ڈی آئی خان ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) اسپتال میں عملہ غائب اور ک��ے گھوم رہے ہیں
پی ٹی آئی حکومت سے سوال تو بنتا ہے جب ہسپتالوں میں نہ عملہ ہے نہ ادوایات، تو کے پی عوام صحت کارڈ کا کیا کرے؟؟
وہ جو صحت کارڈ کی مد میں کے پی حکومت "اربوں روپے" بجٹ سے نکالتی ہے آخر یہ رقم کس کی جیب میں جاتی ہے وہ کون سا پرائیویٹ ہسپتال مافیا ہے جسے نوازنے کے لیے سرکاری ہسپتال تباہ کئیے گئے اور ان کے ہسپتال چلانے کے لیے صحت کارڈ لانچ ہوا
اگست اور ستمبر 2026 کے دوران خیبر، جمرود، لکی مروت اور بنوں جیسے اضلاع میں تاریخ میں پہلی بار پولیس اہلکاروں اور افسران نے بڑے پیمانے پر دھرنے دیے اور احتجاج کیا۔ پولیس اہلکاروں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ انہیں دہشت گردوں کے سامنے نہتا چھوڑ دیا گیا ہے، ان کے پاس جدید ترین امریکی ساختہ ہتھیار (جو افغان بارڈر سے منتقل ہوئے) کا مقابلہ کرنے کے لیے نائٹ ویژن اور بلٹ پروف گاڑیاں تک نہیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب وفاق نے NFC) ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو وار آن ٹیرر کوٹے سے اربوں روپے دئیے تو خیبرپختونخوا حکومت نے وہ اربوں روپے پولیس فورس کو اپ گریڈ کرنے جدید اسلحے گاڑیوں اور تربیت پر کیوں نہ خرچ کئیے
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط اور فعال بنانے کیلئے تقریباً 800 ارب روپے دیے گئے وہ 800 ارب روپے کدھر ہے
دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی پولیس کو غیر سیاسی کرنے اور کمانڈ کو مضبوط بنانے کے بجائے حالیہ ہفتوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے کے پی پولیس ایکٹ 2026 متعارف کروا دیا گیا اس مجوزہ قانون کے تحت انسپکٹر جنرل (آئی جی) کے اختیارات کو کم کر کے تبادلوں، تعیناتیوں اور پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت براہِ راست وزیراعلیٰ یا سیاسی قیادت کو دینے کی تجویز دی گئی ہے
اس قانون سے پولیس فورس مکمل طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے ماتحت ہو جائے گی، جس سے فورس کا اسٹرکچر اور دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کی اخلاقی طاقت مزید کمزور ہو جائے گی
یعنی صوبائی حکومت پولیس کو امن امان کے لیے استعمال کرنا ہی نہیں چاہتی وہ اسے پارٹی کی فورس بنانا چاہ رہی
اس بدترین بددیانتی کا آخری حل سہیل آفریدی کی رخصتی ہے
ٹرمپ نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوے بھارت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے زلیل کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی جانب سے منہ توڑ جواب سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان بھارت کے فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان کی فتح کے متعلق تھا امریکی صدر کا اس بیان کو شئیر کرنے کا مطلب ہے کہ دنیا بھارت سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کرتی ہے اور پاکستان کی جانب سے بھارت کو شکست دئیے جانے کو بھی تسلیم کرتی ہے
جدید پبلک ایڈمنسٹریشن کے مطابق، مثالی طرزِ حکمرانی کے لیے ایک اکائی کی آبادی 1 کروڑ سے 2 کروڑ کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ وہ حجم ہے جہاں ریاستی مشینری ہر شہری تک رسائی حاصل کر سکتی ہے، اور معیشت میں 'اسکیل کے فوائد' (Economies of Scale) بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
