پاکستان تحریکِ انصاف کے غیور کارکنان، نمائندگان اور پاکستانی عوام کے نام اہم پیغام:🚨🚨
عمران خان صاحب کا بالکل واضح اور حتمی ہدایت نامہ ہے کہ 27 ستمبر سے پہلے پارٹی کا کوئی بھی کارکن یا پارلیمنٹیرین گرفتاری نہیں دے گا۔ گرفتاری دینے کے بجائے تمام رہنما اور کارکنان اپنے اپنے حلقوں میں متحرک ہوں، تنظیم سازی کو حتمی شکل دیں اور عوام سے براہِ راست رابطہ استوار کریں۔
ہماری ترجیحات:
عوامی تحرک: تمام پارلیمنٹرینز اور عہدیدار اپنے حلقوں میں فوری طور پر ایک منظم اور بھرپور 'اسٹریٹ موومنٹ' کا آغاز کریں۔
تنظیمی مضبوطی: پارٹی کو نچلی ترین سطح (گراس روٹ لیول) تک فعال اور متحرک کریں۔
عوامی رابطہ: عمران خان کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں اور عوام کو جدوجہد کے لیے تیار کریں۔
ہمیں جو عوامی مینڈیٹ اور عزت میسر آئی ہے، وہ عمران خان کے نظریے اور ان کے کروڑوں ووٹرز کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وقت اپنے حلف، نظریے اور قائد عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہونے کا ہے۔
27 ستمبر کے لیے تیاریاں آج سے ہی شروع کی جائیں—ہر حلقہ متحرک، ہر کارکن منظم اور ہر عوامی رابطہ مضبوط ہونا چاہیے۔
پاکستان زندہ باد!
دہشت گردی صوبائی مسئلہ نہیں، پوری قوم کی جنگ ہے!
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کا یہ بیان کہ "انھیں پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبے سے زیادہ خطرہ ہے"، انتہائی افسوسناک اور قومی یکجہتی کے منافی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے غیور عوام نے دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ وہ خود اس آگ میں جلے ہیں تاکہ پورا پاکستان اور بالخصوص پنجاب محفوظ رہے۔
قربانیوں کی توہین: سیکیورٹی چیلنجز کا ملبہ کسی ایک صوبے کے عوام پر ڈالنا ان کی لازوال قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔
ماضی کا تسلسل: ماضی میں بھی یہی سوچ دکھائی گئی جب کہا گیا کہ "حملے اٹک کے پار رکھیں"۔ یہ خود غرضی اور محدود سوچ ملک کو متحد کرنے کے بجائے صوبائیت اور تقسیم کو ہوا دیتی ہے۔
دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی صوبہ۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ صوبائی تعصب اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر ہو کر تمام صوبے ایک ہو کر اس ناسور کا مقابلہ کریں۔۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) کا عمران خان کی فوری رہائی اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا پرزور مطالبہ
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے।
عدالت عالیہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات، بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو، روزانہ ایک گھنٹے کی واک اور مطالعے کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل حکام کو 15 روز میں تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
تاخیر کے شکار نظام میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر روح کے مطابق عملدرآمد ہو سکے گا؟ ماضی کا ریکارڈ مایوس کن ہے؛ 17 جون 2026 کو وکالت نامے کے معاملے اور اگست 2026 میں ہسپتال منتقلی کے حکم پر عدم عملدرآمد کے باعث توہینِ عدالت کی کارروائیاں اس رویے کی واضح مثالیں ہیں۔
عدالتی احکامات کو مسلسل پسِ پشت ڈالنا نہ صرف نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو شدید ٹھوکر پہنچاتا ہے، بلکہ معاشرے میں بے چینی اور انتشار کو بھی جنم دیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خود عدلیہ اپنے قرطاسِ ابیض پر درج احکامات کی پاسداری کو یقینی بنا کر اس روش کا سدِباب کرے۔۔
اہم پیغام برائے ممبران اسمبلی (قومی و صوبائی) اور سوشل میڈیا ٹیم:🚨🚨
27 تاریخ کا مجوزہ 'لانگ مارچ' تحریک کی کامیابی کا اہم سنگ میل ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل باتوں پر عمل درآمد بے حد ضروری ہے:
ارکانِ اسمبلی کے لیے تنبیہ: تمام محترم ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی سے گزارش ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔ کسی بھی ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کریں اور خود کو آسان ہدف نہ بننے دیں۔ آپ کا آزاد رہنا لانگ مارچ میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا ٹیموں کے لیے ہدایت: تمام فعال جوان اس صورتِ حال کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے آگاہی پھیلانے، حکمتِ عملی کو اجاگر کرنے اور گرفتاریوں کے خطرات سے بچاؤ کے حوالے سے خصوصی مہم چلائیں۔
یکجہتی، حکمتِ عملی اور مسلسل جدوجہد ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔
"الحمدللّٰہ! نیتِ صادق اور شفاف دامن کے ساتھ بے گناہ ہیں۔ اللّٰہ بے نیاز ہے، اور وہی مظلوم کے حق میں وقت اور حالات کے رخ موڑنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔"قریشی
"9 مئی کا بہانہ بنا کر عمران خان سے معافی کا مطالبہ کرنے والے ذرا اس تصویر کو دیکھیں۔ اب جب آرمی افسر کا یہ غیر قانونی اقدام سب کے سامنے آ چکا ہے، تو بتائیں کہ قانون کی دھجیاں اڑانے پر کون معافی مانگے گا؟"
"پارٹی کی سستی اور سستیِ روی دیکھ کر لگتا ہے جیسے عمران خان کے علاج کا معاملہ حل ہو چکا ہو۔ جو شخص عمران خان کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اسے چاہیے کہ وہ خود ہی سائیڈ پر ہو جائے۔" علیمہ خان
”سپریم کورٹ کے آرڈر کو کل ردی کی ٹوکری میں ایک دفعہ پھر پھینکا گیا ۔ یہ توہین صرف تین ججز یا سپریم کورٹ کی نہیں بلکہ پوری عدلیہ کی توہین ہے۔ سہیل افریدی
فوری مطالبہ 🚨
عمران خان صاحب کی تشویشناک حالت کے پیش نظر، انہیں فوری طور پر رہا کر کے 'شفا انٹرنیشنل ہسپتال' منتقل کیا جائے۔ صحت اور علاج ہر شہری کا بنیادی انسانی و قانونی حق ہے۔
تمام انصاف پسند شہری اور باضمیر قوم اس معاملے پر اپنی آواز بلند کریں۔
علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی قانون کے مطابق جیل حکام انکی عمران خان سے ملاقات کروانے کے پابند ہیں ، مگر ماضی کے تقریبا 8 ماہ بتا رہے ہیں کہ جیل حکام عدالتی حکم اورجیل مینوئل کو شاید نہیں مانتے۔