سلمان خان نے عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
🛑 تنگ کوٹھڑی اور قیدِ تنہائی: عمران خان کو 360 سے زائد دنوں سے ایک ایسی چھوٹی کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) میں رکھا گیا ہے جہاں کیڑے مکوڑے ہیں اور ان پر چوبیس گھنٹے سخت ترین نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
🛑 سزا کی اصل وجہ: انہیں ان حالات میں صرف اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ملکی سیاست پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کو چیلنج کرنے کی جرات کی تھی۔
🛑 رابطے پر مکمل پابندی: سلمان خان اور ان کے بھائی نے نومبر 2022 کے بعد سے اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ ان سے آخری بار صرف ایک مختصر فون کال پر بات ہو سکی تھی، جسے بھی وقت سے پہلے ہی کاٹ دیا گیا تھا۔
🛑 ویزہ دینے سے انکار: جب بیٹوں نے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا، تو حکومت نے جان بوجھ کر ان کے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دنیا کے سامنے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور سیاسی انتقام کا ایک واضح ثبوت ہے!
کمال ہو گیا - مریم نواز کی "پیرا فورس" کا ڈبل کیبن ناران کاغان کی وادیوں میں تجاوزات کا خاتمہ کرتے ہوئے - پنجاب کے افسر بابو عوامی ٹیکس کے پیسوں پر ناران کاغان میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے.
@PERAPunjab@AzmaBokhariPMLN
اسحاق ڈار سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا جارہا ہے؟ فی الفور استعفیٰ لیا جانا چاہئے۔
اسحاق ڈار ایک سنگین بین الاقوامی جرم میں شریک ملزم کے طور پہ سامنے آئے ہیں کسی ملک کے لئے اس سے بڑی شرمندگی کا باعث کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ اس کا وزیر خارجہ اغواء برائے تاوان، زنابالجبر جیسے سنگین جرائم میں شراکت دار اور سہولت کار ہو۔
اور بالواسطہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرتا ہو، بین الاقوامی کرپٹو ریکٹ کا حصہ ہو۔
مغوی غیر ملکی لڑکیوں کے ویزوں کے لئے اسحاق ڈار کا دفتر استعمال ہوا،ڈی آئی جی لاہور کیمطابق ہمسایوں نے بتایا کہ اس گھر کے کرائے دار ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے رشتے دار ہیں مطلب وقوعہ والا ڈیفنس کا گھر بھی اسحاق ڈار کے ریفرنس سے لیا گیا۔
اس پیسے کی منی ٹریل بھی اسحاق ڈار تک ہی جائےگی۔علی ڈار اور حسنین ڈار کے پاس کاروبار اور پیسہ بھی سارا اسحاق ڈار کا ہے تو اسحاق ڈار تو مرکزی ملزم کے طور پر انویسٹیگیت ہونے چائییں۔
کیا حکومت اس بات کا انتظار کررہی ہے کہ بین الاقوامی جریدوں میں پاکستان کے وزیر خارجہ کے حالیہ کارناموں پر بڑے بڑے فیچر آنا شروع ہوجائیں اور حال ہی میں کمائی ساری عزت خاک میں مل جائے۔
یہ تصور بہت جھنجھوڑ دینے والا ہے کہ اسحٰق ڈار بطور وزیر خارجہ یا وزیر خزانہ کسی ملک کا دورہ کریں تو وہاں کا تمام میڈیا انھیں پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور اس سے جڑے کرائم کا سرپرست لکھیں اورکہیں۔
ملک اس بدترین بدنامی کا متحمل نہیں ہوسکتا، فی الفور استعفی لیا جانا چاہیے۔
@CMShehbaz
غیر ملکی خواتین جن کے ساتھ اسحاق ڈار کے نواسے نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر ریپ کیا وہ جس گاڑی میں تھیں اس کار کاو حادثہ پیش آیا جہاں سے وہ بھاگنے میں کامیاب ہوئیں اور پھر 15 پر کال کی گئی۔
کوئی پولیس نے بازیاب نہیں کروایا تھا یہ تصویر 15 پر کال کرنے کے بعد کی ہے۔
یاسر شامی ڈیلی پاکستان نے لاہور پولیس کی جانب سے گرفتاری اور مریم نواز کے نوٹس کی دھجیاں اُڑا دی ہیں - ویڈیو جا کر دیکھیں کیسے لڑکیاں بازیاب ہوئیں کیسے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ تحویل میں لیا گیا - آخے مریم نواز نے نوٹس لیا اور فوری بازیاب ہو گئیں
جب آل شریف، ان کی کنیزوں، غلاموں کی چیخیں سنائی دیں تو اپنے کانوں پر ہاتھ مت رکھنا بلکہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا کہ وہ متکبر حکمرانوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔
اگر 2018 میں دھاندلی ہوئی تو تمام کرداروں کے نام لیئے جائیں پھر 2024 والے بھی تمام کرداروں کے نام لیئے جائیں ، اب اگر بات دور تک جاتی ہے جانیں دیں عوام بھی دیکھے کہ کتنی دور جاتی ہے.