جب کسی انتظامی اکائی کی آبادی اپنے مثالی حجم (1 سے دو کروڑ) سے تجاوز کر کے ساڑھے 4 کروڑ تک پہنچ جائے، تو معاشی فوائد ختم ہو جاتے ہیں اور نقصانات (Diseconomies) شروع ہو جاتے ہیں۔
آپ خیبرپختونخوا کی مثال دیکھ لیں
سابقہ قبائلی علاقوں (FATA) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کا رقبہ اور انتظامی ذمہ داریاں اچانک بہت بڑھ چکی ہیں، جبکہ آبادی بھی تقریباً 4 کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔
پبلک ایڈمنسٹریشن کا اصول ہے کہ جب ایک ہی مرکز (پشاور سیکرٹریٹ) پر اس کی گنجائش سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جائے، تو وہاں 'ڈس اکانومیز آف اسکیل' نافذ ہو جاتی ہیں۔ پشاور میں بیٹھی بیوروکریسی کے لیے بیک وقت چترال کے گلیشیئرز، ہزارہ کے سیاحتی مقامات اور وزیرستان کے سنگین سیکیورٹی و ترقیاتی مسائل کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ناممکن ہو چکا ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انضمام کے بعد جن علاقوں کو تیز رفتار ترقی کی ضرورت تھی، وہ بیوروکریٹک سست روی (Red Tape) کی وجہ سے مزید پیچھے رہ گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی مختلف ڈویژنز کے پاس معیشت کے الگ الگ انجن موجود ہیں۔ ��ثلاً ہزارہ کے پاس مائننگ اور ٹورازم ہے، مالاکنڈ کے پاس زراعت اور ہائیڈرو پاور ہے، اور جنوبی اضلاع کے پاس آئل اینڈ گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔
نئے انتظامی صوبے نہ ہونے کی وجہ سے ان ڈویژنز کے پاس اپنے وسائل کو مانیٹائز (Monetize) کرنے کا کوئی آزاد اختیار نہیں ہے۔ مالاکنڈ یا ہزارہ اپنی مرضی سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سیاحت یا بجلی کے منصوبوں کے لیے راغب نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر فائل کو پشاور سیکرٹریٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس بیوروکریٹک پاتھ ڈیپینڈینسی (Path Dependency) کی وجہ سے مقامی معیشتیں (Local Economies) مفلوج ہیں اور صوبہ مجموعی طور پر وفاق کی گرانٹس پر چل رہا ہے۔
نئے صوبے نہ ہونے کی وجہ سے پشاور سے دور دراز کے بارڈر اضلاع (جیسے باجوڑ، کرم، یا وزیرستان) میں سول گورننس کی عملداری انتہائی کمزور ہے۔
دہشت گردی ہمیشہ وہاں پنپتی ہے جہاں دور دراز جغرافیے کی وجہ سے سویلین اداروں کی گرفت کمزور ہو، جسے ماہرین "گورننس ویکیوم" کہتے ہیں
پشاور کی دوری کی وجہ سے سیکیورٹی اور سول ایڈمنسٹریشن کے درمیان وہ کوآرڈینیشن قائم نہیں ہو پاتی جو ایک مقامی صوبائی سیٹ اپ (Proximity Governance) کی صورت میں ممکن ہو سکتی تھی۔
سابقہ فاٹا اور دور دراز اضلاع میں نئے انتظامی ڈھانچے بننے سے سڑکیں، عدالتیں، اسپتال اور اسکول براہِ راست نچلی سطح پر کام شروع کریں گے۔ جب ریاست کا سویلین چہرہ ہر شہری کے پاس موجود ہوگا، تو انتہا پسند نظریات کی بجائے جدید زندگی کا مقابلہ شروع ہوگا
حجاب رندھاوا
جی کا جانا ٹھہر گیا... صبح گیا یا شام گیا
سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد
خیبرپختونخوا میں طالبان نے 3811 حملے کئیے
جن ��یں بنوں میں 394، شمالی وزیرستان 181،
جنوبی وزیرستان میں 102 حملے ہوئے
یعنی روزانہ تقریباً 12 واقعات ہوے
19 خودکش حملے ہوے ،
502 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے جن میں 235 پولیس افسران اور جوان بھی شامل تھے
شہریوں، فوج، پولیس اور ایف سی کے 1584 افراد زخمی یا معذور ہوے یعنی روزانہ تقریباً 7 افراد شہید ہوے
80 فیصد حملوں کے وقت وزیر اعلیٰ صوبے میں موجود نہیں تھا بلکہ نیازی چھڑاؤ مہم پر دوسرے صوبوں کی یاترا کر رہا تھا۔
اس دوران ۱۵۰ سے زائد تھانوں اور پولیس چوکیوں (Checkposts) پر دہشت گردانہ حملے کیے گئے
جس میں رواں ماہ ہی کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز اور کمپاؤنڈ پر گاڑی کے ذریعے خودکش دھماکا اور منظم مسلح حملہ بھی شامل ہے، جس میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت ۳۱ افراد شہید ہوئے۔
پولیس کے بھاری نقصان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھے وزیر اعلیٰ پولیس کی استعداد بڑھاتے ان کی دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے صلاحیت پر توجہ دیتا ان کا حوصلہ بڑھاتا
مگر
نہ وزیر اعلیٰ نے شہداء کے جنازوں میں شرکت کی ، نہ شہداء کے خاندانوں اور بچوں سے اظہارِ یکجہتی، نہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس، نہ ضم شدہ اضلاع کے دورے، نہ بدامنی سے متاثرہ علاقوں میں پولیس تھانوں اور عدالتوں کا مؤثر نظام بنانے کے اقدامات کئیے ،
بلکہ انھوں نے پولیس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے سیاسی بنانے کے لیے قانون سازی شروع کر دی
اور سب سے درد ناک یہ کہ جنھوں نے پشتون عوام یا سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید کئیے
سہیل آفریدی نے آج تک ان کی مذمت نہیں کی
افغانستان سے اس کے صوبے پر ڈرون اٹیک ہوئے اس نے مذمت تک نہ کی
کرم سیکٹر میں حملہ ہوا لڑائی جاری ہے لیکن سہیل آفریدی کو پروا تک نہیں
ایسے میں جب ��وبے میں مہنگائی 12 فیصد، اور بیروزگاری 9 فیصد سے تجاوز کر چکی،. اسمگلنگ اور منشیات فروشی دھڑلے سے جاری ہے ، امن ختم ہو چکا زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولیات میسر نہی عوام وفاق کی جانب مدد کے لیے دیکھ رہی ہے
صوبے کا سسٹم collapse کر چکا ہے۔ صوبے کے عوام کی نہ جان کی حفاظت ہے اور نہ مال کی تو پھر ایسے حکومت کا اچار ڈالنا ہے۔
گورنر راج لگاؤ، عدم اعتمعاد لاؤ یا اس نااہل کو سزا دو، بس خیبر پختونخواہ پر رہم کرو اور اس رنگیلے ٹولے سے اس کو نجات دلواؤ
2006 میں تھائی لینڈ کے سب سے بڑا میڈیا ٹائیکون، کھرب پتی کاروباری شخصیت سنڈھی لیمتھونگ کُل (Sondhi Limthongkul) نے اپنے مفادات کے لیےحکومت کو بلیک میل کرنا شروع کیا ۔ یہ مخاصمت اتنی بڑھی کہ وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کے ساتھ اس کا سیاسی تنازع پیدا ہو گیا۔
سنڈھی نے (PAD) پیپلز الائنس فار ڈیموکریسی نامی پریشر گروہ بنا لیا انھیں ییلو شرٹس کہا جا��ا تھا اور یہ سنڈھی کے جانثاران تھے
سنڈھی وہ شخص تھاجس کےاخبارات اور ٹی وی چینلز تھائی لینڈ کے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلے لے آتے تھے،سنڈھی کا الزام تھا کہ وزیراعظم کرپشن کر رہے ہیں جبکہ وزیراعظم کا ماننا تھا کہ یہ میڈیا کنگ اپنی کاروباری ڈیلز نہ ہونے پر بلیک میلنگ کر رہا ہے۔
سنڈھی نے وزیراعظم کو کرسی سے اتارنے کےلیے کمر کس لی
اس ذاتی اور سیاسی جنگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سنڈھی لیمتھونگ کُل نے اپنے میڈیا ہاوسز کا استعمال ریاست اور حکومت دونوں کے خلاف شروع کر دیا ،
سنڈھی کے جانثاران پر مشتمل "یلو شرٹس" نامی سرکش جتھہ سنڈھی کے حکم پر دارالحکومت بنک��ک کو جب چاہتا مفلوج کر دیتا اور دارالحکومت کی سکیورٹی پر معمور پولیس پر حملے کرتا۔مقصد صرف ایک، سنڈھی کی خواہش پر حکومت کا خاتمہ!
