ایس سی او اجلاس میں جاری ہونے والے سرکاری بیان میں تمام رکن ممالک کے رہنماؤں کا نام لے کر ذکر کیا گیا، سوائے مودی کے۔ حتیٰ کہ مبصر ممالک، ڈائیلاگ پارٹنرز اور مہمان ممالک کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا۔ مودی کی قیادت میں بھارت اس قدر نیچے گر چکا ہے کہ اس کی حیثیت اب ڈائیلاگ پارٹنرز اور مہمان ملکوں سے بھی کمتر ہو گئی ہے۔
پاگل ک۔۔۔۔۔ت۔۔۔۔ے کی 13 لاکھ والی نوکری گئی
👇🏿👇🏿👇🏿👇🏿
سندھیوں کے خلاف بکواس پر بیرسٹر ضمیر گھمرو کے جانب سے سینیٹ میں قرارداد لانے کے اعلان کے بعد ہذیان گو ن لیگی تنخواہ دار ایُنکر رضی دادا کو پی ٹی وی سے نکال دیا گیا۔
ویل ڈن
سوشل میڈیا ۔ ویل ڈن بیرسٹر صاحب
#CorruptionFreePakistan
وفاق کا پیسہ سندھ میں کرپشن کی نذر ‼️
وفاقی حکومت نے سندھ میں پانچ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کو دیے مگر وہ پیسے شاہراہوں کی تعمیر کے بجائے ہڑپ کرلئے گئے۔
#CorruptionFreePakistan
وفاق کا پیسہ سندھ میں کرپشن کی نذر ‼️
وفاقی حکومت نے سندھ میں پانچ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کو دیے مگر وہ پیسے شاہراہوں کی تعمیر کے بجائے ہڑپ کرلئے گئے۔
روہڑی ٹو گڈو بیراج ایم فائیو انٹرچینج صادق آباد ، خانپور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ روڈ اس پروجیکٹ پر وفاق نے سندھ کو سوا سات ارب روپے دئے ہیں مگر یہ روڈ زبوں حالت کا شکار ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز سکھر کی طرف سے یہ ٹھیکہ کنسٹرکشن کمپنی عمرجان کو سوا سات ارب روپے میں دیا پھر اس ٹھیکے کی مد میں منسٹر علی حسن زرداری اور چیف انجینئر عبد المجید پنہیار نے اس پروجیکٹ پر ایک ارب 9 کروڑ روپے کمیشن لی۔
اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے جس پر عثمانی کنسلٹنٹ نے شروع میں اعتراض کیا اور عمر جان کمپنی کو ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام پر تنبیہ بھی کی مگر علی حسن زرداری اور عبد المجید پنہیار نے لین دین کرکے عثمانی کنسلٹنٹ کا منہ بند کردیا اور روڈ میں تاحال ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر معیاری کام بھی یوں ہی چل رہا ہے۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس پر نوٹس لے یا پھر اپنی نگرانی میں کام کروائے۔ غریب قوم کے سوا سات ارب روپے اس طرح کرپٹ ٹولے کی جیبوں میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس پروجیکٹ کو فورا یہیں روکا جائے ۔ وگرنہ یہ روڈ تعمیر ہونے کے بعد 5 ماہ بھی قائم نہیں رہے گا پھر دوبارہ ٹینڈر کروا کر قومی خزانے کو مزید اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا جائے گا۔
مزید برآں، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے 2024/25 کے ٹینڈرز کی تفتیش کی جائے تو ہوشربا کرپشن کی کہانیاں سامنے آئیں گی کہ کس طرح پنہیار گروپ نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نام پر لوگوں سے کمیشن لی ہے اور ٹھیکے فروخت کئے ہیں۔
عثمانی کنسلٹنٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام کے لیٹر اپلوڈ کئے گئے ہیں۔
وفاق کا پیسہ سندھ میں کرپشن کی نذر ‼️
وفاقی حکومت نے سندھ میں پانچ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کو دیے مگر وہ پیسے شاہراہوں کی تعمیر کے بجائے ہڑپ کرلئے گئے۔
روہڑی ٹو گڈو بیراج ایم فائیو انٹرچینج صادق آباد ، خانپور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ روڈ اس پروجیکٹ پر وفاق نے سندھ کو سوا سات ارب روپے دئے ہیں مگر یہ روڈ زبوں حالت کا شکار ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز سکھر کی طرف سے یہ ٹھیکہ کنسٹرکشن کمپنی عمرجان کو سوا سات ارب روپے میں دیا پھر اس ٹھیکے کی مد میں منسٹر علی حسن زرداری اور چیف انجینئر عبد المجید پنہیار نے اس پروجیکٹ پر ایک ارب 9 کروڑ روپے کمیشن لی۔
اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے جس پر عثمانی کنسلٹنٹ نے شروع میں اعتراض کیا اور عمر جان کمپنی کو ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام پر تنبیہ بھی کی مگر علی حسن زرداری اور عبد المجید پنہیار نے لین دین کرکے عثمانی کنسلٹنٹ کا منہ بند کردیا اور روڈ میں تاحال ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر معیاری کام بھی یوں ہی چل رہا ہے۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس پر نوٹس لے یا پھر اپنی نگرانی میں کام کروائے۔ غریب قوم کے سوا سات ارب روپے اس طرح کرپٹ ٹولے کی جیبوں میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس پروجیکٹ کو فورا یہیں روکا جائے ۔ وگرنہ یہ روڈ تعمیر ہونے کے بعد 5 ماہ بھی قائم نہیں رہے گا پھر دوبارہ ٹینڈر کروا کر قومی خزانے کو مزید اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا جائے گا۔
مزید برآں، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے 2024/25 کے ٹینڈرز کی تفتیش کی جائے تو ہوشربا کرپشن کی کہانیاں سامنے آئیں گی کہ کس طرح پنہیار گروپ نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نام پر لوگوں سے کمیشن لی ہے اور ٹھیکے فروخت کئے ہیں۔
عثمانی کنسلٹنٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام کے لیٹر اپلوڈ کئے گئے ہیں۔
@BBhuttoZardari@GovtofPakistan@Financegovpk@KhawajaMAsif@betterpakistan@MaryamNSharif@HajiAliHassanZ@AseefaBZ@MuradAliShahPPP@S_KhursheedShah@TararAttaullah@ptisindhupdates@HaleemAdil
وفاق کا پیسہ سندھ میں کرپشن کی نذر ‼️
وفاقی حکومت نے سندھ میں پانچ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کو دیے مگر وہ پیسے شاہراہوں کی تعمیر کے بجائے ہڑپ کرلئے گئے۔
روہڑی ٹو گڈو بیراج ایم فائیو انٹرچینج صادق آباد ، خانپور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ روڈ اس پروجیکٹ پر وفاق نے سندھ کو سوا سات ارب روپے دئے ہیں مگر یہ روڈ زبوں حالت کا شکار ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز سکھر کی طرف سے یہ ٹھیکہ کنسٹرکشن کمپنی عمرجان کو سوا سات ارب روپے میں دیا پھر اس ٹھیکے کی مد میں منسٹر علی حسن زرداری اور چیف انجینئر عبد المجید پنہیار نے اس پروجیکٹ پر ایک ارب 9 کروڑ روپے کمیشن لی۔
اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے جس پر عثمانی کنسلٹنٹ نے شروع میں اعتراض کیا اور عمر جان کمپنی کو ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام پر تنبیہ بھی کی مگر علی حسن زرداری اور عبد المجید پنہیار نے لین دین کرکے عثمانی کنسلٹنٹ کا منہ بند کردیا اور روڈ میں تاحال ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر معیاری کام بھی یوں ہی چل رہا ہے۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس پر نوٹس لے یا پھر اپنی نگرانی میں کام کروائے۔ غریب قوم کے سوا سات ارب روپے اس طرح کرپٹ ٹولے کی جیبوں میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس پروجیکٹ کو فورا یہیں روکا جائے ۔ وگرنہ یہ روڈ تعمیر ہونے کے بعد 5 ماہ بھی قائم نہیں رہے گا پھر دوبارہ ٹینڈر کروا کر قومی خزانے کو مزید اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا جائے گا۔
مزید برآں، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے 2024/25 کے ٹینڈرز کی تفتیش کی جائے تو ہوشربا کرپشن کی کہانیاں سامنے آئیں گی کہ کس طرح پنہیار گروپ نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نام پر لوگوں سے کمیشن لی ہے اور ٹھیکے فروخت کئے ہیں۔
عثمانی کنسلٹنٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام کے لیٹر اپلوڈ کئے گئے ہیں۔
@BBhuttoZardari@GovtofPakistan@Financegovpk@KhawajaMAsif@betterpakistan@MaryamNSharif@HajiAliHassanZ@AseefaBZ@MuradAliShahPPP@S_KhursheedShah@HaleemAdil
#CorruptionFreePakistan
ارباب اختیار متوجہ ہوں !
وفاق کا پیسہ سندھ میں کرپشن کی نذر!
وفاقی حکومت نے سندھ میں پانچ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کو دئیے مگر وہ پیسے شاہراہوں کی تعمیر کے بجائے ہڑپ کرلئے گئے۔
روہڑی ٹو گڈو بیراج ایم فائیو انٹرچینج صادق آباد ، خانپور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ روڈ اس پروجیکٹ پر وفاق نے سندھ کو سوا سات ارب روپے دئے ہیں مگر یہ روڈ زبوں حالت کا شکار ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز سکھر کی طرف سے یہ ٹھیکہ کنسٹرکشن کمپنی عمرجان کو سوا سات ارب روپے میں دیا پھر اس ٹھیکے کی مد میں منسٹر علی حسن زرداری اور چیف انجینئر عبد المجید پنہیار نے اس پروجیکٹ پر ایک ارب 9 کروڑ روپے کمیشن لی۔
اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے جس پر عثمانی کنسلٹنٹ نے شروع میں اعتراض کیا اور عمر جان کمپنی کو ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام پر تنبیہ بھی کی مگر علی حسن زرداری اور عبد المجید پنہیار نے لین دین کرکے عثمانی کنسلٹنٹ کا منہ بند کردیا اور روڈ میں تاحال ناقص میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر معیاری کام بھی یوں ہی چل رہا ہے۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس پر نوٹس لے یا پھر اپنی نگرانی میں کام کروائے۔ غریب قوم کے سوا سات ارب روپے اس طرح کرپٹ ٹولے کی جیبوں میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس پروجیکٹ کو فورا یہیں روکا جائے ۔ وگرنہ یہ روڈ تعمیر ہونے کے بعد 5 ماہ بھی قائم نہیں رہے گا پھر دوبارہ ٹینڈر کروا کر قومی خزانے کو مزید اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا جائے گا۔
مزید برآں، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے 2024/25 کے ٹینڈرز کی تفتیش کی جائے تو ہوشربا کرپشن کی کہانیاں سامنے آئیں گی کہ کس طرح پنہیار گروپ نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نام پر لوگوں سے کمیشن لی ہے اور ٹھیکے فروخت کئے ہیں۔
عثمانی کنسلٹنٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ناقص میٹیریل اور غیر معیاری کام کے لیٹر اپلوڈ کئے گئے ہیں۔
@BBhuttoZardari@GovtofPakistan@Financegovpk@KhawajaMAsif@betterpakistan@MaryamNSharif@HajiAliHassanZ@AseefaBZ@MuradAliShahPPP@S_KhursheedShah
عبد المجید پنھیار کی ایک اور سازش بے نقاب !!!
