ایک بزرگ رو رو کر دہاڑے مار کر کہہ رہا ہے کہ میرا بچہ بیمار ہے مجھے جانے دو اپ لوگ راستے سے ہٹ جاؤ۔
لیکن فر۔عونوں کو رتی بھر فرق نہیں پڑ رہا وہ کہتے ہیں کہ کوئی مرے یا جئے ہم راستے سے نہیں ہٹیں گے۔
لعنت ہو ایسی گندی ارمی پر لعنت ہو ان کے جنرل عاصم منیر پر۔
مٹی خون کو جذب کر لیتی ہے، مگر یاد کو نہیں۔ جو گھر آج ملبہ ہیں، کل وہ گواہی ہوں گے کہ طاقت کے شور سے سچ کی آواز ختم نہیں ہوتی۔
سوراب کے پہاڑ شاید کچھ نہ کہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد یہی پہاڑ انسان سے پوچھیں گے: جب آبادی جل رہی تھی، تب تم کس طرف کھڑے تھے
پورے سسٹم پر سوال اٹھانے والے جناب نقوی صاحب، جس ادارے کی ذمہ داری آپ کے ماتحت ہے، وہ بے لگام گھوڑے کی طرح بدعنوانی اور بدمعاشی پھیلا رہا ہے۔ خدارا اسے قابو کریں اور اس نظام کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ آپ کی آمد سے پہلے اس ادارے میں ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا،
اب سوال یہ ہے کہ یہ سب آپ کی نگرانی میں کیسے ہو رہا ہے؟
اقلیتوں کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا پیغام
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ ہماری دینی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے۔مولانا فضل الرحمان
اسلام نے اقلیتوں کے جان و مال، عزت اور مذہبی آزادی کے حقوق کا واضح تحفظ دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں برابر کی شہری ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔مولانا فضل الرحمان
ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور انصاف کے قیام کے لیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام اقلیتوں کے آئینی، مذہبی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار ہے۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔مولانا فضل الرحمان
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو بلاامتیاز جان، مال، عزت اور مذہبی آزادی کا تحفظ فراہم کرے۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان
اسلام انسانیت، امن اور رواداری کا درس دیتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اسی فکر کا عملی تقاضا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا تحفظ ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ہے۔ مولانا فضل الرحمان
1972 میں مفتی محمود نے واضح اعلان کیا تھا کہ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو ان کی مرضی کے بغیر سرکاری تحویل میں نہیں لیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے بچوں کو بھی تعلیم، ترقی اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔مولانا فضل الرحمان
ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے تمام مذاہب اور مسالک کے درمیان احترام اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے آئین اور اسلامی تعلیمات دونوں کا بنیادی تقاضا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مذہبی ہم آہنگی کے فروغ سے پاکستان میں امن، اخوت اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا دینی، اخلاقی اور سیاسی کردار جاری رکھے گی۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کو بلاامتیاز عزت، انصاف اور تحفظ کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بے حسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!
