”صرف دس دن “
قائد کو یقین تھا کہ بنت محترمہ کی حکومت ایسے ہی چلتی رہے گی اللہ جانے برسوں سے چھوٹے صوبوں /انتظامی یونٹس کا واویلا مچانے والے میاں عامر کی تجویز اور فیصلہ سازی میں ”کُن “کا اختیار رکھنے والے سب سے طاقتور کو کیا سوجھی کہ اُس نے سنجیدگی سے ��یاسی پارٹیوں کے وراثتی مالکان کو پیغام دیا کہ اب تو یہ ہو کے رہے گا ۔ قائد محترم کے پیچھے عشروں کی سیاسی بصیرت تھی سو قریبی رفقا کو حکم صادر کیا کہ خاموشی سے تماشہ دیکھو ۔ سندھو دیش کے خود ساختہ بھگت ایسا نہیں ہونے دیں گے دلیل کے طور پر “ نہروں “ کے نکالے جانے میں ناکامی کو سب کے سامنے مستند اور مضبوط حوالے کے طور پر پیش کیا ۔ 45 اور 47 کے کھیل سے واقفان کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ زمین پہ چند قریبی رفقا یا میرے جیسے چند بکے ہو ئے صحافیوں کے علاوہ شائد ہی کوئی ذی روح ایسا ہو جو انکی جھکی ، بکی سیاست کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہو یا ان کے پر تعیش گورننس کے نظام سے مطمئن ہو سو ایک فیصلہ ہوا ”دس دن کا “ صرف دس دن ۔
سندھ بھگتوں کے لئے کاکروچوں کو اجازت دے دی گئی اجازت ملنے کی ��یر تھی کہ سہمے ہوئے کاکروچ باہر نکل آئے ۔ بھگت بمقابلہ کاکروچ ۔ محض دو دن میں ہی کاکروچ اندرون وہ بیرون سندھ کی گلیوں میں دھمال ڈالتے نظر آ رہے ہیں ۔
با خبر ذرائع کے مطابق قائد نے دس دن کا وقت مانگا ہے ۔ طاقتوروں کا پیغام واضح ہے پرتعیش بغیر عوامی حمایت کے گذارے گئے لمحات کا حساب یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے دو ٹوک واضح موقف ۔
باقی رہے نام اللہ کا
اے خداوند کے عزرائیل گواہ رہنا تم اکیلے ہی عزرائیل نہیں ۔
ارواح کو اجسام سے اپنی مرضی ( اللہ کی مرضی سے نہیں ) علیحدہ کرنے والا پنجا�� حکومت کا انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پنجاب اسمبلی نے پاس کر دیا ۔
“تمغاتی صحافی “
میں قتل قلم ، خلق خدا دونوں کا مجرم
اور شوق سے لکھتا ہوں وفادار صحافت
خو��نودی حاکم میری نس نس کا عقیدہ
تمغات پہ کندہ ہے عزادار صحافت
( کاظم خان )
پنجاب اسمبلی میں کل ایک نیا بل پاس ہونے کو تیار ۔ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل۔
خلاصہ :خلائی جج، خلائی استغاثہ، خلائی گواہ ، خلائی وکیل , “موت زمینی“
آسان الفاظ میں : کسی فرد کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے، جبکہ اسے یہ علم تک نہ ہو کہ اس کا مقدمہ کس جج نے سنا، استغاثہ کس نے پیش کیا، اس کے خلاف شہادت کس نے دی، اور آیا اس کے ساتھ موجود وکیل واقعی اس کا قانونی نمائندہ بھی ہے یانہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
https://t.co/mfAjEv6b7H
مکہ دفاعی معاہدہ
اگر مکہ میں غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی نا ہوتی تو شائد عالم اسلام کا یہ عظیم معاہدہ “ محسن امت مسلمین “ جناب ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہوتا ۔ چلیں خود نا سہی وہ ہی سہی ۔
تمام شُد
”کاکروچ دیوتا “
یہ یکم ستمبر 2022 کا دن تھا ۔ کاکروچ دیوتا سرگودھا بار سے خطاب کر رہا تھا ۔اُسے یقین تھا کہ تبدیلی کا منبع صرف اور صرف وہ کاکروچ ہیں جو صدیوں سے گندگی کے ڈھیروں سے اپنا رزق تلاش کرتے آ رہے ہیں ۔ جنکے وجود کو اس ملک کے سرداروں ، ذرداروں اور شریفوں جیسے اول الامروں کی نا جائز اطاعت کا پابند بنا دیا گیا ۔اُسکے نزدیک اس جبر کے نظام کے خلاف پہلا قدم اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ ہر ڈویژن ایک صوبہ ہونا چاہیئے اور اس پہ راج عوامی کاکروچ کریں. میاں عامر کو یقین ہے کہ تمام تر سیاسی خداؤں کی مخالفت کے باوجود قدرت اللہ کے بعد اقتدار کے اصل وارثین ان کاکروچوں کے لئے در کھولے گی . اقتدار کی منتقلی کی نچلی سطح کے مخالفین یاد رکھئے گا کہ محسن نقوی جن کاکروچوں کا ذکر کر رہے تھے انہیں گھروں سے باہر نکالنے کے لئے کاکروچ دیوتا کی ایک جھلک ہی کافی ہے ۔
باقی رہے نام اللہ کا
”ایمپائر اور نفرت “
اگرچہ ارجنٹائن انگلستان کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا مگر عوام کے دل اس کے ساتھ نہیں کیونکہ اُسے یہاں تک پہنچانے میں بظاہر نیوٹرل ایمپائر ز کا ہاتھ ہے ۔ ایمپائرز کے غلط فیصلوں سے نفرت کا دائرہ وسیع ہوتے ہوئے ٹیم کی کئی جگہ پر انتہائی اچھی کارکردگی کے باوجود ہر کھلاڑی تک پھیل چکا ہے ۔ وہ تخت پر بیٹھیں یا ایک سیڑھی نیچے اگلے مقابلے تک عوامی نفرت کا طوق انکے اور انکے سہولت کاروں کے گلے کی زینت رہے گا ۔
اللہ ایمپائرز کو ہدایت دے ۔ آمین
خیبر پختونخواہ کےپانچ پیاروں کی
”انتہائی سنجیدہ “حکومت کے نام
جناب مراد سعید صاحب۔ مینا خان آفریدی صاحب۔ شاہد خٹک صاحب سہیل آفریدی صاحب اور شفیع جان صاحب
آپکی ابرو جنبش لب کے منتظر نئے صاحب بہادر بابو صاحب سیکرٹری اطلاعات کو اشارہ فرما دیں کہ معزز عدالت کے حکم کی تعمیل میں اخبارات کے بقایا جات ادا فرما دیں ۔ اس معاملے میں آپکی سنجیدگی درکار ہے یا پھر اشارہ فرما دیں کہ بقایا جات کے حصول کے لئے “کس کس با کردار “ سے ملنا پڑے گا ۔
باقی رہے نام اللہ کا ۔
@PTIofficial@MeenakhanAfridi@SohailAfridiISF@ShafiJanPTI@fsherjan@ImranKhanPTI@salmanAraja
”وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور سی پی این ای “
ڈمی اخبارات فوری بند کریں۔
جھوٹی اے بی سی کی بنیاد پر اشتہارات جاری کرنے سے بہتر ہے ریٹ کو فریز کر کے موزوں اصلاحات کی جائیں ۔
عشروں سے رجسٹرڈ اخبارات کی نئی رجسٹریشن کے مراحل کو آسان بنایا جائے ۔
اخبار اور لکھے ہوئے لفظ مرنے نہیں چاہئیں ۔
اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی اشتہارات جاری کئے جائیں گے ۔
صحافت کا المیہ ہے کہ رپورٹنگ اور نیوز روم کلچر کی ابجد سے نا واقف لوگ مستند صحافی کے روپ میں ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں ۔
فیک نیوز ، پراپیگنڈہ ، بغیر موقف کے خبر کی اشاعت ، ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے فریمنگ “ آزادی صحافت کے سب سے بڑے دشمن ہیں “۔ صدر سی پی این ای
سی پی این ای صحافتی اقدار اور اخلاقیات کو روند کر جرنلزم کرنے والوں کا احتساب کرے گی ۔
اپنے آپ سے ابتدا کرتے ہیں جس جس نے صحافت کو ذاتی کاروبار ، مقاصد کے لئے استعمال کیا انکے خلاف مزاحمت کریں گے ۔ صدر سی پی این ای
“روزنامہ نئی بات اور پیکا ایکٹ “
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (PAS)ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کی طرف سے روزنامہ نئی بات ( اخبار ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ) ، ایڈیٹر / پبلشر روزنامہ نئی بات اور کالم نگار توفیق بٹ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی درخواست ۔ درخواست ڈپٹی ڈائریخر نیشل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے ) لاہور کو بھیجی گئی ۔ درخواست صدر بابر امان بابر کی طرف سے بھیجی گئی ۔
Obituary
In a groundbreaking move to “promote culture” in Punjab, a Film City Authority has been born. Naturally, the Cultural Minister has been politely asked to admire it from a safe distance — preferably outside the boardroom, too.
May Allah grant Azma Bukhari and the Culture Department the strength to be professional spectators to their own portfolio.
”پنجاب فلم سٹی اتھارٹی ۔ وزارت اطلاعات اور ایس اینڈ جی اے ڈی “
آزادی اظہار کے احترام کے آفاقی قانون کے پیش نظر ان تمام ہو بہو ایک جیسی اختلافی آرا کا شکریہ جن کے توسط سے علم ہوا کہ کلچر کے فروغ کا بل وزارت کلچر کی بجائے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کی طرف سے پیش کیا گیا ۔
گذارش ہے کہ میکدے رندوں کے بغیر اور عبادت گاہیں واعظ کے بغیر اپنی حُرمت ک��و دیتی ہیں اسی طرح کلچر کی عزت کا بل اس ادارے کی سربراہ کی عدم موجودگی میں کتنا معتبر ہو گا ؟ اللہ ہی جانے کون بشر ہے ۔
فلم سٹی اتھارٹی کا قیام یقینا کلچر کے فروغ کے لئے ہے اور اگر “دور اندیش وزیر اعلیٰ” کی منتخب کردہ وزیر کلچر اور انکا محکمہ اس فہم و ادراک سے عاری ہے جو کلچر کےُفروغ کے لئے ضروری ہے تو یہ محکمہ کسی خود ساختہ دانشور محترم یا محترمہ کے سپرد کر دیں تاکہ عوامی پیسے کی بچت ہوُسکے ۔
اس سے پہلے کہ علی الاعلان وزیر اعلی صاحبہ سے بھی زیادہ با اثر شخصیت پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ پہ موجود پنجاب فلم ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2025 نمبری 131کو انار کلی کی طرح اپنے قہر وُجبر کی عملداری کا عملی مثال بناتے” مضبوط دیواروں میں چنوا “ دیں بس اسے پڑھ لیں۔ فلم اور کلچر کی وزیر موصوفہ اس میں وائس چئیر پرسن تھی ۔ فلم کلچر کے فروغ کے اس بل کا کیا بنا ایک دفعہ پھر اللہ ہی جانے کون بشر ہے مگر
”بل وہ جو محترمہ من بھائے“۔
اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا
نکلا جو میکدے سے وہ واعظ پئے بغیر
حُور و ملائکہ کی ملامت ، خدا پناہ
https://t.co/2ZJwFXWW4M
1-روزنامہ دنیا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کاظم خان سی پی این ای کے صدر منت��ب ہو گئے ۔
روزنامہ پاک سندھ کے ایڈیٹر غلام نبی خان چانڈیو سیکرٹری جنرل منتخب ۔
2-سال 27-2026 کو “ مزاحمت “ کا سال قرار دینے کا اعلان۔ صدر سی پی این ای
3- جس صحافت نے عزت دی آج اسکی عزت خطرے میں ہے ۔ کاظم خان
4- ہر طاقتور “ صحافت “ کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ صدر سی پی این ای
5- بدقسمتی سے اس کے محافظ بھی لٹیروں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ کاظم خان
6- مزاحمت اپنے گھر سے شروع کریں گے۔ صدر سی پی این ای
7-فیک نیوز ، پراپیگنڈسٹ ، ڈمی اخبارات ، سیاسی جماعتوں اور اداروں کے پے رول پر بیانیہ بنانے والوں کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ سی پی این ای
8- ہر لکھنے والا ، ہر بولنے والا ، ہر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر خود ساختہ دانش مسلط کرنے والا صحافی نہیں ہو سکتا ۔ صدر سی پی این ای
9- دن کی روشنی میں صحافیوں کو دفاتر بلا کر دھمکیاں دینے والوں کا راستہ روکنا ہوگا ۔ صدر سی پی این ای
10-اخبارات اور ٹی وی مالکان کو آزادی اظہار کے مطلب کو سمجھنا ہو گا ۔ صدر سی پی این ای
11-ہر نئے آنیوالے کی پالیسی کی بجائے صرف آزادی صحافت کی پالیسی میں ہی بقا ہے ۔ کاظم خان
”معرکہ حق “
قومی عزت و غیرت سے جُڑے اس معرکہ سے منسلک ہر فرد ، ادارے پر پروردگار کی لا متناہی رحمتیں جنہوں نے سُرخ بدن پر خاکی پوشاک اُوڑھی مگر غیرت پر آنچ نہیں آنے دی ۔
یاد رکھئے گا فتح پہ پہلا حق بہادروں کا ہوتا ہے ۔
تمام شُد
”تمغاتی صحافی “
میں قتل قلم خلق خدا دونوں کا مجرم
اور شوق سے لکھتا ہوں وفادار صحافت
خوشنودی حاکم میری نس نس کا عقیدہ
تمغات پہ کندہ ہے عزادار صحافت
( کاظم خان )