حیدر سعید کا پیغام۔۔۔۔
السلام علیکم میرے پاکستانیوں،
امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میرے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔
آج سے 54، 53 دن پہلے میری ضمانت ہائی کورٹ سے ریجیکٹ ہو گئی تھی۔
میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے لیے دعا کریں۔
دعا میں بہت طاقت ہوتی ہے۔
مجھے آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔
جب آپ اپنے لیے دعا کریں تو حیدر سعید کو بھی دعا میں یاد رکھ لینا۔
میں ایک محبِ وطن پاکستانی ہوں، مجھے پاکستان سے عشق ہے۔
میرے خون کے ہر قطرے میں پاکستان کے لیے محبت ہے۔
میرا اللہ میرے حال سے بہت بخوبی واقف ہے۔
مجھے پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت ہے۔
جب یہ لوگ مجھے پاکستان کا دشمن بولتے ہیں تو میں اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں۔
پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ نہیں۔
امید کرتا ہوں جلد آپ لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔
میرا اللہ مجھے سرخرو کرے گا۔
یہ ملک ہمارا ہے۔
ہم اصل محبِ وطن پاکستانی ہیں۔
آپ سب کا دوبارہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
آپ سب میرے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
شکریہ
حیدر سعید
ناحق قیدی
اسیرِ اٹک جیل
ہمارے ادارے،عدالتیں اور سرکاری لوگ عمران خان کو سمجھ ہی نہیں سکے، وہ سمجھتے بھی کیسے؟؟ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ جب وہ وزیراعظم تھا تو اُس کے بنی گالا والے گھر کا بجلی کا بل دو لاکھ اسی ہزار آگیا تو اُس نے خود فون کرکے ایس ڈی او کو بلا کر کہا کہ ” بل بہت زیادہ آگیا ہے،اس کی قسطیں کردیں“ ایس ڈی او حیران تھا کہ یہ وزیراعظم پاکستان ہے اور ذاتی گھر کے بجلی کے بل کی قسطیں کروا رہا ہے،دراصل سرکاری لوگوں نے ایسا وزیراعظم دیکھا ہی نہیں تھاکیونکہ یہاں تو وزیراعظم ایسی باتیں کرتے ہی نہیں تھے ، یہاں تو حکم ہی کچھ اور ہوتا تھا۔
شہید ارشد شریف کو نسلی دوست بھی نہ ملے !!!
ان صاحب کی کل صحافت ارشد شریف شہید کے ساتھ دوستی ہے، اور اسی دوستی کو سیڑھی بنا کر یہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز میں بڑے عہدوں پر بیٹھے رہے۔ جب بھی ان پر نوکری کے دروازے بند ہوتے تو شہید ارشد شریف نے ان کو ریسکیو کیا، کیرئیر کے ہر موقع پر ارشد صاحب نے ان کا ہاتھ تھامے رکھا، 92 نیوز میں بیوروچیف، دنیا نیوز میں بیوروچیف، اے آر وائے میں بیوروچیف ۔۔۔ یہ سب شہید ارشد شریف کے احسانات ہیں، اتنے احسانات اگر آپ پر کسی کے ہوں تو آپ اپ کی نسلیں بھی مقروض رہتی ہیں۔
جب شہید ارشد شریف پر مشکل وقت آیا حتی کہ ان کی شہادت ہوگئی لیکن انہوں نے اج دن تک شہید ارشد شریف کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت تک نہیں کی اور اپنی نوکری بچانے کے چکر میں وہ سب احسانات بھول گئے جو شہید ارشد شریف نے ان پر کیے۔۔۔
کاش ارشد شریف شہید جب شام کو دوستوں کی محفل سجاتے تو اس وقت ان دوستوں کے حلق میں غیرت کا لقمہ بھی ڈال دیتے تاکہ مشکل وقت میں کسی کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ ان میں بھی پیدا ہو جاتا۔
یہ ارشد شریف شہید کے لیے کیا آواز اٹھائیں اب تو نیشنل پریس کلب میں شہید دوست کی بیوہ کے مخالف امیدوار کی حمایت کر رہے ہیں، کاش کہ شہید ارشد شریف کو نسلی دوست ہی مل جاتے۔۔۔
سحرش قریشی قابل احترام ہیں، ان کا یا کسی کا بھی حق ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں اور مہم چلائیں، لیکن ارشد شریف شہید کے احترام میں اگر وہ اس الیکشن سے دستبردار ہوجاتی تو ان کا قد بڑھ جاتا ، خیر جب اتنے قریبی دوستوں نے ہی آنکھیں بند کر لی ہوں تو دوسروں سے کیا امید !!!
