Footage shows dead bodies of Pakistani soldiers after BLA took control of the FC headquarters in Nushki.
Pakistani journalists and analysts are saying that, for now, the BLA’s simultaneous operations in 16 cities have effectively stripped the government of control in Balochistan.
This situation is being seen as an indication that, in the near future, Balochistan could emerge as an independent state.
#OperationHerof2.0
During operation Herof 2, BLA fighters have taken full control of the CTD headquarter in Nuhski
It is worth recalling that just a few days ago, the CTD killed five innocent people in a single burst of heavy gunfire in the Karbala area of Pishin, an incident that sparked strong criticism of the CTD’s conduct across Pakistan and around the world.
#OperationHerof 2.0
During operation Herof 2, BLA fighters have taken full control of the CTD headquarter in Nuhski
It is worth recalling that just a few days ago, the CTD killed five innocent people in a single burst of heavy gunfire in the Karbala area of Pishin, an incident that sparked strong criticism of the CTD’s conduct across Pakistan and around the world.
#OperationHerof 2.0
سانح�� پ��ـــین: پولیــــس نے دہشـــت گردی کے دعوے کے تحت شہریوں کو قتل کر کے لاشـــیں جلا دی
بلوچستان کے ضلع پشین میں 26 اور 27 جنوری 2026 کی درمیانی شب CTD اور ATF کی قیادت میں ہونے والا آپریـــشن سوالات کھڑے کر گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی دہشـــت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی تھی اور فائرنـــگ کے تبادلے میں سابق قبـــائلی رہنما عبدالرّب آغا کے تین بیٹے حامد آغا، اسد آغا اور واحد آغا سمیت اس خاندان کے دو مزید افراد قــــتل ہوئے ہیں۔
جب کہ پولیــس کے غـــیر مصدقہ دعوے کے مطابق ان سے بڑی مقدار میں ہتھیار برآمد ہوئے، جن میں راکٹ لانچر، ہینڈ گرینیڈز اور SMGs شامل تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ آپریـــشن ثناء اللہ آغا اور اس کے ��ھائیوں کے گ��ر کیا گیا۔
تاہم مقامی ذرائع اور لواحقین کا مؤقف ہے کہ ہــــلاک شدگان عام شہری تھے اور ان کی لاشیــــں اس قدر مسخ شدہ اور جُھلــــسائی گئی تھیں کہ شناخت مشکل ہو گئی۔
لواحقین نے دعویٰ کیا ہے کہ لاشـــوں کو جان بوجھ کر نـــذر آتـــش کیا گیا، تاکہ اصل حقـــائق چھپائے جا سکیں۔
سرکاری دعوے میں بتایا گیا ہے کہ لاشـــوں کو آگ مقــــتولین کے پاس موجود دھمـــــاکا خـــیز مواد کے پھٹــــنے سے ہونے والے دھــــماکے سے لگی ہے، لیکن مقامی رپورٹــــس میں اس کارروائی کے دوران کسی بھی دھــــماکے کی اطلاع اور تصدیق ریکارڈ نہیں ہوئی۔
جب کہ پولیـــس نے اس کار��وائی کے دوران مقــــتول افراد کے گھر کو بھی منہدم کر دیا ہے، جیسا کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعے کے بعد پشین اور دیگر عـــلاقوں میں شــــدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ قبائـــلی عمائـــدین، سیـــاسی جماعتــــوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے واقعے کی مذمت کی ��ور شفاف جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
سانحہ پشین یہ واضح کرتا ہے کہ پاکســـتان کے بعض سکیــــورٹی ادارے اپنی پروگریــــس دکھانے کے لیے ایسی جــــعلی کارروائیــــاں کرنے میں مشہور اور بدنام ہیں۔
اس واقعے سے عوام میں بے اعـــتمادی مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکــــستان میں طاقـــت کے زور پر مســـئلے حل کرنے کی حکـــومتی و فـــوجی عســــکری کوششیں انسانی جانوں کے ضـــیاع اور عوامی تحفـــظات کی نظرانـــدازی کا سبب بن رہی ہیں۔
حقـــیقی امن اور تحفـــظ کے لیے شفاف تحـــقیقات، عوامی تحفـــظات کی سنجیـــدہ قدر اور ســـیاسی مـــذاکرات ضروری ہ��ں۔
During operation Herof 2, BLA fighters have taken full control of the CTD headquarter in Nuhski
It is worth recalling that just a few days ago, the CTD killed five innocent people in a single burst of heavy gunfire in the Karbala area of Pishin, an incident that sparked strong criticism of the CTD’s conduct across Pakistan and around the world.
