These Afghans come here as guests n have audacity to trash our cities. If u cant respect the land that feeds u, pack ur bags n get out. We r sick of ur lawlessness destroying our public property #Ceasefire#پاکستان
Diesel mafias and political horse-trading have names attached in the public mind. Fazlur Rehman’s track record of alleged corruption makes the past barking look like pure theater. #راشی_ڈیزل_نامنظور
The contrast is striking: a public face of religious devotion and an underlying political reality shaped by power, negotiation, and opportunism. That gap defines much of Fazal ur Rehman’s public life.
#راشی_ڈیزل_نامنظور
For decades, his entire political career has relied on exploiting religious sentiments to secure land, wealth, and top-tier government protocols. The public is done watching faith being treated like a personal family business.#راشی_ڈیزل_نامنظور
Politics for decades gave him influence and comfort, but left the ordinary people with zero lasting gains. Calling it service cannot hide that it is still fraud.
#راشی_ڈیزل_نامنظور
Sacrificing the stability and safety of the country's borders for personal political leverage. True leaders build up the nation, but this old guard only cares about shielding their illegal privileges and keeping unchecked influence.#راشی_ڈیزل_نامنظور
He may appear as a man of faith and principle on the outside, but his political record shows a consistent willingness to engage in the kind of dealings that stand in direct opposition to the moral authority he claims.
#راشی_ڈیزل_نامنظور
میرے پاس میرے والد اور چچا کی صورت میں گھر سے ہی دو بہت بڑی مثالیں اور ان کی رہنمائی موجود ہے، لیکن میرا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ کراچی سےآئے صحافی نے کہاکہ میں کبھی نہیں سوچ سکتا تھاکہ آپ اتنی کامیاب ہو جائیں گی، آپ ہمیں سرپرائزکیا ہے
@MaryamNSharif
Nothing in politics can equal the sacrifices of our martyrs. Fazlu Diesel, every public figure must recall this before uttering words that may wound their families or the wider nation.
#راشی_ڈیزل_نامنظور
5 مرلے کے مکان سے سیاسی سفر شروع کرنے والے مولانا فضل الرحمن نے بلیک میلنگ اور مدراس کے نام پر ملنے والی فنڈنگ سے کتنے ارب کی جائیدادیں بنائیں؛؟ ؟؟
فضل الرحمن کے پرسنل سیکریٹری طارق بلوچ کا والد موسیٰ خان بلوچ، فضل الرحمن کا فرنٹ مین تھا فضل الرحمن نے اسے تحصیل پہاڑ پور کا امیر بنایا
اور اسکے زریعے تحصیل پہاڑپور کے قریب ڈھکی، ڈیرہ اسماعیل خان اور راجن پور میں 190 کنال زمین خریدی ، ایک کرش مشین اور لوڈر اور دیگر 5 گاڑیاں ان کے بھتیجے کے نام پر خریدی گئی ۔صرف ایک کرش مشین کی مالیت 30 ملین روپے تک ہے
فضل الرحمن نے اپنے دوسرے فرنٹ مین کے نام پر چک شہزاد کے علاقے میں اربوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی خریدی ۔
