حافظ نعیم الرحمان نے مقبولیت میں پی ٹی آئی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ٹویٹر پر جعل سازی ممکن ہے لیکن فیس بک پر اصل اور حقیقی عوام ہے ۔ عوام اب پی ٹی آئی پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ہے
اوریا مقبول جان نے مجھے بلاک کر رکھا ہے
کوئی انھیں بتائے کہ سب سے بڑی بدبختی یہ ہے کہ انسان جنرل باجوہ کے لیے نبی کریم ﷺ اور سیدنا عمر سے متعلق جھوٹے خواب گھڑے اور کیمرے پر سنائے۔
اور وہ بھی اس وقت جب جنرل باجوہ پر قادیانیت کا الزام لگ رہا تھا، تو اس جھوٹے خواب کے ذریعے اسے ریسکیو کیا گیا، وجہ یہ تھی کہ اس وقت جنرل باجوہ اور ان کے محبوب قائد عمران خان کی گاڑھی چھنتی تھی۔
اور مزید بدبختی یہ ہے کہ اس پر شرمندہ ہونے اور توبہ کرنے کے بجائے اس پر تاویل کی جائے۔
کہنے کو مزید کئی باتیں ہیں، جنرل پاشا سے جنرل فیض حمید کی گود میں پلنے والی ان کی محبوب پارٹی پر مزید بات کی جا سکتی ہے، اور خود ان کے اپنے کردار پر بھی، مگر اوریا کی کوئی بھی بات فوری طور پر ان کے منہ مارنے کے لائق ہے، جب تک کہ وہ اس گستاخی پر معافی نہیں مانگتے اور توبہ نہیں کرتے۔
ڈاکوؤں کے ڈیرے پر لوٹی ہوئی دولت کی بندر بانٹ پر لڑائی جاری تھی کہ حافظ صاحب نے لٹے ہوؤں کو ساتھ ملا کر ڈیرے پر دھاوا بول دیا🔥
سسٹم کی تو بینڈ بجادی ایک اکیلے حافظ نے ✌️
#HafizNaeemRehman#JI_SuperLongMarch
ڈاکوؤں کے ڈیرے پر لوٹی ہوئی دولت کی بندر بانٹ پر لڑائی جاری تھی کہ حافظ صاحب نے لٹے ہوؤں کو ساتھ ملا کر ڈیرے پر دھاوا بول دیا🔥
#20Sep_IslamabadMarch
Levy Bhatta NaManzoor
JI Islamabad March
طُوطی کی آواز —•—
اگر پاکستان کو ایک آئینی جمہوری ریاست بننے دیا جاتا تو ھارڈ یا سافٹ سٹیٹ کی بحث کی ضرورت نہ پڑتی لیکن ایسا کرنے سے گروھی اور ذاتی مفادات مجروح ھوتے ھیں ۔
پاکستان کو سرزمین بے آئین بنانے کیلئے پچھلی آٹھ دھائیوں میں تمام سٹیک ھولڈرز نے کم یا زیادہ لیکن اپنااپنا حصہ ڈالا ھے مگر سب سے زیادہ نقصان مارشل لاؤں اور انکے سہولت کاروں نے ھی پہنچایا --
آئین کو سپریم تسلیم کیے بغیر اور شفاف جمہوریت لاۓ بغیر ریاست آگے بڑھی نہ بڑھ سکتی ھے -
ھر جماعت اور ادارہ دوسروں کے احتساب کیلئے بخوشی تیار ھے لیکن خود احتسابی کے لئے تیار نہیں ۔
دھڑوں کی لڑائ کو ریاست کا مفاد ، عوامی حقوق کی جنگ یا مذھب کا دفاع کہنا جائز تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔۔
آئین اور جمہوریت ھمیں صرف مصیبت ، آزمائش یا حسب ِ ضرورت یاد آتے ھیں بصورت دیگر ھمارے اپنے لئے وضع کردہ اصول ھی آئین اور جمہوریت سمجھ لئے جاتے ھیں ۔
آئین کو سپریم نہ مانا گیا تو عوامی اضطراب سیاسی جماعتوں ،نظام ِ عدل اور ریاستی اداروں سے منہ موڑ کر جتھوں کی شکل اختیار کرتا رھے گا ۔
کس کس سے لڑیں گے ؟؟
کس کس کو روکیں گے ؟؟
For 78 years, the elite cartels, feudal lords, bureaucratic mafia and powerful capitalists have held the nation hostage,
This system has clearly failed the people!