سال 2006 سے لےکر 2014 تک، پورے8سال تھائی لینڈ کی سڑکیں سنڈھی کےدھرنوں کا تماشہ بنی رہی۔ یہ جتھے جب چاہتے، بنکاک پر چڑھائی کرتے سڑکوں پر نکلتے، ایوانِ صدر کا گھیراؤ کرتے اور پورے ملک کی معیشت کو مفلوج کر دیتے۔ بنکاک کی سیاحت دم توڑ رہی تھی
پ��ر وہ وقت آیا جب حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا جسے دنیا "بینکاک شٹ ڈاؤن" کے نام سے یاد کرتی ہے۔جنوری 2014 مظاہرین نے دارالحکومت پر چڑھائی کر دی۔
ریاست نے اپنی رِٹ قائم کرنے کےلیے10,000 پولیس اہلکار اور 8,000 فوجی جوان سڑکوں پر اتار دیے۔پولیس نے روایتی لاٹھی چارج کے بجائے مظاہرین کے بڑےبڑے اجتماعات کو گھیراؤ (Cordon off) کرکے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا۔
اس کے بعدجو ہوا، وہ سبق ہے پولیس نے دھرنا گاہوں کی لائف لائن کاٹ دی۔ مظاہرین تک پہنچنے والے نئے لاجسٹکس، ساؤنڈ سسٹم،اور خوراک کی سپلائی لائنز کو مکمل طور پر بلاک کر دیا،
دھرنوں میں کچھ ایسے پرتشدد عناصر بھی شامل تھ��جو سائلنسر لگے پستولوں اور دستی بموں سے سیکیورٹی فورسز پر حملےکر رہے تھے۔ یہ وہ شرپسند تھے جنہیں تھائی لینڈ میں"مین ان بلیک" (Men in Black)کہاجاتا تھا۔ تھائی پولیس نے ان کا ہائی ڈیفینیشن کیمروں کے زریعے سراغ لگایا انہیں دھرناگاہوں سے اٹھا کر غائب کر دیا۔اج تک ان کی کسی کو ��بر نہیں
اس کے بعد دارالحکومت کو یرغمال بنانے والے سنڈھی کے ساتھ جو ریاست نے کیا وہ باعث عبرت ہے
ریاست نے سُنڈھی کا پورا میڈیا ایمپائر زمین بوس کر دیا.حکومت نے اس کے خلاف ایسے کاروباری اور مالیاتی فراڈ کے پرانے کیسز کھولے کہ اسے دھرنوں کی قیادت کرنےکے جرم کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ دستاویزات میں ہیر پھیر پر عدالت سے20 سال سے زائد کی قیدِ باجماعت کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا اور اس کا نام بلیک لسٹ کر دیا گیا
اس کے تمام ساتھیوں کے پاسپورٹ منسوخ کر دئیے
اور جو فرار ہوے تھے وہ راتوں رات اپنے ہی ملک کے پاسپورٹ سے محروم ہو کر دنیا بھر میں دربدر ہو گئے
ریاست یہیں نہیں رکی۔ سپریم کورٹ کے حکم اثاثے منجمند اور بینک اکاؤنٹس مستقل طور پر ضبط کر لیے گئے۔ان کے خاندانی کاروباروں پر ٹیکسوں اور معاشی بے ضابطگیوں کے اتنے بھاری مقدمات قائم کیے گئے کہ ان کا پورا کاروباری نیٹ ورک مفلوج ہو کر رہ گیا۔
ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے جرم میں یلو شرٹس کے 13 بڑے رہنماؤں پر 17 ملین ڈالر (اربوں روپے) کا ذاتی جرمانہ عائد کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ان کی ذاتی جائیدادیں نیلام کر کے یہ نقصان پورا کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی ریاست نے تنازعے کی دوسری فریق پارٹی کو بھی گھر بھیج دیا
وہ دن اور اج کا دن بینکاک پر دوبارہ حملے یا اسے یرغمال بنانے اس کی سڑک چوک چوراہے بند کرنے کی جرت کسی گروہ جماعت یا پارٹی کو نہیں ہوئی
ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ یہاں اسلام آباد پر چڑھائی ہوتی ہے، اربوں کا نقصان ہوتا ہے، پبلک پراپرٹی جلائی جاتی ہے، اور دھرنا ختم ہونے کے بعد وہی لیڈر اسمبلیوں میں بیٹھ کر اگلی چڑھائی کی پلاننگ شروع کر دیتے ہیں۔ نہ کسی کا پاسپورٹ منسوخ ہوتا ہے، نہ کسی کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہوتے ہیں، اور ن�� ہی قومی نقصان ان دھرنے بازوں کی ذاتی جائیدادیں نیلام کر کے پورا کیا جاتا ہے۔ریاستیں مصلحتوں سے نہیں چلتیں ، اگر اسلام آباد کو دنیا کے سامنے تماشہ بننےسے روکنا ہے،تو ہمیں بھی تھائی لینڈ کی طرح قانون کی بالادستی قائم کرنی ہوگی۔ ہمیں بھی یہ اصول طے کرنا ہوگا کہ جو دارالحکومت کا پہیہ جام کرے گا، ریاست اس کی سیاست اور کاروبار کا پہیہ ہمیشہ کے لیے جام کر دے گی۔
حجاب رندھاوا
سی سی پی او پشاور نے پولیس اہلکاروں کو پی ٹی آئی کے آئندہ مارچ میں شرکت، سہولت کاری یا کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے سے سختی سے روک دیا
تمام ا��سران اور اہلکار عدالتی احکامات پر ہر صورت سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ کسی بھی اہلکار پر بیرونی دباؤ، اثر و رسوخ یا زبردستی ڈالنے کی کوشش کی جائے تو وہ بلا تاخیر اپنے متعلقہ افسر کو رپورٹ کرے۔
کیپٹل سٹی پولیس آفیسر میاں سعید نے واضح کر دیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف فوری اور سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ آپ کا آخری حملہ ہوگا حکومت آپ سے حملہ آور کی طرح ہی نبٹے گی
پی ٹی آئی کے اکثریتی ارکان نے یہ خبر سننے کے بعد لانگ مارچ میں شرکت سے معذرت کرنی شروع کر دی
عمران خان سوشل میڈیا پر پیدا ہوا اور وہی پر مر گیا اس کے مرقد پر بیٹھے ڈیجیٹل مجاور کمانے کی کوشش میں اس کا نام زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مُردے کب زندہ ہوے
ممکن نہیں کشمش کا پھر سے انگور ہو جانا
نہیں یقین تو ان ڈیجیٹل مجاوروں کی ویوز کے لیے منت ترلے دیکھ لیں
سوشل میڈیا پراپگنڈے کی طاقت ضرور ہو سکتا ہے لیکن عوامی طاقت گراونڈ پر موجود افراد سے ملتی ہے جس سے عمران خان محروم ہے اگر عمران خان کے پاس حقیقی عوامی طاقت ہوتی تو شفی�� جان اینڈ کمپنی کو اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے کبھی کے پی کے سرکاری ملازمین کی افرادی قوت حاصل کرنے کے لیے صوبائی سرکاری حکم نہ استعمال کرنا پڑتا
گزشتہ سال کے دوران خیبرپختونخوا میں 1,500 سے زائد دہشت گردانہ حملے ہوے
پشاور کی پولیس لائنز سے لے کر بنوں کی چوکیوں تک، ہمارے جوانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا
( سہیل آفریدی نے طالبان کے خلاف لڑ کر شہید ہونے والے شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کی یہ ریاست کے خلاف خوارج کے بیانیے کی خاموش حمایت تھی)
بھتہ خوری کی یہ صورتحال ہے کہ صوبے میں بھتہ خوری کے مقدمات میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
پشاور، م��دان اور سوات کا تاجر رات کو سو نہیں سکتا، اسے نامعلوم نمبروں سے کالز آتی ہ��ں، کروڑوں روپے مانگے جاتے ہیں اور اگر وہ انکار کرے تو اگلے دن اس کا جنازہ اٹھتا ہے۔لیکن اس خوفناک سیکیورٹی فیلیئر پر صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟
وہ پشاور سے اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے روٹ پلان تیار کر رہی ہے!