#OperationHerof 2.0
بلوچستان کی آزادی پسند تنظیم BLA نے نوشکی جیل پر کنٹرول قائم کر لینے کا دعوی کر دیا۔
یاد رہے کہ آزادی پسند اور انقلابی تحریکوں کی جانب سے جیلوں کا کنٹرول سنبھالنا اہم اقدام سمجھا جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ
وہاں پر قابض انتظامیہ نے انقلاب و آزادی پسندوں کو ان جیلوں میں قید کر رکھا ہوتا ہے۔
دوسری جانب واضح رہے کہ BLA نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں بہ یک وقت "آپریشن ہیروف 2" پانچ کر رکھا ہے۔
جس میں BLA کے دعوے کے مطابق پاکستانی فوج کے دسیوں اہل کار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ فوج اس حملے کو روکنے میں ناکام بتائی جا رہی ہے۔
بی ایل اے کا اعلامیہ 👇
بلوچستان کے متعدد شہروں میں بیک وقت حملے، آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا دعویٰ؛ بی ایل اے
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے مطابق آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے کم از کم دس شہروں میں بیک وقت منظم حملے کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ، گوادر، پسنی، نوشکی، مستونگ، قلات، خاران، دالبندین، تمپ اور بلیدہ میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث مختلف علاقوں میں نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔
جب کہ بعض مقامات پر فدائی حملے بھی کیے گئے۔ اسی طرح کوسٹل ہائی وے پر دباؤ کے باعث لاجسٹک سرگرمیوں میں خلل پڑا۔
مختلف یونٹس مشترکہ طور پر کارروائیوں میں شریک ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ترجمان، بل��چ لبریشن آرمی
31 جنوری 2026
یہ کوئی ��حافت نہیں ہے۔
یہ طاقت کے فوجی بیانیے کو خوش کرنے کی خدمت ہے۔
ٹیڑھے منہ کے ساتھ من مانے اعداد و شمار اچھال کر پورے علاقوں کو ”دہشت گردوں کا گڑھ“ قرار دے دینا... یوں بالواسطہ طور پر وہاں رہنے والے انسانوں کے قتل و دربدری کو جائز ٹھہرا دینا اور اس کی ذہن سازی کرنا ضمیر کی شکست ہے...
صحافی کا کام سوال اٹھانا، ثبوت مانگنا اور انسانی جان کی حرمت کا دفاع کرنا ہوتا ہے نہ کہ ریاستی دعووں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اجتماعی سزا کے فتوے بانٹنا....
جو لوگ صحافت کے نام پر نفرت، خوف اور خون ریزی کو معمول و جائز بنائیں، وہ صحافت پر دھبہ ہیں۔ اور ایسے بکاؤ مال کو صحافی کہنا ہی بجائے خود ایک سنگین جرم ہے...
آج یہ طاقت کے سامنے سرنگوں ہو کر وادی تیراہ کے اپنے ہی لوگوں کو قتل کروا رہا ہے، کل اسے ضرورت پڑی تو یہ اپنی واہ واہ کرنے والوں بھی قتل کرا دینے کے فتوے بانٹ دے گا...
یہ ��عاشرے کے وہ ناسور ہیں، جن کے گھر کا چولہا مظلوموں کی لاشوں کی چربی سے جلتا ہے۔
یہ وہ بدبخت ہیں، جب یہ اپنی بیوی کو کچھ کھلاتے ہیں تو وہ بے گناہ مقتولوں کی لاشیں ہیں...
جب ان کے بچوں نے کچھ پینا ہو تو یہ اُنہیں اِنہی لاشوں کا خون پلاتے ہیں...
جب انہوں نے برسات دیکھنی ہو تو مظلوموں کے آنسوؤں کا انتخاب کرتے ہیں...
جب انہوں نے اپنے کانوں کو راحت دینی ہو تو یہ مظلوموں کی سسکیوں اور آہ و زاریوں کو موسیقی قرار دے دیتے ہیں...
یہ بدبخت معاشرے کے خون آشام گِدھ ہیں....
