11 August marks the history of the State of Kalat—not the entirety of present-day Balochistan.
Know the history, question the narrative, and don’t confuse a historical claim with settled fact
General Asim Munir has shown strong and consistent performance as the leader of Pakistan’s armed forces. Under his command, the military has maintained high readiness and focused on both external defence and internal security. His leadership style emphasises discipline, clear direction and practical results. Many observers note the steady improvements in coordination and operational effectiveness during his tenure. The confidence he projects has also helped strengthen the overall image of the institution. Overall, his performance continues to be viewed as firm, focused and dedicated to protecting the country’s interests.
A large section of the public is showing support for the creation of new provinces in Pakistan. Many believe that smaller administrative units will make governance more effective and bring services closer to the people. They feel this change can lead to faster development and better use of local resources. Supporters argue that progress and prosperity will improve when decision-making becomes more focused and responsive. The growing public backing reflects a desire for a system that works more efficiently for every region. Overall, the demand highlights the hope that new provinces can help the country move forward in a more balanced way.
🔰‼️ اربوں ڈوب گئے، منصوبے لٹک گئے، کرپشن کے الزامات بڑھتے گئے—مگر سندھ حکومت کو نئے انتظامی یونٹس قبول نہیں۔ ناکام نظام بچانا ہے اپنی اجارہ داری کے لیے یا سندھ کے عوام کو؟ ‼️🔰
نئے صوبے بنانے کی تحریک کا آغاز کہاں سے ہوا؟
ہرحکومت نے نئے صوبے بنانے کا وعدہ کیا، ووٹ لیے مگر پھر بھول گئی
24 نیوز کی ٹیم مانسہرہ کے علاقے بٹگرام پہنچ گئی
پاکستان اور بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے گوادر کے مقامی شہری حاجی عارف کا کہنا ہے
مکران کوسٹ ایک اہم ترین کوسٹ ہےجو کوئٹہ سے منسلک ہے حکومتِ پاکستان انتظامی لحاظ سے بلوچستان میں مختلف صوبے بنا رہی ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے اور یہ ہونا چاہیے
ان کا کہنا ہے کہ آج سے کم از کم 30 سے 50 سال پہلے یہ ہو جانا چاہیے تھا جب گوادر پاکستان میں شامل ہوا تھا اسی وقت گوادر کو ایک الگ صوبہ بنانا چاہیے تھا لیکن نہیں ہو سکا
اب یہاں سے کوئی کوئٹہ جائے تو انتظامی لحاظ سے وہاں بہت مشکلات پیش آتی ہیں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اس لیے لسبیلہ گوادر اور کیچ کو ملا کر اگر ایک صوبہ بن جائے
تو اس کے بننے سے ہمیں معاشی لحاظ سے فائدہ حاصل ہوگا اور روزگار کے سلسلے میں ہمارے نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں گی
پھر یہ ہوگا کہ یہ صوبہ خودمختار ہوگا اور خودمختاری کی وجہ سے آپ اپنی ضرورت کے مطابق خود قانون سازی کریں گے، کیونکہ آپ کو اپنے علاقے کے مسائل کا پتہ ہے اور آپ انہیں بہتر حل کر سکیں گے
گوادر ایک بین الاقوامی ہوائی اور سمندری روٹ ہے جہاں سے گزرگاہیں ہیں اس سے مرکزی حکومت کو کافی ٹیکس اور زرِ مبادلہ مل رہا ہے اگر یہ صوبہ بن گیا تو یہاں کے لوگ خوشحال ہوں گے اور انہیں ان کے حقوق ملیں گے
اصل چیز یہ ہے کہ دنیا میں جنگ صرف معیشت کی ہے
اگر کسی کی بھی معیشت مضبوط اور مستحکم ہو، تو جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
اس لیے ہماری خواہش اور تمنا ہے کہ یہ صوبہ بن جائے تاکہ ہم معاشی لحاظ سے خودکفیل اور خودمختار بن سکیں
پاکستان میں بڑھتی آبادی، محدود انتظامی ڈھانچہ، نئے صوبوں کا قیام ناگزیر! ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے پیشِ نظر نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس کے ذریعے حکمرانی کا نظام مزید بہتر، وسائل کی تقسیم زیادہ منصفانہ اور عوامی مسائل کا حل تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامیہ عوام کے مزید قریب آئے گی، بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور ترقیاتی منصوبوں کو مقامی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ نئے صوبوں کا قیام صرف انتظامی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے، گورننس بہتر بنانے اور ترقی کے ثمرات ہر علاقے تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان میں بڑھتی آبادی، صوبوں کا فقدان، نئے صوبے وقت کی ضرورت! نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو عوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے حکمرانی مزید مؤثر، وسائل کی منصفانہ تقسیم بہتر اور عوامی مسائل کا حل تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔ نئے صوبوں کے ذریعے انتظامیہ عوام کے قریب آئے گی، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوگی اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔ نئے صوبے صرف نقشے کی تبدیلی نہیں، بلکہ بہتر گورننس، مضبوط انتظامیہ اور عوام کو بروقت سہولیات کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہیں۔
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir, on the sidelines of the Strategic Political Defence Committee meeting under the Makkah Joint Defence Agreement. We reviewed our defense cooperation and discussed regional developments.
Operation 11 Garaj — Orakzai
Security forces conducted a joint search operation, supported by drone surveillance and temporary checkpoints. A local jirga was also held to strengthen community cooperation and promote peace and stability. Locals welcomed the continued operations.
🚨🇸🇦🇵🇰🇹🇷Turkiye Reveal 6000km Intercontinental Ballistic Missles🚀 Test on Day Of Pakistan Turkiye Saudi Arabia First Joint Defence Pact Meeting in Ankara its show the Power of Muslim NATO..🚀
#UnitedWithCDF