ہمیں دوست احباب بار بار کہتے ہیں کہ فوری طور پر ایران سے نکل کر پاکستان آجائیں۔
میں کہہ دیتا ہوں کہ پروازیں منقطع ہیں۔ اور روڈ ٹریولنگ جنگ کے دنوں میں محفوظ نہيں ہے۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ اتنی بہادر قوم کو مشکل میں چھوڑ کر پاکستان آنے یا کہیں اور جانے کو دل نہیں مانتا۔ ضمیر اجازت نہيں دیتا۔
اپنی خاص کر بچوں کی حفاظت کا اتنا انتظام تو کیا ہے جتنی کا حکم ہے۔ باقی اللہ مالک۔
اگر شہید ہوگئے تو دعا ضرور کیجئے گا۔ جزاک اللہ!
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِم وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
محققاً كسانى كه گفتند پروردگار ما خداست، سپس استقامت كردند، هیچ بیم و اندوهی بر آنان نیست.
پالیسیاں بدل سکتی ہیں، لیکن جغرافیہ نہیں،مذاکرات کا وقت ختم، اب براہِ راست مقابلہ ہوگا،تہران کا واشگاف اعلان، پاکستان کے غیور عوام کا شکریہ، اقبال فورم کے سربراہ محمد حسین باقری کا اہم پیغام
نام نہاد جمہوریوں نے ایک شخص کے خوف میں کیا کچھ کر ڈالا؛ صرف ایک شخص کی سیاست ختم کرنے کے لیے پوری سیاست اور جدوجہد راکھ بنا دی۔ اس وقت عدلیہ اور آئین کا ہونا ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ سب مل کر پاکستان کے آئین کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ اختر مینگل
@sakhtarmengal#imrankhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے جو ملک کے لئے نہایت شرمناک ھوگا اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں
Former Prime Minister Imran Khan's New Year Message - January 1st, 2025
Happy New Year to the nation! I have the utmost faith that 2025 will be the year of our genuine freedom.
I want to thank my nation for refusing to bow before the tyrants of this era, despite facing fascism.
On February 8, the people gave a decisive verdict and voted for a party that had been practically banned by stripping it of its election symbol.
The Pakistani nation stood as a symbol of resilience and courage, remaining steadfast throughout the year. God willing, your sacrifices will not go in vain.
The regime change experiment has proven disastrous not only for the national economy but for the entire system of the country. An economy growing at 6% has been destroyed, resulting in losses of $42 billion so far. The growth rate has shrunk from 6.1% to just 0.17%. Institutions and the justice system have been rendered ineffective.
Absurd decision to sentence civilians in military courts have provided global community with yet another opportunity to criticize the country.
The fascist regime imposed on the nation has tried every kind of oppressive and authoritarian tactic to instill fear, however, fear has its limits.
In the new year, I also want to thank those responsible for this blatant fascism and cruelty, as they inadvertently played a pivotal role in helping the nation break the shackles of fear. The entire (authoritarian) system is now on its knees. While it may delay its inevitable defeat with various tactics, such efforts are futile. God willing, victory will belong to the people and is imminent.