آج کی تاریخ
”جب قومیں ظالم کے بجائے ظلم کے خلاف بولنے والوں کے سچ سے ناراض ہونا شروع ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ زنجیریں صرف ہاتھوں میں نہیں، سوچ میں بھی پڑ چکی ہیں۔“
قازقستان-پاکستان براستہ افغانستان ریل کنیکٹیویٹی منصوبہ: 7 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط متوقع
قازقستان اور پاکستان کے درمیان 3 فروری 2026 کو ایک تاریخی ریل کنیکٹیویٹی منصوبے پر دستخط متوقع ہیں، جس کی مالیت تقریب��ً 7 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
یہ معاہدہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے کا امکان ہے۔
منصوبے کے تحت دونوں ممالک ریلوے کے شعبے میں تعاون کو باضابطہ شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداش�� پر دستخط کریں گے اور اسے تین سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس ریل منصوبے کے ذریعے پاکستان کو افغانستان کے راستے ترکمانستان اور قازقستان سے جوڑا جائے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو وسطی ایشیا اور روس تک براہِ راست زمینی رسائی حاصل ہو گی۔
اس کا بنیادی مقصد کراچی کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیائی منڈیوں سے منسلک کرنا ہے، تاکہ علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور معاشی انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ایک ممکنہ ”گیم چینجر“ ثابت ہو سکتا ہے... کیوں کہ اس سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
��در توقایف کے 3 اور 4 فروری کو متوقع دو روزہ دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور دیگر باہمی دل چسپی کے امور پر بھی تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ریل منصوبہ جغرافیائی اعتبار سے افغانستان کے بغیر نامکمل ہے اور اس کی کامیابی کے لیے کابل اور اسلام آباد کے ت��لقات میں استحکام کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
قازقستان اس منصوبے میں افغانستان کو کسی رکاوٹ کے بجائے ایک اہم ٹرانزٹ پارٹنر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
قازق حکام پہلے ہی کابل میں امارتِ اسلامی کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں، تاکہ افغان سرزمین پر ریلوے ٹریک کی تعمیر اور سکیورٹی کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور سکیورٹی کی صورت حال اس منصوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
اس کے باوجود قازقستان کا مؤقف ہے کہ بڑے معاشی منصوبے تجارت کے ��ریعے امن کے لیے مراعات پیدا کرتے ہیں اور فریقین کو اختلافات کم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ قازقستان نے افغان حصے کی تعمیر کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق اس معاہدے کے تحت ریل روٹ کے لیے دو بڑے متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا ہے، جو افغانستان کے اہم شہروں سے گزریں گے۔
ایک راستہ مغربی افغانستان سے ہو کر ترکمانستان کے قریب افغان شہر تورغنڈی سے ہرات، دلآرام ��ور قندھار کے راستے اسپن بولدک تک پہنچے گا، جہاں سے ٹرین پاکستان کے شہر چمن میں داخل ہو کر کوئٹہ اور آگے گوادر یا کراچی تک جا سکے گی۔
دوسرا راستہ مشرقی افغانستان سے گزرے گا، جو ازبکستان کی سرحد پر واقع حیرتان سے مزار شریف، پلِ خمری، کابل اور جلال آباد کے راستے طورخم سے پشاور میں داخل ہوگا، جب کہ ایک متبادل تجویز میں لوگر کے راستے خرلاچی بارڈر سے پاراچنار اور کوہاٹ تک رسائی بھی شامل ہے۔
منصوبے کے تحت قازقستان نے افغان حصے کی تعمیر کے لیے پانچ سو ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری اور ریل کی پٹریاں فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ریل لنک کے مکمل ہونے ��ے وسطی ایشیا سے کراچی کی بندرگاہ تک سامان کی ترسیل کا وقت 35 دنوں سے کم ہو کر صرف 3 سے 5 دن رہ جائے گا۔
