جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب آپ پہاڑ سے ٹکرا گئے ہیں اس پہاڑ نے بڑے بڑوں کو ریزہ ریزہ کیا ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آپ نے سچ بول کر پاکستانی قوم پر جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اتارنا تو درکنار بدقسمتی سے بہت سے لوگ آپکو عبرت بنانے کے دلائل دیں گے۔
میں نے عمران خان کیلئے، پی۔ ٹی۔ آئی کے ہر سیاسی ورکرز کیلئے ہر جگہ بھرپور آواز اٹھائی
فوج سے دشمنی مولی، ن لیگ والوں سے ناراضگی مول لی، جان سے پیارے دوست کھو دئیے، حالانکہ مجھ پر باجوہ اور خان کے دور میں تین قاتلانہ حملے، کاروباری نقصان ہوا، میرے گھر پر حملہ ہوا۔
مگر آج جب بیٹے کے حوالے سے ٹویٹ کیا تو احساس ہوا ان کو صرف اپنی تکلیف نظر آتی ہے دوسرے کی نہیں اور یہ اتنے اندھے، بہرے، کھوتے اور زہنی مریض ہیں مجھ سے اظہار ہمدردی کرنے اپنی جماعت کی حکومت کے وقت ظلم پر شرمندہ ہونے کی بجائے کہہ رہے ہیں تمہیں اپنی تکلیف ہے ہمارا احساس نہیں ان گدھوں کو یہ بھی علم نہیں ہے یا جان بوجھ کر بکواس کرتے ہیں کہ 9 مئی ہو، 26 نومبر ہو، عمران خان اور پوری پارٹی کیلئے ہر جگہ آواز اٹھائی۔ عمران ریاض، شہباز گل سمیت ہر شخص کیلئے آواز اٹھائی
شیر افضل مروت تم لوگوں کے بارے جو کہتا ہے بلکل ٹھیک کہتا ہے
جتنے میرے دوست ناراض ہوئے وہ سب سچے تھے
لگتا واقعی میں بھی واقعی وائرس کا شکار ہو گیا تھا
تم لوگ اسی قابل ہو جو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے
لعنت تم سب کی سوچ پر
مزے کی بات یہ کہ ،GHQ کی راہداریوں میں کمانڈ تبدیلی و دیگر افسران کی ترقی و رینک تبدیلی کے بارے شہزاد اکبر ، شہباز گل ، عادل راجہ ، صابر شاکر کو منٹ ٹو منٹ اندر سے بھائی feed کرتے رہے ،یقیناً یہ لوگ خود سے گھڑ کر سٹوری تو نہیں بناتے ۔سنجیدہ صحافی جو واقعی صحافت کرتے ہیں وہ خاموش رہے۔ نوٹیفکیشن اشو ہونے کے بعد بہت سے فوجی بھائیوں کے فون تو ضرور چیک ہونگے ۔
🚨🚨ایف آئی اے ائرپورٹ پر رشوت ہمیشہ مانگتی ہے
شور مچا ہوا ہے کہ ایف آئی مسافر آف لوڈ کر رہی جبکہ پاکستان میں ایف آئی اے سدا کی ایسی ہے ایک ذاتی حادثہ سناتا ہوں
یہ 2007کئ بات میں سویڈین ایک میٹنگ کے لیے جا رہا تھا میری ٹریول ہسٹری بھی تھی میں ایک سویڈیش پروگرام ہیڈ کر رہا تھا کراچی ائرپورٹ پر مجھے ایف آئی اے نے روک لیا میری بورڈنگ ہو چکی تھی پہلے آدھا گھنٹہ سوالات کرتے رہے اس کے بعد ویزے کو چیک کیا اور مجھے کہا کہ پیسے دیں اور چلے جائیں میں کراچی تھا رات ساڑھے نو کا وقت تھا 10:30پر فلائٹ تھی مگر میں نے انکار کر دیا شفٹ انچارج آیا کہتا اسے آف لوڈ کر دیں اور کہا کہ مجھے جو ویزہ اشو ہوا اس پر پاسپورٹ نمبر کے بجائے کاپی نمبر جو پاسپورٹ کے ہر صفحہ پر ہوتا وہ درج ہے (ایمبیسی ویزے پر وہی نمبر لکھتی تھیں کیوں کہ وہ پنچ ہوتا تھا بدل نہی سکتا تھا) خیر میں نے شفٹ انچارج سے کہا مجھے آف لوڈ مت کرنا ورنہ اچھا نہی ہو گا مجھے بتاؤ کیا حل ہے کہتا آپ ایمبیسی جائیں اسے درست کرا لائیں چار دن کا میرا سفر تھا جس میں ایک دن زیورخ میٹنگ تھی ایک فلائٹ مس ہو تو سب پروگرام ختم ۔ میری سویڈیش ایمبیسی میں جان پہچان تھی رات کو ایمبیسڈر کو فون کیا اس کی بات ایف آئئ اے والوں سے کروانے کی کوشش کی تو ان کو انگلش نہی آتی تھی کہتے کہ ہمیں کیا پتہ یہ کون ان سے کہو فیکس کریں اب رات داس بجے ڈپٹی ہیڈ آف مشن دفتر گیا وہاں سے فیکس کی جو 10:08پر ملی اس میں ایمبیسی نے ان سے جان چھڑانے کے لیے کہا ہم سے غلطی ہوئی( حالانکہ بعد میں دوبئی اور سوئٹزلینڈ میں کسی نے اس پر اعتراض نہی کیا )اسے جانے دو جب فیکس آئی تو وہ ڈر گے کہتے باس آپ کون ہو پلیز ہماری شکایت مت کرنا میرے بیگ اٹھا کر جہاز تک چھوڑ کے آئے اب سوچیں اگر ذاتی پہچان نا ہوتی ایمبیسی رات کو نا کھلتی تو مجھے آف لوڈ کر دئتے تو یہ سسٹم سدا سے اتنا ہی کرپٹ اور ایسا ہی ہے بہت تنگ کرتے ہیں ہر دفعہ جب ہم پاکستان جاتے ان سے منہ ماری کر کے آتے ہیں
چونا نمبر 420 🚨
عاطف خان نے 10 مہینے پہلے کہا تھا، میں 25 کروڑ پاکستانیوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگلے 24 گھنٹوں میں حکومتی وزرا کی ہر ٹویٹ، ہر ویڈیو ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر ہوگی۔
اور اب یہ شخص مکمل طور پر غائب ہے
معزز مہمانوں کی آمد
بیلا روس کا 75رُکنی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
سمجھ آتی ہے پی ٹی آئی کو تکلیف کس بات کی ہے
ان شاء اللہ پاکستان آگے ہی بڑھے گا
تم لاکھ کوششیں کر لو ۔۔۔
اپوزیشن کا کیا کام امریکی ایمبسی اور امریکی سفیر سے ملاقات کرنے کا، یہ ملاقاتین ہی سازش کا ثبوت ہین : خان جب سیلیکٹڈ تھے
تحریک انصاف کے وفد کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ملاقات
اب یہ سازش اور غداری ہے خان کے اپنی سیٹ سٹینڈرڈ کے مطابق ؟؟
تشریح:
نواز شریف نے ثابت کیا پاکستان اہم ہے وزارت عظمیٰ نہیں۔
جبکہ نیازی نے پاکستان توڑنے کی ٹھان لی جب وزات عظمیٰ سے ہٹا تو ۔
لیڈر اور مفاد پرست میں فرق الفاظ سے نہیں اقدامات سے ثابت کیا جاتا ہے۔
اور میاں صاحب نے یہ ثابت کردیا ایک بار پھر ۔
وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول نا کرنے کا مطلب اگر یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی سچائی نہیں۔ اگلے ۵ سال وہ نا صرف بھرپور سیاست کریں گے بلکہ وفاق و پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے انشاءاللّہ۔
نوازشریف کی تینوں حکومتوں میں عوام نے واضح اکثریت دی تھی اور یہ بات وہ انتخابی تقاریر میں میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے وقف ہیں انھیں نواز شریف کے اصولی موقف کا پتہ ہے۔ شہباز شریف اور میں ان کے سپاہی ہیں، انکے حکم کے پابند ہیں اور ان کی سربراہی اور نگرانی میں کام کریں گے- اللّہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین 🇵🇰