وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ سرگودا یونیورسٹی کے طالب علم نصیب جان سکنہ بارکھان کو فورسز نے بارکھان میں انکے گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا، جو باعث تشویش ہے، جسکی مذمت کرتے ہیں
اور بلوچ طالب علم کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
We are concerned about the disappearance of a Baloch student, Naseeb Jan S/O Misri Khan, a resident of Barkhan, from his home on July 29, 2025. He is a student of fine arts at the University of Sargodha.
We denounce the surge in enforced disappearances of Baloch students studying in Pakistan’s Punjab and Islamabad.
#EndEnforcedDisapperances
رات 1 بجے رکنی میں سی ٹی ڈی کا گھر میں گس کر میرے کزن چیرمین میاں خان اور دو طلبہ کو ہراست میں لے کر نامعلوم جگہ منتقل کردیا گیا تمام انسانیت پسند لوگوں سے گزارش ہے کہ آواز بنیں
#SaveMianKhanKhetran#Salalkhetran#Satarkhetran
گزشتہ رات تقریباً رات 1 بجے، سی ٹی ڈی بارکھان نے نیشنل پارٹی کے سرگرم رکن اور یونین کونسل کچھ بغاو کے منتخب وائس چیئرمین، میاں خان گڈیانی کے گھر پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے انہیں زبردستی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔۔
اگر ان پر کوئی الزام ہے تو آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق ایف آئی آر سامنے لائی جائے۔
چادر اور چار دیواری کی پامالی کے اس عمل پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کی جائے۔
بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ہ
یہ عمل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 10-A (فئیر ٹرائل) اور آرٹیکل 14 (چادر و چار دیواری کا تحفظ) کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری نظام میں منتخب عوامی نمائندوں کی تذلیل بھی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
. میاں خان گڈیانی، سلال اور ستار کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے،
یہ عمل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 10-A (فئیر ٹرائل) اور آرٹیکل 14 (چادر و چار دیواری کا تحفظ) کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری نظام میں منتخب عوامی نمائندوں کی تذلیل بھی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
. میاں خان گڈیانی، سلال اور ستار کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے،
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس چھاپے میں میاں خان کے بیٹے سلال اور بھتیجے ستار کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اہل خانہ کو ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ یا معلومات نہیں دی گئیں، نہ ہی کسی عدالتی حکم نامے یا ایف آئی آر کی نقل دکھائی گئی۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس چھاپے میں میاں خان کے بیٹے سلال اور بھتیجے ستار کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اہل خانہ کو ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ یا معلومات نہیں دی گئیں، نہ ہی کسی عدالتی حکم نامے یا ایف آئی آر کی نقل دکھائی گئی۔
گزشتہ رات تقریباً رات 1 بجے، سی ٹی ڈی بارکھان نے نیشنل پارٹی کے سرگرم رکن اور یونین کونسل کچھ بغاو کے منتخب وائس چیئرمین، میاں خان گڈیانی کے گھر پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے انہیں زبردستی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔۔
گزشتہ رات تقریباً رات 1 بجے، سی ٹی ڈی بارکھان نے نیشنل پارٹی کے سرگرم رکن اور یونین کونسل کچھ بغاو کے منتخب وائس چیئرمین، میاں خان گڈیانی کے گھر پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے انہیں زبردستی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔۔
بلوچ عورتوں کو جن لوگوں نے کمزور لکھا، قبائلی نظام کی مظلوم آواز قرار دیا،آج وہی لوگ انہی عورتوں کو ایجنٹ اور اینٹی اسٹیٹ کہہ رہے ہیں۔
بلوچ عورت نہ 1970 میں کمزور تھی، نہ2025 میں۔ ریاست کو سمجھنا چاہیے کہ ریاستی بربریت کی سب سے بڑی قیمت بلوچ عورت نے چکائی ہے۔
#StopBalochGenocide
Dr Mahrang Baloch, world renowned woman human rights defender and vocal campaigner for the rights of the Baloch community in Pakistan, has consistently spoken out against ongoing violations by the Pakistani police, military and intelligence agencies.
In our Global Analysis 2024/25, she found the strength to reflect and uplift fellow defenders globally —writing words of encouragement and solidarity from a detention cell, a profound act of selflessness.
Get inspired and read her full reflections in the foreword of the Global Analysis 2024/25: https://t.co/b3kYbYMPno
تمام افراد سے اپیل ہے کہ آج بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں سے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہیں تھری ایم پی او جیسے کالے قانون کے تحت قید کر کے ان کے بنیادی انسانی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ آئیے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور انصاف کا ساتھ دیں۔
#ReleaseBYCLeaders#StopBalochGenocide
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، بیبو گلزادی، بیبگر شاہ جی بلوچ، غفار بلوچ اور زہیر بلوچ کو 45 دن سے زائد ہو چکے ہیں کہ وہ جھوٹے اور غیر قانونی مقدمات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ یہ وہ سیاسی جہدکار ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے، اور ریاستی جبر کو للکارا۔ ماما غفار جیسے باپ کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ بیبو بلوچ جیسے مظلوم سیاسی قیدی کے والد ہیں۔ کیا اب صرف رشتہ دار ہونا بھی جرم بن چکا ہے؟
آج پاکستان میں سیاسی کارکن بننا، بلوچ ہونا، یا صرف انصاف کا مطالبہ کرنا جرم تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ گرفتاریاں کسی ایک فرد یا چند آوازوں کی بندش نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی سزا دینے کی ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ لیکن یاد رہے، یہ سیاسی قیدی نہیں بلکہ عزم، شعور اور مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔
ان اسیران کے چہروں پر خوف کے بجائے ہمت ہے۔ وہ صرف سیاسی کارکن نہیں، ایک زندہ تحریک، ایک سوال، اور ایک حقیقت ہیں جسے نہ جیل کی سلاخیں روک سکتی ہیں، نہ جبر کی دیواریں۔ ان کی قید کا مقصد صرف ایک تحریک کو روکنا نہیں بلکہ انصاف، وقار اور بلوچ قوم کی بقا کو کچلنا ہے۔
ایسے میں بلوچ قوم پر فرض ہے کہ وہ خاموش نہ رہے۔ ان اسیران کے ساتھ، ان کے پیچھے، اور اس مقصد کو لیکر ہم قدم ہو۔ کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہماری اپنی آواز بھی سننے والا کوئی نہ ہوگا۔
#ReleaseBYCLeaders
1/3My family went to meet Beebow today. She has been subjected to severe torture. First, they went to Huda Jail but were not allowed inside. They were told that Beebow is there in Huda Jail. After insisting on meeting her, female police constables arrived and threatened to arrest
ہمیں کیا کرنا ہے؟
میرے جرات مند ساتھیوں!
ہمارے لیے آج یہ سوال بہت اہم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ آج، جس وقت میں یہ خط کال کوٹھریوں سے تحریر کر رہی ہوں، اس وقت ہماری تنظیم اور تحریک بدترین ریاستی مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہمارے متعدد ساتھی جیلوں میں قید ہیں، اور جیل سے باہر ہماری تنظیم پر بدترین قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ میرے نزدیک اہم سوال یا اہم مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم پر تشدد کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے یا ہم جیلوں میں قید ہیں، بلکہ میرے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں بحیثیتِ تنظیم ان حالات میں کیا کرنا ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم اس سوال پر غور و فکر کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو شاید ہم بحیثیتِ تنظیم آگے نہ جا سکیں۔
جب میں گرفتار ہوئی، میرے ساتھی گرفتار ہوئے، تنظیم پر بدترین جبر (کریک ڈاؤن) (ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس لفظ “کریک ڈاؤن” کا بھی غلط استعمال کر رہے ہیں، ہم پر کریک ڈاؤن نہیں ہو رہا بلکہ ہم کالونیل جبر کا سامنا کر رہے ہیں) کا آغاز ہوا ہے، تو اس صورتِ حال کا خاصا اندازہ تو ہمیں اور ہماری تنظیم کو پہلے سے تھا، لیکن پھر بھی ہمیں حالات کی گہرائی سے جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔
میرے ساتھیوں،
میرے نزدیک تشدد، گرفتاری، جیل یا ان کے ردِعمل میں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ کرنا شکست کی علامت نہیں ہے، اور میں قطعی طور پر ایسی باتوں پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رکھتی ہوں۔ میرے نزدیک شکست، سیاسی اور فکری پسماندگی ہے۔ جب ہم سیاسی اور فکری طور پر پسماندہ ہو جائیں یا کھوکھلے ہو جائیں، تو وہ دن ہماری شکست کا دن ہوگا۔ان حالات میں ہماری دیگر اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ سیاسی کارکن اپنے آپ کو سیاسی اور فکری پسماندگی سے کیسے محفوظ رکھیں گے۔ فکری پسماندگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ “تنظیم” ہے۔ لیکن صرف تنظیم کا ہونا ازخود کافی نہیں ہے،بلکہ تنظیم میں مرکزیت کے گرد ایک ترقی یافتہ سیاسی شعور کا موجود ہونا بھی ضروری ہے، جو پورے ایک نیٹ (جال) کی طرح یونٹ سے لے کر مرکز تک تمام کیڈرز اور ذیلی اداروں کو اس ترقی یافتہ سیاسی شعور سے لیس کرے۔
اگر ہم تنظیمی اور تحریکی ترقی چاہتے ہیں، اور اپنے آپ کو سیاسی پسماندگی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو اس وقت ہماری تمام تر توجہ ان امور پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس نکتہ سے انکار کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ اس وقت ہمارے پاس نہ صرف سیاسی شعور سے لیس تنظیم موجود ہے بلکہ عہدِ حاضر میں وہ منظم بھی ہے۔ لیکن اپنی موجودہ حیثیت پر مکمل طور پر مطمئن ہونا یا خوش فہمی کا شکار ہونا، اپنے آپ کو جمود کا شکار کرنے جیسا ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت ترقی اور آگے بڑھنے کے سفر کو نہیں روکنا چاہیے، اور اس کے لیے ہمیں مسلسل محنت، غور و فکر، اور جستجو جیسے تخلیقی ماحول کو پروان چڑھانا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بی وائی سی جیسی تنظیم کسی حادثے یا ایک مخصوص ایونٹ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو کی پیداوار ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے بھی مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو ضروری ہے۔
میرے دوستوں،
ہمارے لیے ہر وقت تنظیم اعلیٰ اور اہم رہی ہے، اور اسے ہمیشہ اہم و اعلیٰ ہونا چاہیے، کیونکہ ہم جس جبر کے نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اُسے ایک منظم تنظیم کے بغیر شکست دینا ناممکن ہے۔لہٰذا، اس وقت ہماری توجہ ایک منظم تنظیم پر ہونی چاہیے۔ہمیں کسی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے جذبات کو عقل پر حاوی نہیں ہونے دینا ہے۔ہمیں کسی بھی ایسے نقطے سے دور رہنا ہے جو ہماری تنظیم کی اجتماعی قوت کو کمزور کرے۔ہمیں بد سے بدترین صورتِ حال میں بھی منتشر نہیں ہونا ہے۔منظم رہنا ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ہمیں ہر طرح کی صورتِ حال میں منظم رہنا ہے۔ہمارے ہر ایک کارکن کو اپنے نفسیات اور اعصاب پر مکمل اختیار ہونا چاہیے، اور کسی بھی دباؤ کی صورت میں ایسے عمل سے اجتناب برتنا چاہیے جس سے تنظیم اور اجتماعی مقصد متاثر ہو۔ معمولی سے معمولی فیصلہ لینے کے لیے بھی ہمیں حالاتِ حاضرہ کا مکمل ادراک ہونا ضروری ہے۔ہمیں سوشل میڈیا کی کج بحثی سے متاثر ہو کر کسی بھی صورت تنظیمی فیصلے نہیں لینے ہیں۔
کامیابی ہر حال میں ہماری ہے، بس ہمت، جرأت اور غور و فکر سے اس جدوجہد کو آگے لے جانا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل، کوئٹہ
15اپریل 2025
آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی غیرقانونی قید میں 3MPO کے تحت تیس دن کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں پُرامن شہریوں کو بغیر جرم قید کیا جاتا ہے اور حقیقی مجرم آزاد گھومتے ہیں یہ کیسا آئین ہے جو سچ بولنے والوں کو سزا دیتا ہے، اور ظلم کرنے والوں کو تحفظ؟
یہ ایک مہینہ گزر چکا ہے تکلیف دہ، اذیت ناک تیس دن جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو غیرقانونی طور پر 3MPO کے تحت قید کیا گیا۔ اس پورے مہینے میں ہم نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر آئینی راستہ اپنایا، جو اس ملک کے قانون میں ہمیں حاصل تھا۔ لیکن ہر موڑ پر ہمیں انصاف نہیں، تذلیل ملی۔ عدالتوں نے ہمیں مایوس کیا۔ انصاف کے نظام نے ہمیں ٹھکرا دیا۔ ہر سرکاری دفتر نے نہ صرف بے حسی کا مظاہرہ کیا بلکہ ہمیں طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا جیسے روز ہمیں یاد دلایا جا رہا ہو کہ ہم اس ملک کے شہری نہیں بلکہ دشمن ہیں۔
جب لوگوں نے پُرامن احتجاج کیا تو اُن پر ظلم ڈھایا گیا۔ اُن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، خاندان کے افراد کو ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا۔ ریاست نے صرف ہماری آواز کو دبانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ میڈیا اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہمیں بدنام کرنے کی مہم شروع کی۔ ہمیں پُرامن مظاہرین کی بجائے ایک خطرہ، مسلح گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اُس وقت بھی یہ جھوٹ تھا، آج بھی جھوٹ ہے۔ ہم کل بھی پُرامن تھے، آج بھی ہیں۔ لیکن آخر کب تک ہم برداشت کریں گے جب ہر طرف سے صرف جبر، تحقیر اور زیادتی ہی ہمارا مقدر بنا دی جائے؟
یہ صرف بنیادی حقوق کی لڑائی نہیں، یہ ایک ذاتی زخم ہے۔ ایک خاندان کی، ایک بہن کی، ایک ایسی عورت کی جو پہلے ہی اپنے والد کا سایہ کھو چکی ہے۔ میں وہ درد جانتی ہوں جو دل میں ایک خالی پن چھوڑ جاتا ہے۔ اور اب، میری بہن میری روشنی، میری طاقت، میری صبر اور ہمدردی کی استاد زندان میں ہے۔ میں یہ تکلیف اس وقار کے ساتھ سہہ رہی ہوں جو اُس نے مجھے سکھایا لیکن ہر کوئی اتنا مضبوط نہیں ہوتا۔ اگر ریاست کا یہی رویہ رہا تو کتنے اور لوگ صبر کی اس آخری لکیر سے آگے نہ نکل جائیں گے؟
بس بہت ہو چکا۔ ہم کوئی مجرم نہیں ہم پُرامن لوگ ہیں جو باوقار زندگی کے حق کے لیے کھڑے ہیں۔ چاہے آپ جتنے چاہیں ہمیں قید کریں، ہم خاموش نہیں ہوں گے۔
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
The immediate release of the Baloch Yekjehti Committee (BYC) leaders is not only necessary because they are our companions and we cannot bear their suffering, but more importantly, because enforced disappearances in Balochistan are taking an increasingly horrific turn. Every passing day, forcibly disappeared individuals are being killed in staged encounters and sent back as corpses. Baloch mothers are losing their children, their wait turning into a harrowing nightmare. In just the past month, over twenty individuals have reportedly been killed in fake encounters. The ongoing wave of enforced disappearances is deeply distressing.
We demand the immediate release of the BYC leaders that together we can raise a strong, unwavering voice against enforced disappearances and extrajudicial killings.
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
اگر سڑکیں بند کرنا ہی مسئلہ ہے، تو بلوچ شہریوں کو پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟
اگر مسئلہ محض مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) ہے، تو بیبرگ کے اُس بھائی کو کیوں قید کیا گیا ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں؟ اُس کی 3MPO کی توسیع بغیر کسی واضح وجہ کے کیوں کی گئی؟
اگر مسئلہ میرے ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے، تو میرے والد کو کس جرم میں پچھلے پندرہ دنوں سے قید رکھا گیا ہے؟
اگر معاملہ حق اور انصاف کا ہے، تو سریاب کی سڑکوں پر قتل کیے گئے معصوم افراد اور وڈھ میں جاں بحق ہونے والے شہری کے لیے ریاست انصاف فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہی؟
اگر بات بیانیے (نیرٹیو) کی ہے، تو ریاست اپنے بیانیے کو عوام میں مقبول بنانے کے لیے مالی وسائل کا سہارا کیوں لے رہی ہے؟ یہ بیانیہ عوامی حمایت سے خود بخود مقبول کیوں نہیں ہو پا رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ معاملہ روزِ اول سے ہی بلوچ نسل کشی کا ہے،یہ ہر اُس بلوچ کا معاملہ ہے جو خاموشی میں قتل کیا گیا۔ بلوچ قوم کی نسل کشی کوئی نئی بات نہیں۔یہ ایک مسلسل، منظم اور ریاستی پالیسی کا حصہ ہے جو روزِ اول سے جاری ہے۔ ہر خاموشی سے قتل ہونے والا بلوچ، ہر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا فرد، اس سچائی کی زندہ گواہی ہے۔
ریاست ایک منصوبے کے تحت بلوچ کو اس کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ وسائل پر قبضے، جبری گمشدگیاں، اور جھوٹے بیانیے، یہ سب اس نسل کشی کو چھپانے کی کوششیں ہیں۔
جب ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں، جب ہر روز پریس کانفرنسوں میں حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، تب بھی بلوچوں کا بہتا خون چیخ چیخ کر سچ بول رہا ہے۔ ہر لاش، ہر احتجاج، ہر گمشدہ چہرہ اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچ قوم کو منظم انداز میں مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے
مگر بلوچ قوم فیصلہ کرچکی ہے کہ ہم لکھتے رہیں گے، بولتے رہیں گے اس سچائی کی جدوجہد کو ریاستی زر خرید سپاہی شکست نہیں دے سکتے۔ ان کے پاس صرف دولت کی لالچ ہے، ہمارے پاس نظریہ اور سچے جذبات کی طاقت ہے۔
باشعور عوام!
ریاست کی بوکھلاہٹ روزِ اول سے عیاں ہے۔ “تھری ایم پی” محض ایک بہانہ ہے، اصل مقصد بلوچ نسل کشی میں شدت لانا اور بلوچ قوم کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔ جعفر ایکسپریس سے جڑے واقعے کو (BYC) سے جوڑ کر ریاست ہم سے وابستہ عوامی ہمدردیوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ریاست کو مسئلہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ یا گلزادی بلوچ سے بطور افراد نہیں، بلکہ ان کی بیدار، توانا اور حق پر مبنی آوازوں سے ہے۔ ڈاکٹر ماہرنگ اور بیبو بلوچ کی تھری ایم پی میں بلاجواز ایک ماہ کی توسیع ریاستی عزائم کا واضح ثبوت ہے۔
اس منظم کریک ڈاؤن کا واحد جواب یہی ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو مزید منظم اور با اثر بنائیں۔ سچائی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں کیونکہ ظلم کے جھوٹ کے خلاف سچ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اپنی جدوجہد جاری رکھیں! مظلوم کی سچائی کبھی ہار نہیں سکتی، اور دنیا کا کوئی خریدا گیا بیانیہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide