Writer | Poet | I write to breathe | I write to heal | نظم، غزل اور اشعار اپنے لیے اور آپ کے لیے | What I share here is no longer just mine; it’s ours.
میں ڈھونڈتا ہوں روشنی
وہ روشنی جو روح کو گرما سکے
لیکن یہاں
ہر سمت پھیلی ہے فقط گہری خموشی، تیز دھند
اور زندگی اک بارِ سنگیں کی طرح
اے ہم سفر!
کیا مٹ سکے گا یہ اندھیرا سوچ کا؟
کیا صبحِ نو آئے گی پھر؟
یا خواب کی ان بستیوں کے در ہمیشہ بند ہیں؟
ایم۔اے۔کاظم
#شاعری#نظم#poem #
مسافر
شامِ الم!
تاریک راتوں کا سفر
کب تک چلے؟
میرا یہ دل، میرا یہ غم
اجنبی احساس کی آغوش میں روتا ہوا
تکتا ہے تاروں کی طرف
اے وادیِ خوابِ رمیدہ کے مکیں!
پرچھائیاں
امید کی پرچھائیاں
تاریکیوں کے دیس میں کھونے لگیں
جیسے کوئی بجھتا ہوا مٹتا ستارہ رات کا
لیکن اس سنسان شب میں
میں تو بس اک آئنہ ہوں
جو کسی مسمار رستے پر پڑا ہے
اور اپنے عکس کی ہجرت پہ حیراں ہو رہا ہے
ایم۔اے۔کاظم
#شاعری#نظم#poem#poetry#urdupoetry
پرانا تماشائی
رات کی کالی ندی میں
بستیاں سب بہہ گئیں ہیں
صرف کچھ ویران چہرے،
سرد آنکھیں رہ گئیں ہیں
تیرتے ہیں اس ندی میں
خواب اپنے، دھیان اپنے
تلملاتے ہیں اندھیرے میں پرانے جاننے والے شکاری
اور وہ وحشی پرندے
جن کے پر نوچے گئے تھے
شہر کی پچھلی گلی میں
ایک بوڑھا جادوگر اب تک کھڑا ہے
جس کے کشکولِ ہوس میں
کچھ صدف ہیں، کچھ ستارے
کہہ رہا ہے:
”کوئی ہے جو اپنی بینائی مجھے دے؟“
”کوئی ہے جو اس تماشے کا نیا تاوان بھر دے؟“
اُداسی
اُداسی کوئی سمندر نہیں
کہ جس میں ڈوب جائیں
یہ تو وہ دھوپ ہے
جو شام ڈھلے
دیواروں سے اُتر کر
کمرے میں آ جاتی ہے!
—کاظم
#urdupoetry#نظم#شاعری#shayari#poem
رباعی
( بہ مناسبتِ میلادِ مسعودِ امام حسین )
مجموعۂ شیرازۂ عرفاں ہے حُسین
بالیدگیِ گلشنِ امکاں ہے حُسین
جس راز کو پاتی نہیں پروازِ شعور
اس غیبِ دروں کا رُخِ تاباں ہے حُسین
—کاظم
اگر
میں نے اپنی جیکٹ کی جیب میں
ہاتھ ڈالا تو
ایک بہت پرانا سِکّہ ملا
میرا جی چاہتا ہے
میں اس سِکّے کو ہوا میں اچھالوں
اور دیکھوں کہ ہیڈ آتا ہے یا ٹیل
مگر مجھے ڈر ہے
کہ اگر یہ سِکّہ
ہوا میں ہی معلق رہ گیا تو؟
پھر میں اپنی پوری زندگی
گردن اٹھائے
آسمان کو ہی تکتا رہوں گا!
—کاظم
شعریت
لڑکی نے پھول کی پتی پر
اپنا نام لکھ کر پانی میں بہا دیا
کچھ دیر بعد سمندر کا رنگ
اس کے نام جیسا ہو گیا
اور تمام کشتیاں
!اس کے حروف کے سہارے تیرنے لگیں
—کاظم
دستک
رات کے آخری پہر
دروازے پر
ایک دستک ہوئی ہے
میں نے کھول کر نہیں دیکھا
کیونکہ باہر کوئی ہو
تو ڈر لگتا ہے
اور کوئی نہ ہو تو
زیادہ ڈر لگتا ہے!
—کاظم
#نظم#Urdu#Shayari#poetry
متبادل
وہ جب بھی ملاقات کے لیے آتی ہے
اپنے ساتھ ایک بلی لاتی ہے
تاکہ جب ہم خاموش ہوں
تو بلی ہمارے درمیان موجود اس سناٹے کو
اون کے گولے کی طرح لپیٹ دے!
—کاظم
خاموشی
دیوار پر لگی یہ گھڑی
مسلسل ٹک ٹک کر رہی ہے
اور مجھے ڈر ہے
کہ اگر یہ رک گئی
تو کمرے میں میری سانسوں کا شور
کتنا واضح ہو جائے گا!
—کاظم
#poem#poetry#urdu#Shayari#نظم#اردو_زبان
نظم
میں نے دیوار پر لگی اپنی تصویر سے
گرد صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا
تو تصویر کے اندر والے ’میں‘ نے
میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر کھینچ لیا
اب میں فریم کے اندر سے دیکھ رہا ہوں
کہ ایک اجنبی شخص
میرا کمرہ صاف کر رہا ہے!
—کاظم