یہ بدانتظامی اور بیڈ گورننس کی وہ آخری حد ہے جہاں پہنچ کر ریاستیں ختم ہو جاتی ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف ایک سال کے اندر 97 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں اور کرپشن کے اسکینڈلز سامنے آئے۔
صوبے کا بجٹ 48 ارب روپے کے خسارے میں ڈوب چکا ہے،
ہسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کے لیے ادویات ختم ہو چکی ہیں، لیکن صوبائی خزانے کا پیسہ، ریسکیو 1122 کی گاڑیاں، سرکاری کرینیں اور صوبے کی پوری مشینری ایک سیاسی جماعت کے احتجاج اور دھرنوں کو کامیاب بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
تاریخ میں آپ کو ایسی بیڈ گورننس کی مثال کہیں نہیں ملے گی جہاں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر، صوبائی مشینری لے کر وفاق پر حملہ آور ہونے نکل کھڑا ہو۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 بہت واضح ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اگر ملک کے کسی حصے میں امن و امان یا انتظامیہ اس حد تک مفلوج ہو جائے کہ شہریوں کا جینا محال ہو جائے، تو وفاق خاموش تماشائی نہیں بن سکتا
اسے شہریوں کو بچانے کے لیے اپنا گورنر راج کا حق استعمال کرنا ہوگا
افغانستان کی جانب سے ناکام ڈرون حملوں کے بعد پاکستان ایئر فورس نے افغانستان کے اُن علاقوں میں 10 فضائی حملے کیے ہیں جہاں ڈرونز ذخیرہ کیے جاتے اور لانچ کیے جاتے تھے۔”
یہ حملے صرف انہی نشاندہی شدہ فوجی اہداف تک محدود تھے جو پاکستان کے خلاف کیے جانے والے حملوں کی کوشش��ں سے براہ راست منسلک تھے
علیمہ خان شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نمل یونیورسٹی کے گورننگ بورڈز کی رکن ہیں
علیمہ خان شوکت خانم ہسپتال اور نمل کے انتظامی بورڈز کا حصہ ہونے کے ناطے، دنیا ��ھر میں ان اداروں کے لیے خیرات و عطیات کی نگران ہیں اور فنڈز جمع کرنے کی بھی..
علیمہ خان عمران خان کی آفشور کمپنی کی ڈائریکٹر بھی ہیں
کمپنی کے سرکاری دستاویزات میں علیمہ خان کا نام بطور رجسٹرڈ ڈائریکٹر موجود ہے
یہ سروسز لمیٹڈ‘ (Niazi Services Limited) وہ آفشور کمپنی تھی جس کے تحت بیرون ملک جائیدادیں خریدی گئ
عمران خان نے عدالت اور ٹیکس حکام کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ وہ اس آفشور کمپنی کے اصل بینیفیشل مالک (Beneficial Owner) تھے۔ انہوں نے 2001 میں سابق صدر پرویز مشرف کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اسے ظاہر کیا
2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک غیر اعلانیہ اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں علیمہ خان کا نام بھی سامنے آیا:
علیمہ خان کی دبئی (متحدہ عرب امارات) اور نیو جرسی (امریکہ) میں جائیدادوں کا انکشاف ہوا تھا، جو انہوں نے ماضی میں ا��نے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی تھیں
اب بتائیں وہ جائیدادیں کس کی تھی اصل بینیفیشل مالک کون تھا اور اس کے زرائع آمدن کیا تھے؟؟
دفاعِ وطن... ناقابلِ تسخیر..
23 ستمبر کو افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کی سمت داغے گئے دو ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے Soft-Kill ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے دونوں ڈرونز کو شہر سے تقریباً 7 کلومیٹر دور ہی ناکارہ کر دیا۔
پاکستان کا فضائی دفاع الرٹ ہے کسی بھی فضائی خطرے کا فوری توڑ موجود ہے
خیبرپختونخوا میں کوئی چلڈرن ہسپتال نہیں، 13 سال، سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں چلڈرن ہسپتال بنانے کی مد میں وفاقی حکومت سے فنڈ بھی لیتی رہی اور خزانے سے رقم لگتی ظاہر کرتی رہی اس ہسپتال پر 7.9ارب روپے لگے ظاہر کئیے گئے مگر 13 سال میں صرف ڈھانچہ کھڑا کیا جا سکا، KP کا واحد چلڈرن اسپتال اب بھی بند ہے
پی ٹی آئی یہ تبدیلی پورے پاکستان میں چاہتی تھی