مجموعی طور پر یہ منصوبہ پاکستان کی جیو اکنامک حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کر کے وسطی ایشیائی منڈیوں تک اپنی رسائی کو وسعت دینا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قازق صدر کا دورہ اور یہ متوقع معاہدہ خطے میں معاشی تعاون کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عمر المختار کے دستِ راست، یوسف بُو رحیل المسماری: لیبیا کی آزادی کی تحریک کا فراموش کیا گیا رہنما
یوسف بُو رحیل المسماری لیبیا کی آزادی کی جدوجہد کی ایک اہم، مگر کم معروف شخصیت تھے۔
وہ شیخ الشہداء عمر المختار کے نہایت قریبی ساتھی اور عملی طور پر ان کے نائب سمجھے جاتے تھے۔
آزادی کی اس طویل جدوجہد میں شاید ہ�� کوئی ایسا معرکہ ہو، جس میں یوسف بو رحیل شریک نہ رہے ہوں۔
وہ صرف ایک دلیر م��اہد ہی نہیں تھے... بلکہ جنگی منصوبہ بندی، قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔
میدانِ جنگ میں عمر المختار کو ان پر مکمل اعتماد تھا۔ وہ نہ صرف لڑائی میں ان کے دستِ راست تھے... بلکہ قبائلی تنازعات کے حل، مجاہدین کے باہمی معاملات اور دشمن سے بات چیت جیسے نازک امور میں بھی عمر المختار کی نمائندگی کرتے تھے۔
ان کی دانائی اور معاملہ فہمی کا یہ عالم تھا کہ خود عمر المختار نے کہا تھا:
”یوسف بو رحیل کے بغیر عمر المختار کچھ نہیں۔“
جب بزرگ مجاہد فُضَیل بُو عمر شہید ہوئے تو عمر المختار کے خطوط اور پیغامات لکھنے کی ذمہ داری یوسف بو رحیل کو دی گئی۔ اس طرح وہ تحریکِ مزاحمت کی قیادت کی آواز اور قلم بن گئے۔
اطالوی فوج کے کمانڈر جنرل گریزیانی نے بھی انہیں عملی طور پر قیادت کا قائم مقام تسلیم کیا، جو دشمن کی نظر میں بھی ان کی اہمیت کا واضح ثبوت تھا۔
یوسف بو رحیل کی جنگی قیادت کا ایک نمایاں نمونہ 'جردس العبید' کی لڑائی تھی۔
انہوں نے اس معرکے میں بڑی بہادری اور حکمت کے ساتھ اطالوی فوج کو سخت نقصان پہنچای��۔
اس جنگ میں مجاہدین کو دشمن کا اسلحہ، گولہ بارود اور راشن بھی ہاتھ آیا، جس سے آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔
سن 1931ء میں جب عمر المختار گرفتار ہو کر سلوک کے مقام پر شہید کر دیے گئے تو اطالویوں نے سمجھ لیا کہ اب لیبیا کی مزاحمت ختم ہو جائے گی... مگر یہ ان کی بڑی غلط فہمی تھی۔
عمر المختار کی شہادت نے جدوجہد کو ختم نہیں کیا، بلکہ اس میں نیا جوش اور نئی جان ڈال دی��
اس وقت باقی رہ جانے والے مجاہد رہنماؤں نے ب��ہمی مشورے سے یوسف بو رحیل کو اپنا قائد منتخب کیا۔ اس فیصلے کی تائید بزرگ رہنما سید احمد شریف کے پیغام سے بھی ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ یہ فیصلہ عمر المختار کی وصیت کے مطابق اور جدوجہدِ آزادی کو زندہ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یوسف بو رحیل نے قیادت ایسے وقت میں سنبھالی، جب حالات نہایت سنگین تھے۔
مجاہدین بھوک، بیماریوں اور اسلحے کی شدید کمی کا شکار تھے۔ اطالوی فوج نے ہر طرف سے سخت گھیراؤ کر رکھا تھا۔ نہ خوراک آسانی سے ملتی تھی اور نہ ہی جنگی سامان... ایسے حالات میں مجاہدین کے پاس اگر کوئی طاقت باقی تھی تو وہ ان کا پخت�� ایمان اور آزادی کے لیے غیر متزلزل عزم تھا۔
ان کٹھن حالات کے باوجود یوسف بو رحیل نے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔
انہوں نے اپنے ساتھی قائدین کو جمع کر کے کہا کہ اگرچہ وہ ہر طرف سے گھر چکے ہیں، ان کے اہل و عیال دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں اور دشمن مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے... لیکن وہ نہ جھکیں گے اور نہ ہی غلامی قبول کریں گے۔
ان کا عزم تھا کہ آخری گولی اور آخری سانس تک جدوجہد جاری رہے گی۔
بالآخر 19 دسم��ر 1931ء کو طبرق کے مشرق میں ایک مقام پر اطالوی فوج نے یوسف بو رحیل ��ور ان کے چند ساتھیوں کو گھیر لیا۔
انہوں نے ایک تنگ غار میں پناہ لے کر بہادری سے مقابلہ کیا۔
جب گولہ بارود ختم ہو گیا تو یوسف بو رحیل اور ان کے ایک ساتھی نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ دو مجاہد گرفتار کر لیے گئے۔
دشمن نے اس واقعے کو مزاحمت کے خاتمے کی علامت بنانے کی کوشش کی، مگر وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ آزادی کی تحریکیں مجاہدینِ آزادی کی لاشوں کے ساتھ ہی دفن نہیں ہو جاتیں۔