عبد المجید پنہیار آنے والے مہینے میں ریٹائرڈ ہونے والا ہے ۔ 2024/25 کی NITs انہوں کیں اور ٹینڈر نکال کر تمام ٹھیکے فروخت کئے جو اسد شیخ ، عالم پتافی ، نسیم شاہ احسان لاشاری، اکرم پٹھا سمیت دیگر ٹھیکیداروں کو مجموعی طور پر 2 ارب روپے سے زائد میں فروخت کئے، سب سے بڑا سوا سات ارب والا ٹھیکہ ایک ارب 9 کروڑ روپے میں عمر جان کمپنی کو دیا، اکرم پٹھان نے کمیشن کی رقم کراچی میں آفتاب پنھیار کی حوالے کی۔
مجید پنھیار ابھی کراچی میں موجود ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ریٹائرمنٹ سے قبل 2025/26 کے تمام ٹینڈر نکالے اور کمیشن طنا کر رفو چکر ہوجائے۔ اس حوالے سے اس نے ڈویلپمنٹ والوں کی ملی بھگت سے اپروول لے لی ہے اور عنقریب پورے سال کے ٹھیکوں کا ٹینڈر ایک مہینے میں نکال ٹھیکے فروخت کر کے میرٹ پر کام کرنے والے تمام ٹھیکیداروں کے حقوق سلب کرلے گا۔
2024/25 میں 22 سے 24 فیصد کمیشن پر ٹھیکے فروخت کئے تھے جو کہ اس دفعہ 28 سے 30 فیصد پر فروخت کرنے کا متفقہ فیصلہ پنھیار گروپ نے کرلیا ہے۔ اب ان لوگوں سے وہی ٹھیکے لیں گے جن کے پاس پیسے ہیں جو بندہ 50 کروڑ کا ٹھیکہ 30 فیصد کمیشن پر لے گا ظاہر ہے وہ اپنی لگائی ہوئی رقم نکالے گا، پھر منافع اور اس کے بعد ورک آرڈر پر پیمنٹ ، اینٹی کرپشن کو کمیشن اور بلیک میلر صحافیوں کو کمیشن دے گا پھر خاک بچے گا جس سے سڑکیں تعمیر ہوں گی۔ ہوشیار باش کہ پنھیار گروپ جاتے ہوے قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگانے کیلئے پر تول رہا ہے۔
یہ میسج میں حرف بحرف کاپی کر کے یہاں پیسٹ کر رہا ہوں۔ دیکھیں کس قدر علی حسن زرداری نے ورکس اینڈ سروسز میں کرپشن کے اسکینڈل کئے ہیں۔ نیب ایسے کرپٹ عناصر کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہا ہے؟
"شاہ صاحب ! یہ پروجیکٹ سوا سات ارب روپے کا ہے اور فیڈرل فنڈڈ پروجیکٹ ہے۔ یہ پروجیکٹ عمر جان کمپنی، اکرم پٹھان کو دیا گیا ہے۔ جس میں کمیشن 1087 ملین روپے اکرم خان پٹھان سے پہلے لئے گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کی مد میں 900 ملین روپے پہلے اور ابھی سوا ایک ارب روپے کی پیمنٹ نکلوائی جا رہی ہے۔اکرم خان سے کمیشن آفتاب پنھیار نے لیکر علی حسن زرداری کو دی ہے۔اکرم خان کے اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل، غیر معیاری کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ عرض محمد پنہیار، رضا پنھیار چیف انجینئر عبدالمجید پنہیار سمیت سب نے کرپشن کے ریکارڈز توڑے ہیں۔ لوکل ٹھیکیداروں، اسد شیخ، احسان لاشاری، نسیم عباس شاہ، عالم پتافی ، سمیت کئی دیگر کو 22 فیصد کمیشن پر فروخت کئے گئے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہم اسی ادارے کے لوگ ہیں۔ اس سے قبل ہم نے اتنی کرپشن اور لاقانونیت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پنھیار کہتے ہیں کہ ہمیں علی حسن زرداری کمیشن لینے کا کہتا ہے اور اس کا باقاعدہ حصہ آصف علی زرداری کو جاتا ہے۔ ورک آرڈر پر پیسے، این آئی ٹی پر پیسے ،ہر جگہ بس پیسے ہی پیسے چل رہے ہیں۔ اللہ آپکو سلامت رکھے ، آپ نے فرعونوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔"
کیا کراچی والے واقعی اتنے بے حس ہیں ؟۔۔ اداکارہ حمیرا اصغر جو ڈیفنس فیز6 اتحاد کمرشل کی چوتھی منزل کے فلیٹ میں 7 سال سے اکیلی رہائش پذیر تھی ۔۔ پچھلے ایک ماہ سے گھر میں مردہ پڑی تھی ۔۔۔ ارد گرد کے رہائشیوں میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ والے گھر میں ایک لاش پڑی ہے ۔۔ فلیٹ کے مالک نے کرایہ نہ دینے پر کیس کر رکھا تھا ۔۔۔ عدالتی بیلف جب گھر خالی کرنے کیلئے آیا اور دروازہ توڑا تو علم ہوا اداکارہ تو کب کی مرچکی ۔۔۔
۔
زریاب شیخ
محکمہ آبپاشی سندھ کی بیگاری بند ڈویژن میں اربوں روپے کے کرپشن اسکینڈل !!!
