خرچ ہو رہا ہے اور ان کے مسائل کا حل انہی کے شہر میں موجود ہے تو ان کا ریاست پر اعتماد مضبوط ہوگا۔
محرومی کا خاتمہ حقیقت میں تمام تعصبات اور نفرتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔
اگر ہم دنیا کے کامیاب اور ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں ہی بہتر گورننس کی ضامن ہیں۔
امریکہ اپنی 33 کروڑ آبادی کو 50 ریاستوں کے ذریعے چلا رہا ہے جبکہ بھارت نے 140 کروڑ سے زائد آبادی کو سنبھالنے کے لیے 28 ریاستیں اور 8 مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بنا رکھے ہیں۔
اسی طرح ترکیہ جرمنی کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے بھی جغرافیائی اور انتظامی حجم کو چھوٹا رکھ کر ہی تیز تر معاشی ترقی شفافیت اور عوام تک آسان رسائی حاصل کی ہے۔
1947 کا چار صوبوں والا ماڈل 2026 کے جدید اور گنجان پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ چھوٹا صوبہ ناصرف گورننس کو شفاف بناتا ہے بلکہ کرپشن کے خاتمے اور عوامی احتساب کو بھی ممکن بناتا ہے۔
نئے صوبوں کی ہر تجویز کو ملک توڑنے کی سازش یا تعصب کا نام دینا ایک انتہائی گمراہ کن بیانیہ ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط کیا ہے کمزور نہیں۔ ماضی میں دیکھ لیجیے جب 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو زیادہ اختیارات دیے گئے یا گلگت بلتستان کو انتظامی شناخت ملی تو وفاق پہلے سے زیادہ مستحکم ہوا اور عوام میں ریاست سے وفاداری کا جذبہ بڑھا۔
جب کسی خطے کے بچے کو اپنی شناخت اور وسائل پر اختیار ملتا ہے تو وہ کسی تفریق کے بغیر فخر سے میں پاکستانی ہوں کا نعرہ لگاتا ہے کیونکہ ریاست نے اسے دیوار سے لگانے کے بجائے گلے سے لگایا ہوتا ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ پاکستان کی کثیر الثقافتی اور مختلف زبانیں اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا اصل حسن ہیں۔ ملک میں 16 یا 20 انتظامی صوبے بنانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم وفاق کی عمارت کو چار کے بجائے بیس مضبوط اور پائیدار ستونوں پر کھڑا کر رہے ہیں۔
نئے صوبے جغرافیائی نفرتیں نہیں بلکہ وسائل اور سہولیات بانٹیں گے اور اقتدار کو چند مخصوص خاندانوں یا شہروں سے نکال کر عام عوام کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم بڑے صوبوں کی روایتی ضد چھوڑ کر ایک بہتر جدید اور مضبوط پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
#ام_حریم
#نٸے_صوبے #سیاست_نہیں_ریاست
@narendramodi Highlights from Tashkent look nice on X, but when will we see highlights of actual solutions for the problems ordinary Indians are dealing with every day?
کے پی کے کی تاریخ میں یہ سیاہ باب لکھا گیا کہ حکومت ملی تو کام بھول گئے، کرپشن یاد رہی۔ وعدہ انصاف تھا مگر عمل ناانصافی؛ جو شخص ان حقائق کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرتا، اسے دشمن قرار دے کر بلاک کر دیا جاتا
#انقلابی_ڈر_گئے#یوتھئیے_ڈر_گئے#یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے