سولین کا ملٹری ٹرائل واضح طور پر آئین کے آرٹیکل 175(3)، 10A اور 9 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ سرکاری خفیہ ایکٹ صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کوئی ممنوعہ جگہ پر پہنچتا ہے۔ قانون اور ریکارڈ کے مطابق کور کمانڈر ہاؤس ممنوعہ جگہ نہیں ہے، اسے کبھی بھی ممنوعہ جگہ قرار نہیں دیا گیا۔ ایک کرنل آرمی کا افسر ہے، جو ایگزیکٹو کا حصہ ہے، جج کا کردار نہیں سنبھال سکتا۔ اس کا نتیجہ صرف ناانصافی کی صورت میں نکلتا ہے-@SalmanKNiazi1
“Our belief is لا الہ الا اللہ — and WE WILL FIGHT!” 🇵🇰
This is what a fearless leader, Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan, declared in the face of India’s expansionist threats.
In the face of external threats, a sovereign nation must respond with strength and unity. That unity is only possible under true leadership!
It is time to release and consult Imran Khan, the voice of the people, the leader of the largest political party, and the only one capable of rallying the nation against any external aggression.
#FreeImranKhan
ان کی عقل پر افسوس جنہوں نے یہ سمجھا کہ ڈنڈے کے زور پر سوچ بدل سکتی ہے! تین سال کے ظلم اور جبر کے بعد بھی عوام وہیں کھڑے ہیں۔۔۔۔ عمران خان کے ساتھ!
#WeWantFreeImranKhan
کل ملٹری قید سے رہا ہونے والوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر کافی دیر سوچا کہ اتنی مشکلات کے باوجود وہ سب چٹان کی طرح کیسے کھڑے ہیں اپنے نظریے پر۔ ایک ہی بات سمجھ آئی کہ سب دل و جان سے عمران خان اور پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور ظلم سہنے کے بعد وہ اور مظبوط ہو گئے ہیں۔ ان سب نے وقت بدل دیا! #2025YearOfImranKhan
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام:
“مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 اس قوم کے لیے حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
رجیم چینج کے بعد ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نیا سرمایہ آنے کی بجائے صنعت کار اپنی انویسٹمنٹ نکال رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت کی اس بدحالی کی 4 بنیادی وجوہات ہیں:
نمبر 1: ملک میں قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کا خاتمہ
ملٹری کورٹس سے سویلینز / سیاسی قیدیوں کو سزائیں دلوا کر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا منہ کالا کیا ہے- ملٹری کورٹس اور “آئینی بنچ” بنا کر ملک سے رول آف لأ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس سے ہمارا “جی ایس پی پلس” سٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے- ملٹری کورٹس کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب بیرونی سرمایہ کاری ایک خواب ہے کیونکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھایا جا چکا ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ دباؤ کے ذریعے وقتی طور پر دکھاوے کا استحکام تو لا سکتے ہیں مگر جب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ایک ہی بنیادی ستون ہے جو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہے۔
نمبر 2: انٹرنیٹ کی بندش
تحریک انصاف کو کرش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا ہے۔ مستقبل IT کا ہے لیکن آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ حکومت نے انٹرنیٹ میں خلل پیدا کر کے نوجوانوں کے روزگار کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر کر دیا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے- وہ سارے کاروبار جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے-
نمبر 3 : سیاسی عدم استحکام
ایجینسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فراڈ الیکشن اور جھوٹ ، فریب پر کھڑے جعلی نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔
نمبر 4: دہشت گردی
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشتگردی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میں بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ آپ کو دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے دیرپا سیاسی حل نکالنا ہو گا، ورنہ دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناممکن ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دھڑلے سے جھوٹ بولا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی تجویز خود جنرل باجوہ نے تحریک انصاف دور میں کابینہ کے سامنے پیش کی تھی جس پر مراد سعید ، نور الحق قادری اور قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم دیرپا حل کی طرف نہیں لے جائے گا۔ کابینہ کے بعد اس وقت کی اپوزیشن کو بھی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کیطرف سے بریفنگ دی گئی تھی ۔ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد PDM حکومت کو بریف کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2021 میں جنرل فیض کا تبادلہ ہو گیا اور اسکے بعد کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا نہ اس پر ہمارے دور میں عمل ہوا۔
اگر آبادکاری سے ہی دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو مغربی بارڈر کے پار بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقل حل کے لیے اپنی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا ناصرف اعتراف کرنا ہو گا بلکہ تصحیح بھی کرنا ہو گی۔
آئی ایس پی آر کو جواب تو ملٹری کورٹس پر بھی دینا چاہیے، کون سا قانون آپ کو جج ، جیوری اور خود ہی جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے؟ ملٹری کورٹس کے ٹرائل شفافیت پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے دو مطالبات بالکل جائز اور فوری عمل درآمد کے لئے ہیں- 26ویں آئینی ترمیم کو ہم نے اس لیے فوری مطالبات کا حصہ نہیں بنایا کیونکہ وہ طویل کام ہے۔
حکومت اگر مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیتی تو ہماری ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم پورے زور سے جاری رہے گی-
نواز شریف اب صرف سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے-
1/2
30 years ago, a son kept his promise to his mother, founding #SKMCH Lahore—a lifeline for thousands.
With your support, we built SKMCH Peshawar & are now building SKMCH Karachi.
Donate today: https://t.co/8VpjKdLQnn
#30YearsOfHope
یہ گولیاں چلا کر ملٹری کورٹس سے سزائیں دے کر قوم کو ڈرانا چاہتے ہیں؟
جبکہ لوگ ایسا جذبہ دکھا رہے ہیں کہ دیکھنے والے بھی حیران ہیں کہ یہ لوگ تو بلکل گھبرائے ہوئے نہیں ہیں-
#سول_نافرمانی_کی_تحریک جاری رہے گی، #گولی_کیوں_چلائی کا سوال بھی ہوگا
شہید ملک ادریس عمران خان کی رہائی کے لیے روزے رکھ رہے تھے اور جس دن انکو گولی لگی وہ روزے کی حالت میں تھے اور اس دن انکا 478 واں روزہ تھا، فوجی سنائپر نے انہیں سیدھی گولی مار کر زخمی کیا اور آج وہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
#گولی_کیوں_چلائی