امی نے چھت پر کپڑے ڈالنے کے لیئے دو تین چکر لگائے۔ میں نے اندر کمرے میں چلنے کا بولا۔ تیسرے چکر پر امی نے کمرے میں جا کر شلوار نیچے کی اور چارپائی پر لیٹتے ہوئے جلدی کرنے کا بولا۔
@muth69a چالیس تو نارمل سائز ہے۔ چوالیس اور چھیالیس بھی بالکل نارمل ہے۔ اڑتالیس سے اٹھاون ساٹھ تک بڑا حجم شمار ہوتا ہے بُنڈ کے لیئے۔ اور پھر آٹھ انچ لُلے بھی نارمل لگتے ہیں۔
مجھے دیکھتے ہی بھابی نے قمیض اُٹھا کر موٹے کولہوں کو بالکل عیاں کر دیا۔
اشارہ واضح تھا کہ اگر فنکشن پر جانے کے لیئے پیسے اور گاڑی چاہیے تو راستہ بھابی کے چوتڑوں کی گولائی میں سے ہی بنانا پڑے گا۔
پہلی بار کے بعد عدیل کافی کھل گیا تھا۔ جیسے ہی تنہائی میں موقع ملتا، ماں کو بِھلا کر کمرے میں بند کر لیتا، اور خوب چدائی کرتا۔
خالدہ ہچکچاتی تو سہی، لیکن جوان لُلا اپنی موٹی بُنڈ میں پھسا کر، نچوڑے بغیر باہر نہیں نکالتی تھی۔
ممتاز خالہ امی سے پانچ سال چھوٹی، رنگ بھی سانولہ، لیکن جسمانی خدوخال میں امی سے دوگنے حجم کی مالکن۔
موقع ملنے پر، جب لن ڈالا، تو چچی نے اپنے بڑے بڑے چوتڑوں میں لن کو بالکل غائب کیئے رکھا، اور نچوڑ کر ہی باہر نکالا۔
جماعت کی پریفیکٹ، سائرہ کو ہمیشہ مکمل حجاب عبایہ میں ملبوس دیکھا۔ کم حاضری کو پورا کرنے کے لیئے رابطہ کیا، تو کھیل کے میدان کے پچھلے حصے میں عبایہ اُٹھا کر اپنی گرم چوت ٹھنڈی کرنے کی شرط رکھی۔
لیکن حاضری مکمل کر دی۔
کام والا لڑکا امی کے کندھے دباتا اور"ماں جی" بول کر بہت خدمت کرتا۔
دروازہ بند تھا،امی لیٹ کر کمر دبوا رہی تھیں۔ لیکن نیچے سے لڑکے کا لن، کالے ناف کی طرح امی کی ننگی موٹی بُنڈ پر رینگ رہا تھا۔
کچھ لمحے بعد اُس نے جھٹکے سے لن امی کے اندر کر دیا اور کمرے کی روشنی بھی بھج گئی
��اؤں جاتے وقت جان بوجھ کر اضافی سیٹس کروائیں اور پیچھے بہن کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا، اور آہستہ آہستہ لنڈ نکال کر ہلایا۔
کچھ دیر بعد پورا سخت کھڑا ہوا، تو خود ہی ہاتھ لگا کر ہلانے لگ گئی۔ "بھائی گھر میں تو چھوٹا تھا، اتنا بڑا اور پتھر جیسا سخت کیسے ہو گیا"
والدہ کے نقشے قدم پر چلتی رخسار خالہ بھی بھرپور چھاتیوں، موٹی رانوں اور بھاری کولہوں کی مالکن تھی۔
��س دن چودنے کا موقع ملا، اُس دن، صبح سے شام تک خالہ کی لاسٹک والا شلوار اور میری ڈھیلی نیکر، متعدد بار کمرہ بند کر کے، پیروں میں گرے۔
دو دن کے لیئے آئی سہرش آپی کے گول گول موٹے چوتڑ ایک دوسرے سے ٹکرا کر پورے گھر میں مٹک رہے تھے۔ مجھے لگا شاید لنڈ لینے کے لیئے جان بوجھ کر مٹکا رہی، اس لیئے جب گھوڑی بنی، ہلکا سا ہاتھ لگاتے ہی دونوں چوتڑ بیس سیکنڈ تک خود ہی ہلتے رہے۔ جس سے ثابت ہوا آپی جان بوجھ کر نہیں مٹکاتی۔
@nangi_tapish ہاں جی۔ اس سے کافی فائدہ ہو گا۔ ماں باپ کا دماغ بھی کُھلے گا۔ اور گھروں میں اگر کوئی بھی بہن بھائی، ماں بیٹا، یا باپ، کسی رشتے میں جُڑ جائیں، تو اس کو قبول کیا جائے۔
بہن بھائی دو دن کے لیئے گھر میں اکیلے تھے۔ عاشی کا پہلے دن کا پہنا ہوا پاجا��ہ، ایک بار اُ��را، اور دوبارہ پہننے کی نوبت نہ آئی۔
اسی دوران گھر والوں کی کال آئی، بہن نے ہی حال احوال بتا کر اُن کی تسلی کروائی، بھائی تو اُس وقت بھی بہن کی رسیلی ملائم پھدی چودنے سے نہیں رُکا.