صحافی: وزیراعلیٰ صاحب! صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور ترقی کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
سہیل آفریدی: ’’اول ګل پہ سہ دے، او سیدا ګل پہ سہ دے!‘‘
جس صوبے کے عوام امن اور مستقبل کی فکر میں ہو ، وہاں ایسی بے فکری افسوسناک بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔
• کراچی میں ہوٹل مالکان اور مزدوروں کے خلاف ناجائز جبر و زیادتی ناقابلِ قبول ہے، علامہ راشد محمود سومرو
• شفیق موڑ کے ہوٹل پر پولیس دھاوے، معمر شہریوں پر مبینہ تشدد اور بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، راشد محمود سومرو
• معمر شہریوں پر انسانیت سوز تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا، علامہ راشد محمود سومرو
• کاروباری طبقے اور غریب محنت کشوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ناجائز جبر قابلِ قبول نہیں، راشد سومرو
• شفیق موڑ واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جے یو آئی سندھ
• حکومت یک طرفہ کارروائی سے گریز کرے، تمام فریقین کا مؤقف سنا جائے، جے یو آئی سندھ
• پولیس عوام کی محافظ ہے، تشدد اور بلاجواز گرفتاریوں سے عوام میں خوف پیدا نہیں ہونا چاہیے، جے یو آئی سندھ
• قانون سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جے یو آئی سندھ
• شفیق موڑ واقعے کا صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار سے رابطہ کرکے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جے یو آئی سندھ
• ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی عرفان بلوچ سے بھی رابطہ کرکے واقعے پر شدید تحفظات سے آگاہ کیا، جے یو آئی سندھ
• متاثرہ ہوٹل مالکان اور محنت کش مزدوروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، جے یو آئی سندھ
• مظلوم ہوٹل مالکان اور متاثرین کو ہر ممکن قانونی و اخلاقی تعاون فراہم کریں گے، جے یو آئی سندھ
• متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھائیں گے، جے یو آئی سندھ
• شفیق موڑ واقعے کے متاثرین کو تحفظ اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے، راشد محمود سومرو
• جے یو آئی سندھ کا اعلیٰ سطحی وفد وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کرکے شفیق موڑ واقعہ بھرپور انداز میں اٹھائے گا
• وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات میں متاثرین کے تحفظات، نقصان اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا معاملہ اٹھایا جائے گا
• شفیق موڑ کے متاثرہ ہوٹل مالکان، کاروباری افراد اور مزدوروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، جے یو آئی سندھ
• کاروباری طبقے اور محنت کش مزدوروں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی، جے یو آئی سندھ
• مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کے لیے تمام قانونی و آئینی راستے اختیار کیے جائیں گے، جے یو آئی سندھ
• حکومت واقعے کا فوری نوٹس لے، متاثرین کو تحفظ فراہم کرے اور انصاف یقینی بنائے، جے یو آئی سندھ
• شفیق موڑ واقعے میں ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جے یو آئی سندھ
@SoomroOfficial
سندھ کے نوجوان اور سٹوڈنٹس میدان میں نکلنے کو تیار رہیں
ایک لاکھ لوگ لے کر پہنچوں گا دھرنا دیں گے
اب بہت ہوگیا اب یہ نظام نہیں چلے گا، نظام بدلنا ہوگا
جے یو آئی کا سندھ پبلک سروس کمیشن کے باہر دھرنے کا اعلان
@SoomroOfficial
وزیرستان کا کرومائیٹ کرفیو کے دوران کیسے لوٹ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ پشتون وطن کو دھشتگردی کے نام پر ، سیکیورٹی کے نام پر جرنیل کیسے مل بانٹ کر کھا رہے ہیں۔ ایک جرنیل نے تیراہ کی بھنگ اور لکڑیاں پکڑی ہیں، دوسرے نے وزیرستان کا چلغوزہ اور تیسرے نے وزیرستان کے معدنیات پکڑے ہوئے ہیں۔ خود بیچ رہے ہیں، دنیا بھر کے ارب پتیوں سے انکی کمپنیوں سے ڈیل کر رکھے ہیں۔ اور ھمارے مفتی و امیر سانپ شریعیت کے لولی پاپ پر کھیل رہے ہیں۔!
