حجاج بن یوسف نے جس وقت محمد بن قاسم کو اک خاتون کو رہا کرانے کے لیے سندھ بھیجا اس وقت حجاج بن یوسف کی ذاتی جیلوں میں 35 ہزار عورتیں اور مرد قید تھے
سندھ اس وقت امن کا گہوارہ تھا
جہاں سادات کو اُموی مظالم سے بچانے کے لیے پناہ اور عزت دی گئی
دراصل سندھ پر حملہ یہاں کے وسائل قابو کرنے اور سادات کو پناہ دینے کی غرض سے کیا گیا
سینکڑوں قیدی عورتیں اور 13,300 من سونا بصرہ بحری جہاز پر شفٹ کیا گیا
ملتان کا محاصرہ کر کے پانی کے ذریعے کو تباہ کر دیا گیا
پیاس سے نڈھال ہو کر جب ملتانیوں نے ہتھیار ڈال دیے تو مردوں کو شہید کر دیا گیا، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا
ملتان سے زیادہ تر لڑکیوں کو قابو کر کے دمشق بھیجا گیا
جب وہ دمشق کے بازاروں سے گزر رہی رہیں تھیں، اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہاں جشن کا سماں تھا
کچھ لڑکیوں کو اُمویوں نے اپنے حرم میں رکھ لیا، باقیوں کو فروخت کر کے گھوڑے اور ہتھیار خرید لیے
اُسی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے غیرت مند ملتانیوں نے ملتان میں محمد بن قاسم کا مجسمہ لگایا ہوا ہے
جبکہ غیور سندھی عوام آج بھی حملہ آوروں کو مسترد کرتی ہے
اور عظیم راجہ دہر کو اپنا ہیرو مانتی ہے
ماضی کے جھروکوں سے
🚨 کیا آپ کو پتہ ہے کہ خط غربت کا پیمانہ کیا ہے؟ اگر آپ کی ماہانہ آمدنی 8,500 روپے ہے تو آپ خطِ غربت کے نیچے ہیں، لیکن اگر آپ کی آمدنی 10,000 روپے ماہانہ ہے تو آپ خطِ غربت سے اوپر ہیں۔ یعنی اگر آپ شادی شدہ ہیں، آپ کا 1 بچہ بھی ہے، اور آپ کی آمدنی 10,000 روپے مہینہ ہے تو سرکاری حساب کے مطابق آپ غریب نہیں ہیں۔
یہی وہ بنیاد ہے جس پر بتایا گیا کہ 7 کروڑ 28 لاکھ لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی ماہانہ آمدنی 8,500 روپے سے کم ہے۔ اب ذرا خود حساب لگائیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں 7 کروڑ 28 لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس پورے مہینے کے لیے صرف 8,500 روپے ہیں؟
اب بتاؤ، میں جاؤں تو کہاں جاؤں؟ کس کے آگے روؤں؟ کس کو اپنی حالت سناؤں؟ اور پھر اس کے بعد بیٹھ کر بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔
سینئر صحافی و تجزیہ نگار نصرت جاوید صاحب
@javeednusrat
18 سال سے سندھ کے مطلق العنان حکمران اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ بلاول بھٹو کو خبر ہو کہ اکنامک سروے 2026 کے مطابق سندھ کے 68 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت نہیں ہے، 49 فیصد سکولوں کی چار دیواری ہی موجود نہیں اور 37 فیصد سکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔۔۔
خواتین اس پر لازمی رائے دیں
بطورِ نفسیات کے طالبعلم، میری رائے ہے کہ بچوں کے رشتے طے کرتے وقت صرف تعلیم، نوکری، خوبصورتی یا خاندان نہیں بلکہ ان کی شخصیت (Personality Traits) کو بھی ضرور دیکھا جانا چاہیے۔ نفسیات کی تحقیق بتاتی ہے کہ بہت سے ازدواجی مسائل اور طلاقیں مالی یا خاندانی وجوہات سے زیادہ مزاج اور شخصیت کے ٹکراؤ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر ایک فریق بہت غصیلہ، جذباتی اور فوری ردعمل دینے والا ہو تو دوسرے کا صبر، برداشت اور جذباتی استحکام (Emotional Stability) رشتے کو سنبھال سکتا ہے۔ اگر دونوں ہی ضدی ہوں اور اپنی غلطی ماننے کو تیار نہ ہوں تو معمولی اختلافات بھی بڑے جھگڑوں میں بدل سکتے ہیں۔
اسی طرح ایک شخص اگر بہت سماجی اور ہر وقت لوگوں میں رہنے کا شوقین ہو جبکہ دوسرا انتہائی نجی زندگی پسند اور تنہائی پسند ہو تو وقت کے ساتھ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ خرچ کرنے کی عادت بھی ایک اہم شخصیت کا پہلو ہے؛ اگر ایک بہت کفایت شعار اور دوسرا بے حد خرچ کرنے والا ہو تو مالی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
نفسیات کے مطابق کامیاب شادی میں جذباتی بلوغت، برداشت، ذمہ داری کا احساس، گفتگو کی صلاحیت، غصے پر قابو، لچک (Flexibility) اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت اکثر دولت، شکل و صورت اور سماجی حیثیت سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہیں۔
رشتہ دراصل دو خاندانوں سے پہلے دو شخصیتوں کا ملاپ ہوتا ہے، اس لیے مزاج اور شخصیت کو نظر انداز کرنا مستقبل کے مسائل کو دعوت دینے کے مترادف ہے
تیزاب گردی اکثر مردانہ بالادستی قائم رکھنےکےایک ہتھیارکےطورپراستعمال کی جاتی ہے،مثلاً شادی کی پیشکش مسترد ہونے،جنسی تعلقات یامحبت کی پیشکش قبول نہ ہونے،جہیزکےتنازعات یامردانہ غصے کےنتیجےمیں۔مجرم کامقصد عورت پر سماجی موت مسلط کرنا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کافیصلہ