کدھر ہے ابتسام؟ کون لے گیا؟
اہلِ خانہ پریشان ہیں اور انصاف کے ایوان خاموش۔
اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عمران خان پر جان لیوا حملہ کرنے والے مجرم کو روکنے والا بہادر نوجوان ابتسام کل سے لاپتہ ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ابتسام کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔ کسی بھی شہری کو اس طرح غائب کرنا قانون و آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزیرآباد میں عمران خان کی جان بچانے والے بہادر نوجوان ابتسام حسن کو آج سحری کے وقت مسجد سے واپسی پر غیرقانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
یہ عمل نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جس شخص نے ایک بڑی سانحہ کو روکنے میں کردار ادا کیا، آج اسی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم اس گھٹیا اور غیرقانونی اقدام کی پُرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ابتسام حسن کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس گرفتاری کے ذمہ داروں کا بھی احتساب کیا جائے۔
عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر عاصم یوسف کا عمران خان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کانفرنس کال کے بعد بیان:
“کل رات تقریباً پونے دس بجے میری اسلام آباد میں موجود دو ڈاکٹرز سے ٹیلی فون پر بات ہوئی، جو اس وقت عمران خان صاحب کی آنکھ کا علاج کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
میں نے اپنے کولیگ ڈاکٹر خرم مرزا، جو لاہور میں ریجنل اسپیشلسٹ ہیں، ان سے بھی درخواست کی کہ وہ اس کال میں شامل ہوں۔ ان کی مہربانی ہے کہ وہ فوراً شامل ہو گئے اور انہوں نے بھی تفصیلی بات چیت میں حصہ لیا۔
اسلام آباد کے ڈاکٹرز نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کب سے خان صاحب کو دیکھ رہے ہیں، کون کون سے ٹیسٹ کیے گئے، کیا تشخیص ہوئی، اب تک کیا علاج ہوا اور آئندہ علاج کا کیا پلان ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فالو اپ کس طرح کیا جائے گا۔
ڈاکٹرز کے مطابق انہوں نے آخری بار کل دوپہر خان صاحب کو دیکھا، اور تمام رپورٹس و تازہ اسیسمنٹ کے مطابق خان صاحب کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، آنکھ میں بہتری آئی ہے اور بینائی بھی امپروو ہوئی ہے۔
میری خواہش ہے کہ میں پورے یقین سے اس کی تصدیق کر سکوں، مگر افسوس کہ میں نہ تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے خود خان صاحب کو نہ دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بات ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ خان صاحب کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹرز کو بھی ابھی تک انہیں دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی لیے میں ایک بار پھر اتھارٹیز سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یا ڈاکٹر فیصل سلطان کو، اور خان صاحب کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹرز کو اسلام آباد میں معائنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔
میری خصوصی درخواست ہے کہ آئندہ تمام ٹیسٹ، اسیسمنٹ اور علاج Shifa International Hospital میں کیا جائے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ یہ عالمی معیار اور مناسب اسٹیندرز کا حامل اسپتال ہے، جہاں عمران خان صاحب کو ان شاء اللہ بہترین علاج میسر آ سکے گا”