شہداء کی قربانیاں قوموں کی تاریخ میں جدوجہد کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہیں۔
یوسف بو رحیل المسماری ان عظیم اور گمنام شہداء میں شامل ہیں، جنہوں نے آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور جن کا نام آج ب��ی حریت پسندوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
عبرانی چینل 14:
اسرائیل میں اس امکان پر تشویش بڑ��تی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت قائم کی گئی ٹیکنوکریٹس ��میٹی کے ہوتے ہوئے بھی حماس غزہ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک منظرنامہ یہ ہے کہ حماس کمیٹی کے ’’پردے کے پیچھے‘‘ سرگرم رہے، اس سے وہ مزید مضبوط ہو جائے۔
ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے i24 NEWS کو خبردار کرتے ہوئے کہا:
اگر ہم نئی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کے سائے میں حماس کی سرگرمیوں کو قبول کر لیتے ہیں تو غزہ پٹی میں حزب اللہ جیسا ماڈل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل:
’’میں اسرائیل کی جانب سے دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہوں۔‘‘
مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر، گھروں کی مسماری، بے دخلی اور آبادکاروں کا تشدد بند ہونا چاہیے۔
تمام فریقوں کو ’’اسرائیل‘‘ پر دباؤ ڈالنا چاہیے، اور سب سے زیادہ اثرورسو�� رکھنے والی ریاست امریکا ہے۔
فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنا امریکا کے لیے اہم قدم ہے۔
حماس کی سرکاری ویب سائٹ نے ایک پوسٹر شائع کیا ہے، جس میں معرکہ "طوفان الاقصیٰ" کے دوران شہید ہونے والے نمایاں سیاسی اور عسکری قائدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
آج کی تاریخ
”جمعے کے روز سورۃ الکہف کی تلاوت دل کو نور عطا کرتی ہے، ایمان کی محافظ بنتی ہے اور آئندہ ��معے تک روشنی کا سبب بنتی اور فتنوں سے بچے رہنے کا باعث بنتی ہے۔“
امارتِ اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان TV کو ایک انٹرویو دیا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. الحمدللہ، افغان عوام اور مجاہدین نے 20 سالہ مغربی ��بضے سے پوری بہادری کے ساتھ آزادی حاصل کی ہے۔ آج الحمدلله تمام افغان اسلامی نظام کے سائے تلے وحدت اور امن و امان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
2. امارتِ اسلامی افغانستان کے دوبارہ قائم ہونے کے بعد تمام افغانوں کو تجارت کے مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ حالیہ چار سالوں میں صرف صوبہ ہرات میں پیداواری فیکٹریوں کی تعداد 150 سے بڑھ کر 1200 ہو گئی ہے۔
3. گزشتہ چار مالی سالوں کے لیے قومی بجٹ اسلامی امارت نے اپنے اندرونی مالی وسائل سے فراہم کیا ہے، جو ملک کی معیشت کے لیے امید افزا پیش رفت ہے۔
4. گزشتہ سال کے موسمِ بہار سے اب تک بیس لاکھ 800 ہزار مہاجرین ��فغانستان واپس آ چکے ہیں۔ اور اس دوران امارت اس قابل رہی ہے کہ ہجرت سے واپس آنے والے شہریوں کو مختلف شعبوں میں بہتر خدمات فراہم کرے۔
5. امارت نے گزشتہ سال غریب، یتیم اور معذور شہریوں کو 12 ارب افغانی کی نقد مالی امداد فراہم کی ہے۔
6. امارت ہر ماہ دس لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازمین کو اپنے داخلی بجٹ سے تنخواہیں ادا کرتی ہے۔
7. ہجرت سے واپس آنے والے شہریوں میں ایسی خاندان بھی شامل تھے، جو اسپین بولدک کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے۔ امارت نے انہیں دیگر خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ان کے آبائی شمالی علاقوں تک مفت منتقل کیا ہے۔
8. عدالتی امور کے بہتر نفاذ کے مقصد سے تعزیری ضابطۂ قانون کی تشریح کی گئی ہے۔ اس ضابطۂ قانون میں درج تعزیرات اسلامی شریعت اور فقہِ حنفی سے اخذ کی گئی ہیں۔
9. امارت کی داخلی سلامتی مضبوط ہے اور ملک کے عوام کے لیے قابلِ اطمینان ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال یہ ہے کہ گزشتہ عید قربان کے موقع پر دو لاکھ شہری ملک کے مختلف صوبوں میں سیاحت کے لیے گئے تھے۔