چئیرمین عمران خان کا سالِ نو کے حوالے سے پیغام
قوم کو سالِ نو مبارک ہو! یقینِ کامل ہے کہ سال ۲۰۲۵ حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
میں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے باوجود فسطائیت کے وقت کے فرعونوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ۸ فروری کو بھی اپنا واضح فیصلہ سنایا، اور ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس پر اس کا انتخابی نشان چھین کر عملاً پابندی لگا دی گئی تھی۔ استقامت اور ہمت کا استعارہ بن کر پاکستانی قوم باقی ماندہ سال بھی ڈٹ کر کھڑی رہی۔ آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، انشاء اللہ
رجیم چینج کا تجربہ نہ صرف قومی معیشت بلکہ ملک کے مکمل نظام پر بہت بھاری پڑا ہے۔ 6% شرح نمو پر ترقی کرتی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ملک کو اب تک اس کھلواڑ سے 42 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ شرح نمو 6.1% سے سکڑ کر 0.17% پر آ چکی ہے۔ اداروں اور انصاف کے نظام کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سویلینز کی سزاؤں کے بیوقوفانہ فیصلوں نے عالمی برادری کو ملک پر تنقید کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے۔
ملک میں رائج فسطائی رجیم نے قوم کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہر قسم کے جابرانہ و آمرانہ حربے آزمائے لیکن خوف کی ایک خاص مدت ہوتی ہے۔ اس نئے سال میں، میں جبر و فسطائیت کے پہاڑ توڑنے والوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے قوم کے خوف کے بت توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب پورا نظام اپنے گھٹنوں پر آ چکا ہے اور اپنی نوشتہ دیوار شکست کو مختلف حربوں سے موخر تو کر سکتا ہے لیکن ٹال نہیں سکتا۔ فتح انشاء اللہ جمہور کی ہو گی، اور بہت جلد ہو گی
کچھ عرصہ قبل جب تحریکِ انصاف کو توڑ کر نئی نئی پارٹیاں بنائی جارہی تھیں اور عوام کو یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ چونکہ کچھ نام نہاد لیڈران عمران خان کو چھوڑ گئے ہیں تو اب تحریکِ انصاف ختم ہوگئی ہے تب اپنے کارکنان کو یہ پیغام دیا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی اگر کسی مرتبے پر پہنچا ہے اور آج مخلوق خدا ہمیں قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو یہ اللہ کے بعد عمران خان کی بدولت ہے۔ ہم جب تک اُس کے ساتھ ہیں معتبر ہیں۔ اُس کے نظریے سے غداری کرکے ہماری کوئ حیثیت باقی نہیں رہتی۔ آج میں اللہ کا بہت شکرگزار ہوں کہ اُس نے میری اس بات کی لاج رکھ لی۔۔
کیونکہ زمینی خداؤں کو یہ گمان ہے کہ قبولیت کے فیصلے وہ کرتے ہیں اور سو میرے لیڈر کو پیغام دیا گیا تھا کہ میں (اور تحریک انصاف کے چند دیگر لیڈران مقتدرہ کو ہرگز قابلِ قبول نہیں ہیں) اس لیے پہلے میرے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کروائے گئے، اپیل پر ٹربیونل پر بھی دباؤ ڈال گیا اور اپیل خارج کردی گئی پھر نگران حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ میں میری اپیل میں بھی خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی تب دوسرے ورکرز کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ بڑے بڑے ناموں کے مقابل ہم نے اپنے ورکرز کو لڑایا اور الحمد للہ اللہ نے مجھے اپنے لیڈر اور اپنے لوگوں کے سامنے سرخرو کیا۔ ہمیشہ کیطرح ہم نے ناصرف سوات کی گیارہ میں سے گیارہ سیٹیں بھاری اکثریت سے جیتی ہیں بلکہ پورے مالاکنڈ ریجن سے قومی اسمبلی کی تمام نشتیں تحریکِ انصاف کو ملی ہیں۔ شانگلہ کی جس ایک سیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی ہمارے ورکرز نے اپنی جانوں پر کھیل کر وہ واپس چھین لی ہے۔ میں ملاکنڈ ڈیویژن کے اپنے غیور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میرے پاکستانیو! الحمد للہ آپ نے تاریخ رقم کردی ہے۔ آپ نے اللہ کے فضل سےعمران خان کو اُن سب طاغوتی طاقتوں کے سامنے سُرخرو کردیا ہے جو اس گمان میں تھے کہ وہ عزت و ذلت کے فیصلے کرنے پر قادر ہیں۔ آپ نے اب بھی اُسی طرح سے ڈٹے رہنا ہے جیسے آپ دو سال ڈٹے رہے ہیں۔ جیسے آپ ہر اس مرحلے پر ڈٹے رہے ہیں جب جب آپ کے لیڈر کو آپ سے چھیننے کی کوشش کی گئی۔ آپ نے اپنے مینڈیٹ کی بھی اُسی طرح حفاظت کرنی ہے جیسے آپ نے اپنے لیڈر کی حفاظت کی ہے۔
بے شک ہمارے پاس اب بھی عددی برتری ہے لیکن ہمیں ہمارا مکمل اختیار واپس لینا ہے۔ وہ اختیار، وہ دو تہائی اکثریت جو اس قوم نے ہمیں ووٹ دے کر دی ہے۔ جن علاقوں میں ہم ثابت قدم رہے ہیں آر او آفس کے سامنے پرامن دھرنا دیے رہے ہیں ہم وہاں کامیاب ہورہے ہیں۔ جن جن حلقوں کے فارم ۴۵ ہمارے پاس موجود ہیں اور اس کے باوجود وہ حلقے ہم سے دھاندلی کرکے لیے جارہے ہیں ہم نے وہ سیٹیں واپس لینے تک بیٹھے رہنا ہے۔ اپنی جیت پر مہر ثبت کرنے تک صبر اور استقامت سے مقابلہ کرنا ہے، کسی سازش، کسی انتشار کی چال کامیاب نہیں ہونے دینی۔ منزل کے اتنے قریب پہنچ کر کسی کو اپنے حوصلے پست کرنے نہیں دینے۔ ڈٹے رہنا ہے اپنی غیرت، اپنی خوداری، اپنے لیڈر، اپنے مستقبل کے لیے۔ اپنے پاکستان کے لیے۔
میری آرمی چیف جناب جنرل عاصم منیر صاحب سے درخواست ہے کہ عوام نے کھل کر اپنا مینڈیٹ عمران خان کو دے دیا ہے۔ کچھ عناصر دھاندلی کر کے نتائج تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں اور اس دھاندلی پر عوامی ردعمل کے سامنے ہماری افواج کو کھڑا کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ آپکی لیڈرشپ کی ضرورت ہے اس وقت۔ فوج ہمارا قومی ادارہ ہے۔ ہم سب کی ملکیت۔ ہم سب کا مان شان۔ آپ اس وقت فوج کے سربراہ ہیں۔ براہ مہربانی ہماری قومی فوج کو اس کام میں استعمال نہ ہونے دیں اور جو یہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی سرزنش کریں۔
اگلے چند گھنٹے پاکستان کی تاریخ میںُ بڑے اہمُ ہیں، چوھدری نظامُ دین کا کنٹرولڈ controlled الیکشن کمیشن عمران خان اور تحریک انصاف کو انتخابی نشان ہی نہیں دے رہا! آج کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا آخری دن ہے! چوھدری نظام دین اپنے بیرونی آقاؤں، جن میں اب ہندوستان اور مودی سرکار بھی شامل ہے، کے منصوبوں پہ پوری شدت سے عمل کر رہا ہے، اور منصوبہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ممبران کو آزاد امیدواروں کی حیثیت سے الیکشنُ لڑنے پہ مجبور کیا جاے! تاکہ جب وہ اسمبلی میں پہنچیں تو پارٹی اور عمران خان کا ان کے اوپر کوئی ڈسپلن نہ ہو، اور چوھدری نظام دین کے کارندے انھیں اپنی مرضی سے استعمال کر سکیں! اگلے چند گھنٹوںُ میںُ پتہ چلے گا کہ پاکستان میں جو ضالمانہ مزاق ہو رہا ہے کیا اسے الیکشن کہا بھی جا سکتا ہے کے نہیں؟ اس بد نصیب ملک میںُ ہمیشہ ہی الیکشنُ شائد فراڈ اور دھاندلی کے تھے مگر جو کمینگی اور ظلمُ اب ہے وہ کبھی دیکھنے سننے میں نہیں آیا! https://t.co/T1Ru3sM2jn via @YouTube