It’s time to end the exploitation and change the system!
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
When decisions bypass the people and are shaped behind closed doors, elections become an empty ritual. Democracy without people’s power is a facade, not governance!
It’s time to break this cycle of deceit and change the system.
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
اس ملک میں تم دیکھنا - انقلاب آئے گا
مسجد کی محرابوں سے - انقلاب آئے گا
چوکوں اور چوراہوں سے - انقلاب آئے گا
تعلیمی اداروں سے - انقلاب آئے گا
کھیلوں کے میدانوں سے - انقلاب آئے گا
کھیتوں سے کھلیانوں سے - انقلاب آئے گا
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
@SaboohSyed سابق الزکر خرابیاں جن سے قومیں تباہ ہوتی ہیں، اول الزکر خرابیوں (ایک دو کے علاوہ) کے منطقی نتائج ہیں...
قومیں تباہ ہوتی ہے آدھا علم سے، کوتاہ بینی سے
انڈین ، افغانی اور پی ٹی آئی والے جس طیارے کے گرنے کو پاکستانی قرار دیتے رہے وہ انڈیا کا نکل آیا۔ افغانی و انڈین کی بدمستی سمجھ آتی ہے یہ یوتھیا غداروں کی دشمنی سمجھ سے بالا ہے
میں پرویز مشرف کی افغان پالیسی کا شدید ناقد رہا،سوات اور فاٹا کے آپریشنز کا مخالف رہا،نظریاتی اختلاف کے باوجود مظلومیت کیوجہ سے افغان طالبان کا پرزور حامی رہا۔اسکے باوجود دو ہزار جار پانچ کے رمضان میں عرض کیا تھا کہ طالبان کے اقتدار کا خاتمہ سورہ کہف میں مذکور کارکن قدر و قضاء کے ہاتھوں بچے کے قتل ہونے والے عمل میں کار فرما حکمت جیسا ہے جو اس لیے موت سے ہم کنار کیا گیا تھا کہ اس نے بڑے ہو کر اپنے والدین کیلئے سوہان روح بننا تھا اسی طرح طالبان نے طاقت پکڑ پاکستان ہی نہیں عامۃ المسلمین کیلئے بھی ظالمان بن جانا تھا۔اس لیے اللہ نے انکے اقتدار کو ختم ہونے دیا۔(بہت سے بزرگوں اور احباب نے اس پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی تھی).تاہم مزید یہ بھی عرض کیا تھا کہ قوی امید ہے کہ طالبان اپنی نئی اٹھان میں ہمدردی اور رحمدلی سے معمور ہونگے۔لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
کہ مصداق حالات چغلی کھا رہے ہیں کہ وہ گزشتہ بیس سالوں میں کچھ نہیں سیکھ پائے۔
اسکے باوجود ایک موہوم سی امید اب بھی ہے کہ
ہر چہ دانا کند کند را ناداں
لیک بعد از خرابی بسیار
کے مصداق شاید
آ ملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
کی کوئی صورت کا اظہار رب العالمین اپنی قدرت قاہرہ سے اب بھی کر دے !
اگر کبھی ایسا ہونے کا امکان پیدا ہو تو بنیان مرصوص بنکر معرکہ حق لڑنے والے "لا تثریب علیکم الیوم" والی فراخی قلب کے مظاہرے میں بھی دریغ نہ کریں