Former Prime Minister Imran Khan’s jail interview on @thetimes :
"I am confined in a 7ft by 8ft death cell, typically reserved for terrorists.
People voted for me because they are fed up with the current system and how Pakistan is being run."
https://t.co/41CMTBoyyk
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
۲۳ جولائی ۲۰۲۴
۱-
پرسوں میڈیا پر مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے عوام کو جی ایچ کیو جا کر احتجاج پر اکسایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تقریباً ۳ دہائی پر محیط تاریخ میں پرتشدد احتجاج کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کے خلاف بدترین ہتھکنڈے استعمال کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔ نومبر ��۰۲۲ میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور میری مرضی کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکار کیا گیا۔ اس کے بعد ۲ مرتبہ میری رہا��ش گاہ پر عسکری ادارے نے حملہ کیا، ایک مرتبہ میری پیشی کے موقع پر مجھے قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا کر سادہ لباس میں لوگوں کو چھوڑا گیا۔ صرف یہی نہیں ۹ مئی کو عوام کو انتشار دلانے کے لیے ایک سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کو جس ہتک آمیز انداز میں اغواء کیا گیا، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکنان کی سیاسی تربیت میں تشدد کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ تحریک انصاف سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
۲-
۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ جس نے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، وہی ۹ مئی کے حقیقی ��مہ داران ہیں۔ ان کی عقل کا یہ عالم ہے کہ یہ ۹ مئی کو امریکہ کے کیپیٹل ہل کے احتجاج سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہاں باقاعدہ شفاف ��فتیش اور سی سی ٹی وی کے باریک بینی سے جائزے کے بعد صرف ملوث افراد کو سزا دی گئی، پوری سیاسی پارٹی “ ریپبلکن” کو کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن یہاں نہ صرف ثبوت مٹانے کی غرض سے فوٹیج غائب کر دی گئی بلکہ پورے پاکستان میں ایکشن لیا گیا ہے۔ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں کے لوگ جنہوں نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا ان کو بھی اُٹھایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ میں سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیکرٹ سروس کی چئیرپرسن نے ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفی دیا جبکہ پاکستان میں جس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا، “سیکرٹ سروس” نے اسی وزیراعظم کو قید کر دیا۔
۳-
پوری پاکستانی قوم کو دہشتگرد کہہ کر قوم کو متنفر کیا جا رہا ہے۔ ۷۰ کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد آبادی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد عوام نے ۸ فروری کو تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا تھا، ان سب کو اگر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جائے گا تو فوج اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوگی۔ اور یہ نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی لوگ یہ کررہے ہیں ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ۱۹۷۱ میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو جب ڈھاکہ کے اندر یحییٰ خان نے لوگوں کی بڑی تعداد کے خلاف آپریشن کیا تھا تو اس کے نتائج ملک کیلئے اچھے نہیں نکلے۔اب بھی اگر پاکستان کی اکثریت آبادی کو دہشتگرد کہا جائے تو اس کے ملک کیلئے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
۴-
ملک، حکومتیں اور معاشرے اخلاقیات کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں باقی کچھ نہیں رہتا۔ آج لوگ اگر آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں تو وہ صرف آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔ آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے۔ یہ جو مضحکہ خیز کیسز بنائے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگ بالکل پر امن طریقے سے کام کررہے تھے اور جب آپ ان کو پر امن طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکے تو پھر آپ نے ان کے خلاف فسطائیت کے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے۔
۵-
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں جلسے کی قیادت کریں۔ پوری قوم حقیقی آزادی کے حصول کے لیے اور ملک میں رائج ظالمانہ اور فسطائی نظام کے خلاف اس جلسے میں بھرپور شرکت کی تیاری کرے۔
سیدہ اروبا کو گرفتار کر لیا،یہ فیس بک کو لیڈ کرتی تھی،ان کا قصور صرف یہ ہے کہ یہ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں ،خواتین کے ساتھ یہ کیے جانے والے سلوک کی پر زور مزمت کرتے ہیں.
“We only want rule of law to be applied.
We don’t want special treatment from you. We don’t want any involvement in our country.
We want democracy to be upheld.”-@sayedzbukhari
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
No condemnation is enough for the massacre being carried out by the apartheid state of Israel in Rafah. Israel's genocide of Palestinians continues unabated in complete violation of all international laws, and despite the ICJ ruling. If ever there was a rogue state in all senses of the word, it is Israel, which sees itself above all international laws & norms of intra-human conduct.
Imran Khan's message has always been clear: the Armed Forces must stay within their constitutional bounds. Whenever they have chosen to go beyond & act against their own people, the country has paid a heavy price including the break up of Pakistan. Unfortunately, the lessons of history have not been learnt as the same mistakes continue to be repeated with the same disastrous results.
