@nuzionline اوہ اچھا۔ میں بھی سمجھا ہمارے ادھر تو بہت ہی صاف ستھرا اور مزے کا موسم ہے۔ اب پتا چلا ہمارا دھواں بھی قیمتی ہے جو شکاگو والوں نے لے لیا ہے۔🥱😊
@Vocalist30 زینب اب مجھے یو ٹیوب دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی جتنا جیسا اور کمال کا مٹیریل آپ چئیر کر رہی ہو۔ میں تو اب یہی والی آپ کی یو ٹیوب کا ہی سہارا لے لیا کروں گا۔ کمال کی فراغت لگتی ہے آجکل آپ کے ایریا میں۔ شکراً
صحیح بالکل صحیح! انفرادی طور پہ لوگ ایسے نہیں ہیں انہیں بھیڑوں کی ایک واڑے میں رکھا جاتا ہے تا کہ وہ ایک ہی طرح سوچیں اور ایک ہی طرح کا گھاس کھائیں جو ان کو دیا جاتا ہے تب جاکے دولے شاہ کے چوہے وجود میں آتے ہیں۔ کوئی تو ہے جو نظام خلقت چلا رہا ہے!
عام لوگوں کے لئیے صبر اور شکر اور جس حال میں ہوں اسی حال میں دنیا سے رخصتی اور سیدھا جنت میں داخلہ! کبھی سنا ظلم اور جبر بچوں سے زیادتی، جھوٹے بلاسفیمر اور غریبوں کا خون چوس کر پیریاں مریدیاں چمکانے والوں کے خلاف کوئی خطبہ دیا ہو!
ساڑھے دس کروڑ کی مرسیڈیز 👆🏾👆🏾 سے اتر کر طاہر القادری نے ٹورنٹو کے سب سے مہنگے ترین ہوٹل کے کانفرنس ہال میں سامنے بیٹھے کینیڈینز نیشنلٹی رکھنے والے کروڑ پتی پاکستانی کمیونٹی کو غوث پاک سے منسوب چند جھوٹی کہانیاں سنائیں ،
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سادگی اور قناعت کا درس دیا اور کہا کہ وہ خلیفہ ہوکر بھی پتھر پر سر رکھ کر سوتے تھے ،
پھر حضرت فاطمہ بنت محمد سلام اللہ علیہا کی پھٹی ہوئی چادر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مفلسی کی داستان سنائی اور اسکے بعد فائیو سٹار بوفے میں پڑے تین درجن مختلف کھانے تھوڑے تھوڑے کرکے چکھے ،
آخر میں درود شریف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرانسیسی ڈیزائنر کا بنایا ہوا چغہ اور واسکٹ سنبھالتے ہوئے اپنے پوتے کے ساتھ واپس ساڑھے دس کروڑ کی مرسیڈیز میں بیٹھ گئے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے کیوبک کے مضافات میں بنے چھ ایکڑ رقبے پر تعمیر کئے ہوئے عالیشان فارم ہاوس روانہ ہوگئے ۔
فائیو سٹار ہوٹل کا کانفرنس ہال پچیس ہزار کینیڈین ڈالرز میں بک ہوا تھا جس میں بوفے اور ڈنر بھی شامل تھا۔
*پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی*
*جنت تیرے قبضے میں ہے دوزخ تیرے گھر کی*
چندہ دیتے رھنا پاکستانیو۔ 😔 🤔
@MusrratRukhsana یہ فارغ لوگ ہیں۔ جو لوگ کام کرتے ہیں دن بھر اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا جتن کرتے ہیں ان کے پاس ایسے ڈھکوسلے کرنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا۰ باقی سب دکھاوا ہے تا کہ لوگ سمجھ سکیں کہ اب یہ نیک ہو گئے ہیں، یقین کریں
اصغرؑ کی اَلَعطَش نے کہانی کی آنکھ سے
پانی نکلتے دیکھا ہے پانی کی آنکھ سے
دُکھ دیکھیے حسینؑ مدینہ ہیں دیکھتے
اور دیکھتے ہیں نقل مکانی کی آنکھ سے
پھر یوں ہوا کہ موت نے خود کو ذبح کیا
اکبؑر کو دیکھ بیٹھی جوانی کی آنکھ سے