اسلام آباد کے پوش سیکٹر F-8 میں ایک عالی شان بنگلہ خریدا جس میں ایک عرصہ تک ایک لڑکی رہائش پزیر رہی فضل الرحمن اسے منہ بولی بیٹی قرار دیکر ملنے آتا تھا، بعد ازاں فضل الرحمن نے اپنے فرنٹ مین کے زریعے اس کا ابارشن کروایا یعنی دنیا دکھاوے کے لیے یہ منہ بولی بیٹی تھی درحقیقت یہ فضل الرحمن کی بے نکاحی داشتہ تھی ۔
فضل الرحمن نے اسلام آباد کے مختلف تجارتی مراکز میں دکانیں اور پلاٹس بھی خریدے
فضل الرحمن نے بہاولپور جنرل ٹرانسپورٹ سروس (GTS) کی 62 کنال قیمتی کمرشل زمین انتہائی سستے داموں الاٹ کروائی اور اس سے اربوں روپے کمائے ۔
شورکوٹ میں وسیع زرعی رقبہ خریدا، ایک رہائشی مکان اور اس سے ملحقہ رقبے پر مدرسہ قائم کیا۔
ملتان کینٹ کے علاقے میں اپنے بیٹوں اور قریبی رشتہ داروں کے نام پر کئ کنال کمرشل/رہائشی زمین خریدی
چکوال اور پنڈی گھیب کے اضلاع میں زرعی اراضی خریدی گئ
دبئی کے مختلف علاقوں میں فرنٹ مینوں کے نام پر رہائشی اپارٹمنٹس اور فلیٹس خریدے ۔ قطر میں کمرشل سرمایہ کاری کی گئ اور جائیدادیں خریدی گئ( جس پر پی ٹی آئی دور حکومت میں مراد سعید نے پریس کانفرنس کر کے تفصیلات بتائی)
واضع رہے کہ جے یو آئی ف کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمن پر لیبیا اور عراق سے فنڈنگ لینے کا انکشاف کیا تھا۔ حافظ حسین احمد کے مطابق یہ فنڈنگ پارٹی بلڈنگ کے لیے تھی لیکن فضل الرحمن یہ اربوں روپے اکیلے ڈکار گئے اور پارٹی کو ہوا تک نہ لگنے دی
عوام کا احتسابی اداروں سے سوال ہے کہ اتنے کرپٹ شخص کو پاکستان میں سیاست کی کیوں اجازت ہے جو سیاست کو مہرہ بنا کر پارلیمنٹ میں پہنچتا ہے اور سرکار کی چھتری استعمال کرتے ہوے لوٹ مار کرتا ہے بیرونی فنڈنگ لیکر پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم جوئی کرتا ہے
حجاب رندھاوا
#راشی_ڈیزل_نامنظور
پاکستان اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ محض سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اصلاحات کو موخر کرتا رہے۔
ہمیں ایک قومی کمیشن کی ضرورت ہے جو کسی سیاسی دباؤ کے بغیر، آبادی اور جغرافیے کو مدنظر رکھ کر پورے ملک کو 10 سے 12 انتظامی صوبوں یا ریجنز میں تقسیم کرنے کا روڈ میپ تیار کرے۔
لفاظی اور نعروں کا وقت گزر چکا ہے؛ اگر پاکستان کو 21ویں صدی کی معیشت بننا ہے، تو اسے اپنے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے کو بدلنا ہی ہوگا۔
موجودہ چار صوبوں کا ڈھانچہ ٹیکس جمع کرنے اور اسے نچلی سطح تک پہنچانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ جب ملک 10 سے 12 چھوٹے انتظامی ریجنز میں تقسیم ہوگا، تو ہر ریجن کا اپنا ریونیو بورڈ ہوگا، جس سے مقامی سطح پر ٹیکس نیٹ (Tax Net) کو وسیع کرنا آسان ہو جائے گا۔
چھوٹے صوبے اپنی مقامی صنعتوں، زراعت اور معدنیات کے مطابق معاشی پالیسیاں بنائیں گے، جس سے صوبوں کے درمیان مثبت معاشی مقابلہ شروع ہوگا۔
موجودہ صوبائی حدود برطانوی راج نے اپنی جنگی ضرورت، دفاعی اور نوآبادیاتی مفادات کے لیے بنائی تھیں، نہ کہ عوام کی سہولت کے لیے، آج پچیس کروڑ کی آبادی کے ساتھ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم آزاد تو ہو گئے، لیکن ہم نے انگریز کے بنائے ہوئے اسی نوآبادیاتی نقشے کو "مقدس" سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ان لکیروں کو ایسا اٹل مان لیا ہے کہ نئے انتظامی صوبے یا اضلاع بنانا اب ایک سیاسی گناہ سمجھا جاتا ہے۔
#راشی_ڈیزل_نامنظور