We salute the Iranian nation for its extraordinary resilience and unmatched resistance. The reality is that in this war, Donald Trump and Netanyahu brought nothing but humiliation to the United States and Israel.
There was no regime change, the missile program was not dismantled, and the nuclear issue will ultimately be addressed through negotiations. Even the Strait of Hormuz was not closed by Iran during the war itself.
The United States and Israel suffered moral, diplomatic, and military defeat, while the dignity and stature of the Iranian nation rose further.
Pakistan’s diplomatic efforts toward a ceasefire are commendable, especially its role in helping improve the situation between the Gulf states and Iran. Saudi Arabia also showed restraint, which deserves appreciation.
What is needed now is for Iran and Türkiye to be included in the Pakistan–Saudi defense framework. Pakistan should pursue independent trade with Iran, purchase petroleum products, and immediately complete the Pak-Iran gas pipeline project.
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت صرف ایران نہیں پوری امت مسلمہ کا نقصان ہے۔ آج ایرانی سفارت خانہ کا دورہ کیا اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے تعزیت کا اظہار کیا۔ پاکستانی قوم آزمائش کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ ہے، پوری ملتِ اسلامیہ کے دل غم سے بوجھل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل امت کو مسالک اور قومیتوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
امریکی اور اسرائیلی طاغوت کے خلاف مزاحمت کی علامت، ظلم کے خلاف استقامت کے پیکر، جدوجہد آزادی فلسطین کے پشتیبان ظالموں کا مقابلہ کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشتگردی ہے۔ پورے خطےکو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر امریکا نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا ڈونلڈ ٹرمپ کا "بورڈ آف پیس" اصل میں "بورڈ آف وار" ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کے لیے پورے مشرق وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔مسلم حکمرانوں کو اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی ۔ گزشتہ 25 سال میں امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر وہاں انتشار اور فساد پھیلایا گیا۔ اسرائیل میں امریکی سفیراعلانیہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی حمایت کررہا ہے۔ پاکستانی حکمران بھی یہ سبق سب یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کادوست نہیں
حیدرآباد پاکستان کا ساتواں اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن آج تک مکمل یونیورسٹی سے محروم ہے۔ حکمران جماعتوں نے حیدرآباد اور اس کے نوجوانوں کو مکمل نظرانداز کیا۔
جماعت اسلامی نے اس شہر کی جنریشن زی کا ہاتھ تھام لیا، بنوقابل آئی ٹی پروگرام کے داخلہ ٹیسٹ میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی، ہم انھیں فری آئی ٹی کورسز کروائیں گے۔
انھیں ہنرمند بنائیں گے۔ خواتین اور طالبات کے لیے ہنر،تعلیم اور باعزت روزگارکے دروازے کھول رہے ہیں۔ ان شاءاللہ
ملک میں آخری چھ سال میں غربت
21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے۔ ایک طرف ملکی قرضہ آسمان کو چھو رہا ہے دوسری طرف غربت کا گراف ریکارڈ تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ یہ ہے حکمران اتحاد کی رپورٹ کارڈ! آخری 6 سال میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت اربوں ڈالرز کا قرض لیا گیا، کھربوں روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں میں تقسیم کے نام پر عملاً فراڈ کیا گیا، مگر نتائج ہولناک ہیں۔صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافے میں تیزی دیکھی گئی۔ درحقیقت ملک کی حکمران جماعتوں کے پاس عوام کی بہبود کا کوئی پروگرام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ پارٹیاں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے گرد گھومتی ہیں۔ انھیں پرتعیش اڑان کے لیے 11 ارب روپے کا طیارہ چاہیے، چاہے قوم کی حالت کچھ بھی ہو۔
نہ صوبائی کنٹرول نہ وفاقی کنٹرول
کراچی کے مسائل کا حل صرف "کراچی سٹی گورنمنٹ" ہے، یعنی شہر کی بااختیارحکومت۔ عوام کے ووٹوں کی توہین کرکے قبضہ نظام نہیں چلے گا۔ آج لوگ سندھ حکومت سے نالاں ہیں کل وفاق کے خلاف آواز اٹھائیں گے اس لیے، کراچی کا اختیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا چاہیے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں یہی نظام ہے۔ اگر مغربی دنیا میں لندن اور نیویارک طاقتور بلدیاتی حکومتوں کی بہترین مثال ہیں تو مسلم دنیا میں تہران اور استنبول میں یہ نظام کامیابی سے ڈیلیور کررہا ہے۔ کراچی کے شہری آج بھی سن 2001 سے 2005 تک سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی قیادت میں کام کرنے والی سٹی گورنمنٹ کو شہر کا سنہری دور قرار دیتے ہیں۔
We reject the government’s decision to include Pakistan in Donald Trump’s so-called “Board of Peace.” Trump’s Board of Peace is a new form of colonialism, which includes criminals like Tony Blair who were responsible for the destruction of Iraq. The Board of Peace is a new system aimed at seizing Palestinian land and resources. The American occupation of Gaza under the pretext of reconstruction is unacceptable.
The stance taken by Pakistan’s Ministry of Foreign Affairs—that Pakistan announced support for the Gaza peace plan under a United Nations Security Council resolution—is contrary to the facts. Trump himself has stated that his Board of Peace could one day replace the United Nations. After such a position by Trump, what justification is there for Pakistan’s participation in this board?
We once again state very clearly that Pakistan’s armed forces must not, under any circumstances, be sent to Gaza.
گوادر کے نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، کوئٹہ اور جعفر آباد کے بعد گوادر میں بنوقابل آئی ٹی پروگرام کے لیے ہزاروں نوجوانوں نے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کی۔ بلوچستان کے مسائل کا حل نوجوانوں کے لیے برابر کے مواقع پیدا کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں سے جوڑنا ہے۔ یہ ہزاروں نوجوان الخدمت کے تحت آئی ٹی کورسز کے ذریعے نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑے ہوں گے بلکہ ملک و قوم کی تعمیروترقی میں کردار ادا کریں گے۔
🚨BREAKING: A 7 month old baby, Shatha Abu Jarad, died this morning from extreme cold in Gaza’s displacement camps, as Israel continues to block reconstruction and the entry of essential shelter and aid.