گرمی قیامت ڈھا رہی ہے۔ درجہ حرارت 40 ڈگری کراس کر چکا ہے۔ سورج آگ برسا رہا ہے۔ چھتیں تنور بن چکی ہیں۔ غریب آدمی پسینے میں نہا رہا ہے۔ پنکھے لو پھینک رہے ہیں۔ ہم اس عذاب سے بچنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
ہم کمروں میں مہنگی سیلنگ (Ceiling) کرواتے ہیں۔ ہزاروں روپے لگاتے ہیں۔ کیا اس سے گرمی رکتی ہے؟ جی نہیں۔ یہ ایک وقتی دھوکا ہے۔ سیلنگ سورج کی شعاعوں کو براہ راست نہیں روکتی۔ چھت پھر بھی تپتی رہتی ہے اور حبس بڑھتا رہتا ہے۔
پھر اس کا حل کیا ہے؟ حل بہت سادہ ہے۔ حل بہت سستا ہے۔ آپ سن کر حیران ہوں گے۔ یہ حل صرف چھ سو سے سات سو روپے کا ہے۔ یہ 5 مرلے کے گھر کا مکمل خرچہ ہے۔ آپ آج مارکیٹ جائیں۔ وہاں چھت ٹھنڈی کرنے کا ریٹ 70 روپے فی اسکوائر فٹ ہے۔ عام آدمی یہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ لیکن آج میں آپ کو ایک ایسا آزمودہ فارمولا بتا رہا ہوں جسے درجنوں لوگوں نے آزمایا ہے۔ یہ سائنس بھی ہے۔ یہ حکمت بھی ہے۔ اور یہ سو فیصد کام کرتا ہے۔
آپ کاغذ پینسل لیں۔ ایک مرلے کا حساب لکھ لیں۔ آپ نے ایک کلو سفید سیمنٹ لینا ہے۔ ایک کلو چونا لیں۔ چونے کو کم از کم ایک یا دو دن پانی میں بھگو کر رکھیں۔ اب اس میں آدھا کلو نمک ملائیں۔ آدھا کلو پھٹکری ڈالیں۔ اگر پھٹکری نہ ملے تو ایک کلو گلو (Glue) لے لیں۔ نمک اور پھٹکری کو پانی میں گھولیں۔ اور انہیں چونے اور سیمنٹ میں ملا دیں۔ اسے اچھی طرح مکس کر کے ایک گاڑھا محلول بنائیں۔
اب اسے چھت پر لیپ کر دیں۔ خیال رہے، سطح جتنی ملائم ہوگی، نتیجہ اتنا ہی شاندار ہوگا۔
یہ کام کیسے کرتا ہے؟ پڑھے لکھے لوگ اور دانشور جانتے ہیں کہ سائنس اسے "البیڈو ایفیکٹ" (Albedo Effect) کہتی ہے۔ سفید رنگ حرارت اور روشنی کو منعکس (Reflect) کرتا ہے۔ سورج کی شعاعیں چھت سے ٹکراتی ہیں اور واپس لوٹ جاتی ہیں۔ اس فارمولے میں نمک کیا کرتا ہے؟ یہ نمی کو کنٹرول کرتا ہے اور ہیٹ آبزرور ہے۔ اور پھٹکری؟ یہ پانی کے ساتھ ری ایکٹ کر کے ایک ایسا محلول بناتی ہے جو سفیدی کو واٹر پروف کر دیتا ہے۔ بارش آئے گی، پر سفیدی نہیں اترے گی۔
یہ کوئی ہوائی بات نہیں، ایک آزمائی ہوئی حقیقت ہے۔ آپ شام کو یہ لیپ کریں۔ اگلے دن دوپہر کو چھت پر جائیں۔ درجہ حرارت 40 سے اوپر ہوگا۔ سورج سوا نیزے پر ہوگا۔ لیکن آپ اس چھت پر ننگے پاؤں چل سکیں گے۔ فرش پرسکون ہوگا۔ رات کو کمرے میں پنکھا چلائیں۔ آپ کو وہی پنکھا ٹھنڈی ہوا دے گا۔ کولنگ بہتر ہو جائے
منقول
منیب فاروق جیسے لوگ چوہدری کے سیلز مین ہوتے ہیں۔ یہ وہ مزارے ہیں جو پورے گاؤں میں کہتے ہیں کہ چوہدری یہ کر دے گا وہ کر دے گا۔ ان لوگوں کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ منیب فاروق جیسے لوگ دیگ صاف کرنے والے ہوتے ہیں، مطیع اللہ جان
عمران خان، آپ کہاں ہیں؟ ہمیں اس وقت آپ کی آواز کی ضرورت ہے! تُرگے ایورن، ترک لیکچرار، مصنف , شاعر
@TurgayEvren1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan
@jawadahmadone اگر کمپنی نے شہبازو کے علاوہ کسی کو وزیراعظم بنایا تو تمہیں ہی بنائے گی کیونکہ تمہاری عادتیں بالکل شہبازو سے ملتی جلتی ہیں یعنی بلکل عقل سے فارغ اور تلوے چ ٹ