ڈیل وہ تھی جو نواز شریف کی صحت پر ضمانت کی درخواست چند گھنٹوں میں سنی گئی، جج بولا لکھ کر دیں نواز شریف بیماری سے اتنے دن نہیں مرے گا، پھر پچاس والے اسٹام پر لندن روانہ کروا دیا
یہ کہاں کی ڈیل کہ سال بعد درخواست سنی اور جج بولا کہ ایک جملہ فالتو بولا تو آرڈر کینسل کر دیں گے
عمران خان کا بطور وزیراعظم یہ ظرف تھا کہ نواز شریف کو ایک دن جیل میں بیمار نہیں ہونے دیا،
اور فوری طور پر علاج معالجے کا بندوبست کیا۔
جبکہ آج کی بےحس، سفاک چمگادڑوں کی سفاکی اور بربریت کا عالم یہ ہے کہ عمران خان سے سیاسی مقابلہ ہار کر اب عمران خان کو جیل میں اذیت دے رہے ہیں۔
اللّه عمران خان کے دشمنوں کو غرق کرے۔ آمین۔
🚨سائفر پڑھنے کے بعد اگر ہمارا سر فخر سے بلند تھا تو اب ہمارا سر آسمان سے لگ رہا ہے کہ امریکی سیکرٹری گواہی دے رہا ہے کہ عمران خان صرف اپنی قوم کا سوچتا ہے اور عمران خان آزاد خارجہ پالیسی اور ملک کی خود مختاری کیلئے کام کرتا ہے،
علیمہ خان
چلو اور کچھ ہو نہ ہو، لیکن عوام کو یہ تو پتا چل گیا کہ کس کس نے عمران خان سے سچی وفا نبھائی۔ اور کس کس نے عمران خان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔
سیاست کی بساط کبھی ایک سی نہیں رہتی۔ کوئی جتنا مرضی بھاگ لے، بالآخر آج نہیں تو کل عوام کی عدالت میں آنا ہو گا۔
عمران خان نے کہا ہے کہ نریندرمودی ناقابل اعتبار ہے وہ پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو گا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کرے گا جیسا پہلے کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا