The cutest thing about @RiyadhAir 😅✈️ — watching the English-speaking captain try his best to introduce the flight in Arabic. 🇸🇦❤️
A little effort, a lot of charm! 😂👏 😅
RX675
🚨🇵🇰 Imran Khan has only 15% vision left in his right eye after months of prison neglect, according to his family and lawyer.
Officials? Silent.
This is how they treat a former PM?
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
🇵🇰 IMRAN KHAN SUPPORTERS HIT WITH CHEMICAL WATER CANNONS OUTSIDE PRISON
Police used water cannons, reportedly mixed with chemicals, to break up peaceful protests outside the prison holding former PM Imran Khan.
Among those targeted were Khan’s sisters and supporters of his political party, PTI, who had gathered outside Adiala Jail, near the capital Islamabad, after being denied a court-ordered visit with him.
The protests began after repeated violations of a ruling by Pakistan’s top court allowing Khan 2 family and legal visits per week.
Instead of allowing access, police responded with force - launching water cannons at 2am, followed by baton charges and arrests.
Videos posted online show drenched protesters gasping, with some complaining of burning skin and eyes.
One of Khan’s sisters said the water was “poisonous” and left her hands burning.
PTI called the crackdown a “textbook case of fascism” and accused the government of using “chemical-laced water” on women, the elderly, and peaceful demonstrators.
Khan, once Pakistan’s most popular political figure, has been jailed since August on corruption charges.
His legal team says he’s in solitary confinement, being denied basic rights, and subjected to psychological pressure.
A UN human rights expert recently warned his treatment could amount to inhumane or degrading punishment under international law.
Source: Dawn, @rizwanghilzai, @eyeonpakistan_
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
🇵🇰 PAKISTAN'S GENERAL ASIM LAW AND THE POLITICS OF FAMILY PUNISHMENT
Pakistan’s politics has always been ruthless.
But what we’re watching under General Asim Munir’s so-called “Asim Law” is something else entirely: the weaponization of family ties.
Imran Khan - jailed for over 2 years.
His wife Bushra Bibi - locked up almost as long.
Sisters dragged through “fabricated” cases, hauled in and out of courtrooms.
Nephews tried by military courts, abducted from homes and cars, paraded as trophies of the state.
This isn’t rule of law. It’s collective punishment - guilt by bloodline.
A message to every dissenter: your family is fair game.
The irony: A government that claims to defend democracy is normalizing tactics straight out of martial law’s darkest playbook.
The optics are catastrophic: instead of breaking Khan, they’re canonizing him - turning his clan into symbols of persecution.
Call it strategy, call it paranoia, call it vendetta.
Whatever the label, history will record this moment for what it is: not justice, but retribution.
Source: @Haider4PTI, @PTIofficial
🇵🇰 PAKISTAN'S DEMOCRACY DIES IN DARKNESS: NOW THEY'RE HUNTING HIS NEPHEWS
Pakistan's military regime just arrested Imran Khan's nephews Shahrez and Shershah Khan this week, claiming they were involved in the May 9, 2023 protests.
Masked men stormed his sister Aleema's Lahore home, traumatizing children while making the arrests.
Khan faces 186 cases and remains imprisoned despite multiple acquittals.
Now authorities are targeting his family.
His wife served months in jail.
His sister's sons are being detained on charges from protests that occurred after Khan's illegal arrest.
The Supreme Court already declared Khan's May 9 arrest unlawful.
Courts have acquitted him in multiple cases.
Yet he remains behind bars while the regime expands its crackdown to his relatives.
This pattern is clear: when legal persecution fails, target the family.
When courts grant bail, find new charges.
When public support grows, silence all dissent.
Pakistan's establishment is writing its own indictment.
Every nephew arrested, every family member harassed proves Khan's point about military interference in politics.
Source: Al Jazeera, Reuters, The Guardian
🚨🇵🇰 MINHA QASIM, THE LITTLE GIRL WHO CELEBRATED KHAN’S BAIL, HAS BEEN ABDUCTED
Minha Qasim, the little girl who was seen handing out sweets after Khan’s bail, has been abducted by Punjab Police.
Her family says she is missing and not at any police station.
Source; Eyes on Pakistan
“We haven't seen our father for three years and haven't been able to speak to him for months. It's obviously brutal. It seems like they're trying to break him.”
Imran Khan’s sons #SulaimanKhan and @Kasim_Khan_1999 in an Exclusive Interview with @piersmorgan
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)