10. واخان راہ داری کے حوالے سے چین کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اس مسئلے پر امارت اور چین دونوں کی طرف سے خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
11. حالیہ طور پر جاری ضابطۂ تعزیرات کے بارے میں تشویش نہ کریں اور اس دستاویز کا وہ لوگ درست فہم حاصل کر سکتے ہیں، جو اسلام کے حدود و تعزیرات سے متعلق قوانین و ہدایات کا کچھ نہ کچھ علم و فہم رکھتے ہیں۔
12. امارت تمام ممالک سمیت امریکا کے ساتھ اچھے اور متوازن تعلقات کا خواہاں ہے۔ ممکن ہے کہ امریکا اس نتیجے پر پہنچ گیا ہو کہ افغانستان میں اس کی سفارتی غیر موجودگی اس کے مفاد میں نہیں ہے۔
13. چالیس سال بعد افغان عوام پہلی بار مستحکم سلامتی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ امارتِ اسلامی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے تمام علاقوں میں مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور لوگ اطمینان کے ساتھ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں سفر کر سکتے ہیں۔
14. امارتِ اسلامی کے اعلیٰ عہدوں پر ہر وہ شخص منتخب کیا جائے گا، جو اس ذمے داری کا اہل ہو۔ اس کی مثال حال ہی میں امیرالمؤمنین شیخ صاحب کی جانب سے ممتاز طلباء کو ذمہ داریاں سونپنے کے اعلان میں دیکھی جا سکتی ہے۔
15. امارتِ اسلامی کے انتظامی ڈھانچے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازمین شامل ہیں، جن میں 80 فیصد سابقہ دور حکومت کے ملازمین ہیں۔
16. امارتِ اسلامی ملک کے استحکام، سلامتی اور عوام کی جائز توقعات کے پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کوشش کرتی ہے کہ اسلامی اصولوں اور قومی مفادات کی روشنی میں عوام کے مسائل حل کیے جائ��ں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی آراء اور سوالات نظام کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور معاملات کی بہتر انجام دہی کے لیے ان پر کام کیا جائے گا۔
17. امارتِ اسلامی نے رواں مالی سال اور آنے والے مالی سال کے لیے 500 بڑے اور چھوٹے ترقیاتی منصوبے تیار کیے، جن میں سے بیشتر الحمدللہ مکمل ہو چکے ہیں اور افادۂِ عام کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں، جب کہ باقی پر کام جاری ہے۔ انہیں بھی مقررہ اور منصوبہ بند مدت میں مکمل کر کے عوامی استعمال اور فائدے کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
18. امارتِ اسلامی کے اندرونی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کے اختلافات موجود نہیں۔ سب ایک امیر کے حکم کے تحت اسلامی نظام کے استحک��م اور ملک کی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
19. جو لوگ حالیہ طور پر جاری ضابطۂ تعزیرات پر تنقید کر رہے ہیں، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا اسلام بارے علم کمزور، نامکمل اور سطحی ہے۔
20. مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور بنیادی ڈھانچے، معیشت اور عوامی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے ہم اور آپ ہر صوبے میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔
21. امیرالمؤمنین شیخ صاحب حفظہ اللہ بڑے اجتماعات، سیمینارز کے علاوہ قبائلی سرداروں اور عوام کے ساتھ مجالس میں ملاقات کرتے ہیں۔
قندهار سے انار کی برآمدات میں نمایاں اضافہ
افغان تاجروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران صوبہ قندهار سے تقریباً 23 ہزار ٹن انار مختلف ممالک کو برآمد کیے ہیں، جو ملکی زرعی برآمدات میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق:
قندهار کے انار ہندوستان اور اُس کے پڑوسی پاکستان سمیت سعودی عرب، ملائیشیا، ازبکستان، روس، قازقستان، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت متعدد ممالک کی منڈیوں تک پہنچائے گئے۔
ان برآمدات کی مجموعی مالیت 10 ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔
تاجروں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ:
قندهار کے انار اپنے اعلیٰ معیار، منفرد ذائقے اور تازگی کے باعث عالمی منڈیوں میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