گزشتہ 40 روز سے فون اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث انتخابی مہم اور عوام تک اپنی بات پہنچانا ممکن نہیں، جس سے آزادانہ اور شفاف انتخابات متاثر ہو رہے ہیں۔ جہاں سیکیورٹی خدشات نہیں وہاں فوری طور پر انٹرنیٹ بحال کیا جائے، کیونکہ پورے آزاد کشمیر کو اجتماعی سزا دینا ایف سی آر کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کیا ہے۔
سڑکوں کے بجائے مسائل اسمبلی اور آئینی فورمز پر حل کیے جائیں، فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے ٹروتھ کمیشن قائم کیا جائے، جبکہ وفاقی حکومت بھی اس معاملے پر نظرِ ثانی کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مزید آئینی اختیارات اور عبوری نمائندگی دی جائے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا بی بی سی اردو کو انٹرویو
@BBhuttoZardari
ڈی چوک آج بھی آباد ہے پہلے صرف ناچ گانا تھا، آج قوم امن و سکون کی خوشیاں منا رہی ہے۔ ان میں سے آدھے لوگ بھی ڈی چوک کے بجائے اڈیالہ چلے جاتے تو شاید عمران خان رہا اور علیمہ خان کی خواہش پوری ہو جاتی۔
آزاد جموں و کشمیر کے حقِ حاکمیت کی عالمی جدوجہد قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہر بین الاقوامی فورم پر لڑی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دنیا بھر میں کشمیری عوام کی آواز بلند کی، اور آج ہم اسی مشن کو اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
میں پاکستان کی تاریخ کا واحد وزیرِ خارجہ ہوں جس نے بھارت کی سرزمین پر جا کر بھی کشمیر کے عوام کے حقِ حاکمیت اور آزادی کی آواز بلند کی۔ ہمارا مؤقف آج بھی وہی ہے جو قائدِ عوام نے دیا تھا، اور جسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس عہد کے ساتھ آگے بڑھایا کہ "جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا خون گرے گا۔"
یہ جدوجہد صرف ماضی کی تاریخ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کا عہد ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہر سطح پر، ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ حاکمیت، انصاف اور امن کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
27 جولائی کو تیر کے نشان پر مہر لگائیں، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔
#KotliMeinTeerChaleyGa
#کوٹلی_میں_تیرچلےگا
جنوبی پنجاب کے زراعتی اور تجارتی منظرنامے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ملتان وہاڑی شاہراہ کے ساڑھے 93 کلومیٹر طویل حصے کو دو رویہ کرنے کا یہ معرکہ 14 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ طویل سفری صعوبتوں اور حادثات کا مستقل ازالہ کرتی یہ وسیع گزرگاہ اب علاقائی معیشت کو نئی جلا بخشنے، زرعی اجناس کی مارکیٹوں تک ترسیل کو تیز کرنے اور عوامی زندگی میں پائیدار آسانیاں لانے کے لیے تیار ہے۔
لندن میں اختجاج کیں یہ کشمیری بزرگ پاکستان کا جھنڈا پہن کر کھڑے تھے۔
عمران ریاض کا چمچہ نقیب راجہ وہاں پہنچا اور اس کشمیری بزرگ کو صرف پاکستان کی شرٹ پہننے پر بکواس کرنے لگا جو کہ اس ویڈیو میں واضح نظر آ رہا ہے اور پولیس کو بھی بلوایا
اس بزرگ کے لئے لازمی آواز اٹھائیں
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
With profound grief and deep sorrow, the Afghanistan Cricket Board mourns the passing of former Afghanistan fast bowler Shapoor Zadran.
Shapoor Zadran was one of the foundation-laying figures of Afghanistan cricket, whose dedication, passion, and unwavering commitment played a vital role in the rise and development of the game in our country. He was among the proud cricketers who stood at the heart of Afghanistan’s early cricket journey and helped build the path that brought Afghan cricket to the international stage.
Throughout his career, Shapoor served Afghanistan cricket with honor, courage, and pride. His contributions and achievements will always remain an important part of the history of Afghanistan cricket, and his efforts in the service of the national team will never be forgotten.
Beyond his achievements on the field, Shapoor Zadran was a true source of inspiration for many young Afghan cricketers and for cricket followers across the world. His fighting spirit, determination, and love for the game gave hope to many and encouraged a generation to dream bigger and believe in the future of Afghanistan cricket.
The Afghanistan Cricket Board extends its heartfelt condolences and deepest sympathies to his family, friends, loved ones, former teammates, and the entire Afghan cricket community. His loss is deeply felt, and his memory will forever remain alive in the hearts of the people of Afghanistan and the cricketing world.
May his soul rest in eternal peace.
May Allah Almighty forgive him, grant him the highest rank in Jannat-ul-Firdaws, and bless him with the best of rewards.
جولائی 1977 سے پہلے قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی ایجوکیشن پالیسی اور تیسرے مارشل لاء کے بعد ایجوکیشن پالیسی کا رول بیک کرنا اور طلباء کو ہونے والے نقصان اور تعلیم غریب کی دسترس سے باہر ہونے کا تقابلی جائزہ
پاکستان پیپلز پارٹی سٹڈی سرکل کی رکن محترمہ حمیرہ لطیف عاصم کی زبانی
سنیئے👇
@BBhuttoZardari@AseefaBZ