عرفان بھنگر "جو در اصل ایریگیشن میں ڈرافٹ مین ہے" محکمہ ایریگیشن کا بیگاری ڈویژن چلاتا ہے۔ عرفان بھنگر کی مرضی سے ایکسئین مقرر کیا جاتا ہے اور اسی کی مرضی سے ٹینڈر کلارک اور اسٹور کیپر تعینات ہوتا ہے۔ 2022/23 کی بارش/فلڈ میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگایا تھا۔
2023 تا 2025 تک قومی خزانے سے ایک ارب سے زائد بجٹ ریلیز کروایا گیا "جو کہ سالانہ بجٹ سے علیحدہ ہے" عرفان بھنگر نے ایکسئین اصغر عالمانی کے ساتھ ملکر ہڑپ کرلیا۔
چیف انجینئر سردار شاہ نے ایکسئین اصغر عالمانی سے 2024/25 رلیز ہونے والے بجٹ 41 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تفصیلات طلب کیں تو دونوں میں تلخ کلامی ہوئی مگر اخراجات کی تفصیلات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
عرفان بھنگر کی کرپشن کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بیگاری ڈویژن پر اینٹی کرپشن سکھر ریڈ کرنے والا تھا عرفان بھنگر کو خبر ملی تو اس نے اینٹی کرپشن سرکل آفیسر کا تبادلہ کروانے کا بندوبست کرلیا جس پر اینٹی کرپشن سرکل آفیسر نے معافی مانگ کر اپنی جان چھڑوالی۔
بیگاری ڈویژن میں مئی 2025 کو انور سومرو ایکسئین مقرر کیا جاتا ہے مگر جیسے ہی اینٹی کرپشن انگڑائی لیتا ہے تو عرفان بھنگر نے چھٹی کے دن اتوار کو کراچی سے دوبارہ اصغر عالمانی کی تقرری کروائی۔
ایک انگوٹھا چھاپ ڈرافٹ مین جو ٹھیکیدار بن کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا چکا ہے نیب و دیگر ادارے اس کے خلاف کاروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس دھندے میں سب ملوث ہیں اور کرپشن ختم کرنے کے صرف ڈرامے رچا کر قوم کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
بیگاری بند ڈویژن میں 2024/25 کے 41 کروڑ اور 23/24 کے 28 کروڑ روپے کا میگا اسکینڈل !!!
اصغر عالمانی نے ٹھیکیدار عرفان بھنگر کے ساتھ ملکر فنانس ڈپارٹمنٹ سے ملی بھگت کر کے کمیشن کے عیوض اکتالیس کروڑ سے زائد کا بجٹ رلیز کروا کر نہ ہونے والے کاموں کی مد میں خرد برد کرلی۔
گڈو بیراج ریجن چیف انجینئر سردار شاہ نے بیگاری ایکسئین اصغر عالمانی سے رلیز بجٹ خرچ کرنے کی تفصیلات طلب کیں لیکن انہیں اسکا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اکتالیس کروڑ سے زائد رلیز ہونے والے بجٹ سے کمیشن نہ ملنے پر چیف انجینئر گڈو بیراج ریجن سردار شاہ اور ایکسٹن اصغر عالمانی میں تنازعہ بڑھ چکا۔
#Sindh
#Irrigation
#PPP
وزیر اعلی سندھ کے پرائیویٹ سیکریٹری سلیم باجاری کا بیٹا فنکار پر 5 ہزار کے نوٹوں کی بارش کر رہا ہے۔ اگر یہ کمائی حلال اور محنت کی ہوتی تو شاید ایسا ممکن نہ ہوتا۔
سندھ میں عوام ایک وقت کی روٹی کیلئے ترس رہی ہے مگر پیپلز پارٹی نے سندھ کو لوٹ کر عوام کو فاقوں پر مجبور کردیا ہے۔