افغان طالبان کی کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ، اور فائرنگ کی آڑ میں فتنہ الخوارج کو پاک افغان سرحد پار کروانے کی کوشش
پاک فوج نے کُرم سیکٹر سے افغان طالبان کی زیر نگرانی ہونے والی فتنہ الخوارج کی در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی
اور افغان طالبان کی چوکیاں مکمل تباہ کر دی
پاک فوج کے ہاتھوں افغان طالبان کی پوسٹوں کی تباہی کے مناظر منظر عام پر
یہ خوارج اعلی سہیل آفریدی ان شہدا کا جنازہ نہیں پڑھتا جنھیں خوارج کافر کہہ کر قتل کر دیتے ہیں
یہ اصل سہولت کار ہے
رسول اللہﷺ نے فرمایا
لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ (یا قَتْلَ ثَمُوْدَ)"اگر میں انہیں( خوارج)پا لوں تو قومِ عاد (یا قومِ ثمود) کی طرح (مکمل طور پر) قتل کر ڈالوں۔"
اور ان کے سہولت کاروں کے متعلق فرمایا
مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُعِينَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ (شعب الایمان للبیہقی / مشکوۃ)"جو شخص کسی ظالم کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے، تو وہ اسلام (کی حقیقی تعلیمات) سے نکل گیا۔"
( یعنی اسلام سے خارج ہوگیا )
پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی فضل الٰہی اور اقبال آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم اور کرک کی گیس بند کرنے کی دھمکی
اگر تربیلا ورسک اور کرک کو گیس نہیں ملے گی تو بجلی نہیں بنے گی عوام کو بجلی نہیں ملے گی
بجلی اور گیس بند ہونے سے ملک بھر کی صنعتیں، کارخانے اور ہسپتال بند ہو جائیں گے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لاکھوں مزدور بیروزگار ہو جائیں گے اور پہلے سے پسی ہوئی عوام معاشی طور پر ��کمل تباہ ہو جائے گی۔
یعنی یہ عوام کے گلے پر چھری پھیرنے کی دھمکی ہے
کہنے کو یہ سیاسی جماعت ہے اور عوام سے ووٹ لیتی ہے
سید کی دعا سے سید کی سپہ سالاری تک کا سفر‼️‼️
مخدوم سید صفدر بخاری لاہور کے مشہور بزرگ ہیں۔ اس نایاب وڈیو میں یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدلطیف کاظمی المعروف بری امام نے آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ نورپور ایک دن اسلام کا قلعہ بنے گا۔
یاد رہے بری امام کا دور اورنگزیب عالمگیر کا دور ہے جو ایک طاقت ور مسلم بادشاہ تھے اور ان کا دارلخلافہ دہلی تھا۔ لیکن انہوں نے دہلی کی بجائے نور پور شاہاں کو اسلام کا قلعہ بننے کی پیشن گوئی کی۔ شاید وہ جانتے تھے مغل سلطنت نے ختم ہونا ہے اور اصل اسلام کا قلعہ جس کی میر عرب ﷺکو ٹھنڈی ہوا آئی تھی وہ آگے بننا ہے۔
الحمدللہ ان کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور نور پور شاہاں کا نام تبدیل ہو کر اسلام آباد بنا اور وہ اسلام کے قلعہ پاکستان کا دارلخلافہ بن گیا۔
اللہ کے ولی کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ہر اللہ والا اس پر فخر کرتا ہے لیکن کفار جو کل بھی اس پیشن گوئی سے خائف تھے وہ آج بھی اس قلعہ کو کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔
باہر کے دشمن جنگ کر کے اور اندر کے دشمن فتنہ و فساد کر کے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن کا وار وہی پرانا ہے فرقہ واریت، لسانیت اور سیاست۔ اندرونی دشمن یہاں تک کھل کر سامنے آ گئے کہ اسی اسلام آباد کو سومنات بنانے کی خواہش ظاہر کر دی۔
ان تمام دشمنان اسلام اور پاکستان کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور اس کی حفاظت اللہ تعالی کرے گا۔ ہاں اس بار اللہ نے اپنے اس قلعہ کو بچانے کے لیے ابابیل نہیں چنے بلکہ یہ مقدس فریضہ شیردل پاک فوج کو دیا ہے۔ اس فوج کی کمان بھی شیر خدا علی المرتضی کی اولاد کو دی ہے۔
ہم رہیں نہ رہیں انشاءاللہ یہ وطن تا قیامت سلامت رہے گا۔ کیونکہ کل ایک سید نے کہا تھا کہ نورپور اسلام کا قلعہ بنے گا اور وہ بنا، اور آج ایک سید نے کہا ہے پاکستان ہمیشہ زندہ باد تو انشاللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا
🇵🇰🇵🇰🇵🇰