@SamyaShaan@DO3GAR کیا ہی کہنے صاحبان من بہت خوب 👌
محترم راشد صاحب کے کلام کو جس خوبصورت انداز سے ترنم سے نوازا ہے محترمہ سامعہ صاحبہ نے اس کیلیے جتنی بھی تعریف کیجائے کم ہے
اللہ سخن اور کلام کو سلامت و بابرکت رکھے
❤
@SamyaShaan فقط" اردو کا وہ نایاب لفظ ہے جو ایک ہی لفظ میں انکار، خالصیت، حد، شدت اور سکوت کا کرشمہ کر دیتا ہے
"صرف" سادہ ہے
"بس" عام ہے
"محض" قدرے رسمی ہے، مگر "فقط" میں ایک کلاسیکی نفاست، ادبی وقار اور معنوی نزاکت ہے جو دوسرے لفظوں میں نہیں ملتی
پیغامِ اتحاد دیئے جا رہا ہوں میں
کوشش مصالحت کی کیئے جا رہا ہوں میں
ہے تار تار پیراہن عزتِ وطن
یہ جامۂ دریدہ سئیے جا رہا ہوں میں
خُم خانۂ الست کی جس میں ہیں مستیاں
وہ بادہ دوشینہ پئیے جا رہا ہوں میں
🇮🇷 🇵🇰 🇱🇷
#PakistanForPeace
اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے
اک ذرا دیر میں رخصت ترا بیمار ہوا چاہتا ہے
آخری قسط بھی سانسوں کی چکا دے گا چکانے والا
زندگی قرض سے تیرے وہ سبکبار ہوا چاہتا ہے
دل وحشی کے بہلنے کا نہیں ایک بھی سامان یہاں
محفل زہد مزاجاں سے یہ بیزار ہوا چاہتا ہے
دیکھو یہ کھیل کی آخری چال ہے
حرف کو جسم بنتے ہوئے دیکھ لو ...
میری نظموں کی دوشیزگی کی قسم !!!
ان میں موجود لفظوں کا عریاں بدن
دسترس سے پرے
اور دستِ تخیل سے بھی دور ہے
سو ....
تمہاری یہ ذلت بھری بےبسی دیکھ کر
انتقامی بدن کا ہر اک ریشہ ریشہ بڑی زور سے
قہقہے مار کے ہنس پڑا ہے
مجھ کو بھی ترکیب سِکھا کوئی یار جُلاہے ...!
اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بُنتے
جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہُوا ..!
پھر سے باندھ کے
اور سِرا کوئی جوڑ کے اس میں
آگے بُننے لگتے ہو
تیرے اس تانے میں لیکن
اک بھی گانٹھ گِرہ بُنتر کی
دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی ...
1/2
جی چاہے تو شیشہ بن جا
جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا
مے بن جا میخانہ بن جا
مے بن کر میخانہ بن کر مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر ہستی سے بیگانہ بن جا
اور اس گمان و یقیں کے پیچھے
مِری جوانی کا سبز موسم
خزاں کے
سفّاک و سرد ہاتھوں میں مر چکا ہے
بہت سا پانی
پُلوں کے نیچے سے بہہ چُکا ہے
سروں پہ چاندی بکھر چکی ہے
نظر بھی دُھندلی سی پڑ گئی ہے
اب اس سے آگے جو راستہ ہے
ڈھلان ہے
اور
ڈھلان پر
کب کوئی ٹِکا ہے ؟؟؟
2/2
"Dead in Fantasy"
یقین تھا یا گماں تھا میرا
مگر وہ جو تھا
وہ اب نہیں ہے
کسی بھی شے کا سبب نہیں ہے
یقیں سے لے کر گمان تک
اور گماں سے لے کر یقین تک کا
سفر کھٹن تھا
بہت کھٹن تھا
اور اب جو لوٹا ہوں اس سفر سے
تو اس گماں کے قدم کے نیچے
یقین کا لاشہ پڑا ہوا ہے
1/2