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف عورتیں وزیر بنا کر مسلط کر دی ہیں!
ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری جیسے سینیئر، بزرگ اور مخلص رہنماؤں کو مزید 10، 10 سال کی سزائیں سنانا سراسر ظلم، ناانصافی اور انتقام کی بدترین مثال ہے۔
کرپشن، کمیشن، کک بیکس، کارٹلز اور مافیاز کیساتھ کام کرنے کا ایک خاص پیٹرن ہوتا ہے جس کو سمجھنے، جاننے اور ماننے کے لئے دستاویزی ثبوتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔دنیا بھر میں مفادات کے ٹکراؤ یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہی بدترین کرپشن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی سے آپ پسندیدہ افراد، کمپنیوں اور لابیز کو اربوں روپے کے فائدے دے سکتے ہیں۔
ن لیگ کا ہمیشہ سے طرۂ امتیاز یہی رہا ہے کہ اپنے قریبی لوگوں کو کمیشن اور کک بیکس کے عوض میگا پروجیکٹس سے آئی پی پیز سے جیسے خوفناک منصوبوں سے نوازا۔ عالمی اداروں کےمطابق پاکستان میں غربت کی سب سے بڑی وجہ آئی پی پیز ہیں۔
بیوروکریسی اور میڈیا ہمیشہ سے ن لیگ کے زیر کنٹرول رہا لیکن اس کے باوجود ماردھاڑ ڈر کے کرتی رہی لیکن اب اس کے وزراء بیشرمی، ہٹ دھرمی اور دیدی دلیری کی تمام حدیں عبورکر چکے ہیں۔
آپ ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائیزیشن ترمیمی بل (آئی ٹی بل) دیکھ لیں، ایسا بل آمریتوں میں آیا نہ کسی طاقتور لابی سے مالی مفادات لئےبغیر پیش کیئے جانے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر ملک میں قانون ہوتا تو شزہ فاطمہ اور سیکرٹری آئی ٹی سے استعفیٰ لیا جاتا۔دوسرا،ان کی، ان کے خاندان کی اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں، کارباری شراکت داریاں اور بینک اکاؤنٹس چیک کیئے جاتے، تحقیقات ہوتیں کہ پچھلے ایک سال میں ان میں کتنا اضافہ ہوا، کتنا پیسہ آیا، کہاں سے آیا۔
فون ریکارڈ، سفری تفصیلات اور ملاقاتوں کی تفصیلات لی جاتیں اور تحقیقات کی جاتیں۔
فارم 47کی جعلساز پیداوار کی عوام کش مطلق العنانی پر ردعمل کا فقدان، بانجھ پن ہے۔
کونسے انقلابی بن رہے ہیں یہ ماضی کی بات کر کے؟ اتنا ہی انقلابی بننا ہے اور ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو خواجہ صاحب مارچ 2022 سے شروع کریں اور بتائیں لندن ملاقاتوں کے سلسلوں ، بتائیں کسے کتنے میں خریدا اور کون بولی لگاتا تھا.
سکندر سلطان راجہ کو عرصہ دراز سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے پر کوئی تکلیف نہیں ۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشنز پر تکلیف پچھلے تین سالوں سے دور نہیں ہو رہی۔
محترم لائف بوائے یوزر: سب سے پہلی بات وہ الیکشن جیت کر آیا تھا ؛ اب یہ وہ قابلیت ہے جو فی الحال موجودہ مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ میں سے کسی کے پاس موجود نہیں ہے. باقی ٹک ٹاکر والی بات ٹھیک ہے ، تب ٹک ٹاکر سرکاری دفتروں میں جاتی تھیں اور آج ٹک ٹاکرز سرکاری دفتر چلاتی ہیں: شکریہ
عوام احتجاج کرتی ہے تو اُس میں عورتوں کی شرکت کا مطلب ایک مخصوص صحافی نما مخلوق کو بتانا ہوتا ہے کہ یہ کسی گروہ کا نہیں عوام کا احتجاج ہے۔ ایسے جاہل قانون داند (daand) تجزیہ کار یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ادارے چاہیں تو ایسی کوئی کاروائی نہ کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔ کچھ اینکر حضرات یہ تصویریں اپنے پراپیگنڈے کے لئیے تو استعمال کر لیتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پروگراموں یا خبروں میں دکھانے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔ یہ قانون داند اپنی پاکستان کی خواتین کو تو اظہارِ رائے کا پورا حق دینے کی بات کرتے ہیں مگر کشمیر کی خواتین کے احتجاج کو محض ہیومن شیلڈ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