سڑکوں پر نکلنے والے لوگ صرف اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔
ریاستی طاقت کا بے جا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔
بنیادی ضروریات کی کمی نے بحران پیدا کر دیا ہے۔
#کشمیر_میں_ظلم_بند_کرو
آج یہ بچہ تحصیل شیواہ شمالی وزیرستان میں موجود ایف سی 241 وینگ کے کواڈکاپٹر ڈرون اٹیک میں مارا گیا۔۔
علاقہ مکینوں نے اس حوالے سے کرنل سے ملاقات کی تو کرنل نے یہ کہتے ہوئے اس بچے کی شہادت پر معذرت کی کہ ہمیں اطلاع تھی کہ یہاں آس پاس خوارج موجود ہیں، اس لئے ہم نے ڈرون اٹیک کیا
نوٹ: اس حملے میں اس معصوم بچے کے علاوہ کسی خوارج کو خروش تک نہیں آئی ہے
@OfficialDGISPR
شمالی وزیرستان میں ہفتے میں دو دن کرفیو نافذ کرکے درجنوں ہیوی ٹرالیاں میں قیمتی معدنیات فوج اور پنجابی چوہدری لوٹ رہے ہیں۔
محمد خیل کاپر پراجیکٹ 6 ٹریلین ڈالرز کے معدنی ذخائر کی سائٹ ہے جو پاکستان میں دوسرے نمبر پر بڑا پراجیکٹ ہے۔ صرف 2023 میں 35 ملین ڈالرز کی کرومائٹ، سونا وغیرہ چین کو فروخت کی گئی۔
وزیرستان اور دیگر پشتون علاقوں میں بدامنی اس معدنیات کی لوٹ مار کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اس کے بدلے میں پشتونوں کو مسنگ پرسنز، ٹارگٹ کلنگ، کواڈکاپٹر، لینڈ مائنز، بمباری اور کرسی کے لالچ میں دوغلی پن کرنے والی سیاسی پارٹیوں کے نمائندے مل چکے ہیں۔
استعمار پشتونخوا کے معدنیات و وسائل ہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ اب ہزارہ ڈویژن کے دو اضلاع ہری پور اور ایبٹ آباد کو پنجاب میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
پنجابی استعمار بہت مکار ہے پہلے اشارہ دیا کہ یہ علاقے اسلام آباد میں شامل ہوں گے۔
اگر پشتون عوام اس طرح منتشر رہے تو یہ صرف علاقہ نہیں بلکہ پورا پشتونخوا پنجاب میں شامل کر سکتا ہے کیونکہ پنجابی استعمار منظم ہے اور ایک منظم ریاست رکھتا ہے۔ پشتون لیڈران یہاں کونسلر کی سیٹ جیتنے کے چکر میں ہیں۔
جس طرح پنجاب نے مائنز اینڈ منرلز بل پاس کر دیا اور اٹھارویں ترمیم 2010 سے آج تک جرنیلوں اور پنجاب چوہدریوں نے پاؤں تلے رکھا ہے ان سیاسی پارٹیوں کے سامنے پاس کر دیا اس طرح یہ Land Revenue Cell بل بھی پاس کر سکتے ہیں۔
#StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide
دنیا والو دیکھ لو، تیراہ کے لوگوں کی یہ صرف جنگلات کی کٹائی نہیں، ایک بے گھر قوم کے وسائل کی لوٹ مار ہے۔ ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر اپنے گھروں اور زمینوں سے نکالا گیا، اور اب ہماری غیر موجودگی میں ہماری زمین کے درخت تک گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جائے جا رہے ہیں۔
ہم سے گھر چھینے، زمین چھینی، روزگار چھینا—اب ہماری زمین کے جنگلات بھی نہیں چھوڑے جا رہے۔ اگر یہ جنگ ہمارے تحفظ کے لیے تھی تو پھر ہماری بربادی اور ہمارے وسائل کی یہ لوٹ مار کس کے لیے ہے؟
تیراہ کے سرسبز جنگلات کی کھلی لوٹ مار زور و شور سے جاری ہے۔
دن کی روشنی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے، جبکہ رات کی تاریکی میں لکڑی چوری چھپے علاقے سے باہر نکالی جاتی ہے۔
آخر یہ جنگلات کس کے حکم پر اور کس کے فائدے کے لیے تباہ کیے جا رہے ہیں؟
تیراہ کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے نام پر اپنے ہی گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا یہ بے دخلی صرف امن کے لیے تھی، یا تیراہ کے وسائل، جنگلات اور معدنیات پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے؟
تیراہ کی زمین کوئی مفت کا مال نہیں۔ یہاں کے وسائل پر پہلا حق تیراہ کے عوام کا ہے۔
جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار فوری طور پر بند کی جائے،
ورنہ عوام یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ اس تباہی کے پیچھے کون ہے اور کس کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے؟
#Forest #StopcuttingForest #StopStateTerrorism
خیبرپختونخوا میں ایک طرف عوام کے لیے کرفیو اور ناکہ بندی ہے، حتیٰ کہ مریضوں کو بھی ہسپتال لے جانا ممنوع ہے۔ دوسری طرف فوج خیبرپختونخوا کے عوام کی ملکیت معدنی وسائل کو طاقت اور بندوق کے زور پر پنجاب لے جا رہی ہے۔
ایک وقت سویا ہوا پختون بھی جاگ جائے گا اور اپنے حق کا حساب مانگے گا
روزانہ 100 ٹن سونے اور تانبےکا پیسہ کہاں جا رہاھے
ابھی بھی پاکستان مقروض کیوں ہے؟
سیندک بلوچستان سونا اگلتی کان کےاندرونی مناظر
ہر دن لگ بھگ 100 ٹن مائننگ ہوتی ہے جس میں خالص سونے اور تانبے کی بہت بڑی مقدار نکلتی ہے
یہ دنیا کی تیسری بڑی کان سمجھیں جاتی ہے
جو ریکوڈک کے علاؤہ ہے
یہ وہ ٹرک ہے جو شمالی وزیرستان کے وسائل سے بھرے ہوئے تھے، اب بنوں پہنچا دیے گئے ہیں اور وہاں سے انہیں پنجاب منتقل کیا جائے گا۔
یہ صرف وسائل کی منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری سرزمین کی دولت کو منظم طریقے سے نکالنا ہے۔
ہمیں اپنی ہی سرزمین پر اپنے وسائل سے محروم رکھا جاتا ہے، اور پھر اپنی ضروریات کے لیے ہمیں محتاج بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟
اگر وسائل ہمارے ہیں تو اس کا فائدہ بھی ہمارے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔
ہم اب یہ حالت مزید برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے اور اس ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
یہ ویڈیو 8 اگست 2026 کی ہے
آپ کے لاکھ اختلافات سہی،مگر ایک دن سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ 'بارڈر پر کھڑے لوگوں کا بینک بیلنس چیک کرو تاکہ سچ سامنے آ سکے۔یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہےکہ ہمارے سرحدی جوان رشوت خوری میں پڑ گئے ہیں اور بغیر رشوت کے گاڑیاں نہیں چھوڑتے۔یہ ہمارےجوانوں کو کس راہ پر لگا دیا گیا ہے؟
کراچی پولیس کا مکروہ چہرہ ملاحظہ کیجئے ۔۔۔
یہ رویہ کسی مہذب شہر کی پولیس کا قطعی طور پر نہیں ہوسکتا ۔ اس انداز سے کسی شہری کو گھسیٹ کر لے جانا ، لاتوں ڈنڈوں سے بے رحمانہ تشدد ، ایسا لگتا ہے کسی سنگین نوعیت کے مجرم کو لے جایا جارہا ہو ۔ آئی جی صاحب ، ایڈیشنل آئی جی صاحب ۔۔ ایسے درندہ صفت کالی بھیڑوں اور جاہلوں کو فی الفور نکیل ڈالنی چاہئے ۔
بعد ازاں یہ بےشرم اور بے رحم ایس ایچ اس درندگی کے دوران زخمی بھی ہوکر میڈیکل کرواگئے ۔
قبر بھی جانا ہے یا ہمیشہ دلالی کے کھاتوں پر زندہ ہی رہنا ہے ۔ ایس ایچ او صاحب۔۔۔
کل سفر پر تھا پوری صورتحال سے آگاہی نہیں تھی لیکن فوٹیجز دیکھ کر بہت دکھ ہوا ۔
سمیع سواتی
ملتان: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی ممتاز سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات
دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا
مولانا فضل الرحمن نے جاوید ہاشمی کی سیاسی استقامت پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور ریاستی اداروں کی جانب سے زیادتیوں اور مظالم کی مذمت کی
جاوید ہاشمی کی سیاسی استقامت آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے
اس موقع پر صوبائی قائم مقام امیر جے یو آئی مولانا صفی اللہ، مولانا جمال عبدالناصر، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، ضلعی امیر مفتی عامر محمود، طارق خان بلوچ بھی ہمراہ تھے۔