عمران خان کا پیغام ہمیشہ غیرمبہم اور واضح رہا ہے کہ افواجِ پاکستان کو ہمیشہ اپنی آئینی حدود کے اندر رہنا چاہئیے۔ جب بھی انہوں نے ان آئینی حدود کو پھلانگنے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدام کرنے یا اپنے ہی لوگوں سے الجھنے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان کے دولخت ہونے سمیت ملک نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بدقسمتی سے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا کیونکہ تباہ کن نتائج کی حامل انہی غلطیوں کو دہرانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
اڈیالہ جیل میں ناحق قید بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا خصوصی پیغام
(29 مئی 2024)
غلامی لوگوں کو چھوٹا کر دیتی ہے اور چھوٹے لوگ کبھی بڑا کام نہیں کر سکتے ۔ انسان کی غیرت اور آزادی مل کر اسے ایک بڑا انسان بناتے ہیں ۔ نبیِ محترم ﷺ دنیا کے سب سے بڑے انسان اور سب سے بڑے Achiever ہیں ۔ انہوں نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا کلمہ پڑھوا کر اپنے لوگوں کو آزاد کر دیااور اس آزادی نے ان لوگوں کو جنہیں دنیا اَن پڑھ اور بَدُو کہہ کر پکارا کرتی تھی انہیں دنیا کی سب سے عظیم اور طاقتور ترین قوم بنا دیا ۔ اس وقت رسالت مآب ﷺ کی قیادت میں قائم ہونے والی مدینہ کی ریاست اور اس میں آنے والے انقلاب کو صحیح طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح رسول محترم ﷺ کے دنیا کی امامت کے فلسفے کا مطالعہ کریں تو وہ سارے عوامل کھل کر سامنے آجاتے ہیں جن کے باعث مسلمانوں نے 636 عیسوی میں یرموک کے مقام پر دنیا کی ایک سُپر طاقت رومن امپائر کو شکست دی جبکہ اس سے ایک سال بعد 637 عیسوی میں دوسری عالمی طاقت سلطنتِ فارس (Persian Empire) کو پچھاڑا ۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ 1971 کےالمناک سانحے کا نہایت جامعیت سے احاطہ کرتی ہے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مطابق فردِ واحد یحییٰ خان نے اپنی طاقت بڑھانے کی خاطر فوج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ اس شخص نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے فوج سے ہتھیار ڈلوائے ، رپورٹ کے مطابق ہماری فوج نے جنگ کے میدان میں تو خوب مقابلہ کیا لیکن فردِواحد یحییٰ خان نے فوج کی ساری کوشش پر پانی پھیر دیا۔ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ فردِواحد یحییٰ خان پانچ سال کیلئے فوج اور ملک دونوں کا سربراہ بننا چاہتا تھا جس کیلئے اس نے اپنا علیحدہ آئین بھی تیار کروا رکھا تھا ۔ فردِواحد یحییٰ خان نے فوج کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ فوج کو خود اسے ہٹانا پڑا.
جمہوریت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے ۔ جب کسی معاشرے میں اخلاقیات نہ رہیں تو وہاں جمہوریت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔جمہوریت میں عوام کو اپنے نمائندے خود چننے کا حق سب سے بنیادی ترین حق ہے ۔ پاکستان میں جس طرح سے جمہوریت اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی گئیں اس کی تفصیلات قوم کے سامنے ہیں جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے خیالات اور اس سے پہلے راولپنڈی کے کمشنر کا اعترافی بیان پاکستان میں جمہوریت کی حقیقت بیان کرنے کیلئےکافی ہے ۔اس وقت پاکستان میں صرف ایک جمہوری حکومت قائم ہے اور وہ خیبرپختونخوا کی حکومت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں حکومت کے تحت پورے صوبے میں کسی بھی سیاسی جماعت پر کوئی بھی سیاسی سرگرمی کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اس سے پہلے جب مرکز میں پاکستان تحریک انص��ف کی جمہوری حکومت قائم تھی تو ہماری مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سےکیے جانے والے احتجاجی مظاہروں یا سیاسی اجتماعات کے موقع پر نہ تو ان کے راستے روکے گئے ،نہ ہی ان پر کسی قسم کا تشدد کیا گیااور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ قائم کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے علاوہ پاکستان بھر میں قائم فارم 47 کی حکومتیں تحریک انصاف کی ہر پُرامن جمہوری اور قانونی سیاسی سرگرمی کی راہ ��وکتی ہیں، ہمارے کارکنوں کو بدترین ہراسگی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کی بھرمار کی جاتی ہے۔
کرپٹ حکمران اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے ملک سے جمہوریت اور اخلاقیات کو تباہ کیا جاتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہےکہ جو بھی پاکستان میں حکمرانی کے منصب پر پہنچا اس نے لوٹ کھسوٹ کر کے پیسہ باہر بھیجا ۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیر داخلہ ہے۔ دبئی لیکس پر محسن نقوی کو جوابدہ ہونا ہو گا اور قوم کواپنی اہلیہ کی جائیداد کی منی ٹریل دینا ہو گی اور قوم کو بتانا ہو گا کہ جب محسن نقوی اور اس کی بیوی کا سارا کاروبار پاکستان میں ہے تو جائیداد کی خریداری کیلئے ��یسہ باہر کیسے منتقل ہوا۔ اسی طرح اسے گندم اسکینڈل کا بھی جواب دینا ہو گا۔
جیل کے اندر انسان کو اپنے رَبّ سے قریب ہونے اور خالق سے تعلق قائم کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ جیل میں میں نے اپنی ضروریات کو محدود کر لیا ہے جس سے جیل میں رہنا اب مشکل نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب آپ اپنی خواہشات کی غلامی چھوڑ دیتے ہیں تو آپ آزاد ہو جاتے ہیں اور آزاد لوگ آزاد فیصلے کرتے ہیں ۔
مشکل وقت میں سوشل میڈیا ٹیم کی خدمات بے مثال ہیں، جیل میں بند ہونے کی وجہ سے کمیونیکیشن کے مسائل ضرور آئے ہیں لیکن مجھے اپنی سوشل میڈیا ٹیم پر بھرپور اعتماد ہے اور میں اپنی ٹیم کے کے ساتھ کھڑا ہوں۔ تمام سوشل میڈیا ورکرز کو میرا سلام ہے۔
"Exclusive: Imran Khan Talks to Me From Prison"
Another Zeteo exclusive: my interview with the former Pakistani prime minister, who tells me about his dire prison conditions, his view of the U.S. & the Pakistani military, & why the world should care:
https://t.co/8soUhWrkbh