دہشتگردوں کے خلاف استعمال ہونے والی بکتربند گاڑیاں اب پی ٹی آئی کے ورکرز پر استعمال ہوں گی۔
عوام جانتی ہے یہ دہشتگردی کون سے مقاصد کے لئے پھیلائی گئی ۔ دہشتگردی بہانا رئیر منرلز نشانہ !
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
Imran Khan’s three sisters continue to be held incommunicado, 21 days after being taken from their homes in Lahore. Neither their lawyers nor family members are being allowed to meet them or obtain any information about their condition. The jail administration has also refused to provide them with their medicines and clothing.
#AsimLaw #PakistanUnderFascism
مزاحمت زندہ باد: خیبرپختونخوا میں آئین و قانون کو روندتے گورنر راج کے کالے نفاذ کے خلاف سیدھی گولیوں کے سامنے خیبرپختونخوا کے عوام ڈٹے ہوئے ہیں۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
”کبھی مایوس نہیں ہونا، مایوسی گُناہ ہے، اُونچ نیچ اللّٰہ کیطرف سے آتی ہے۔ اللّٰہ کو مُشکل وقت میں صبر پسند ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ انشاءاللّٰہ ہم اِس مُشکل وقت سے نکلیں گے اور عظیم قوم بنیں گے۔“
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
وفاق کی منافقت کھل کر سامنے آگئی ، عوام یاد رکھے ان کا مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں تھا پی ٹی آئی کی منتخب حکومت گرانا تھا ۔ دہشتگردی کے خلاف پولیس کو کو سامان چاہئے تھا جس کی پیمنٹ مہینوں پہلے ہوچکی تھی وزیراعلی سہیل آفریدی نے بار بار ریکوئسٹ کی کہ ہماری پیمنٹ ہوچکی ہمیں سامان فراہم کیا جائے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج گورنر راج لگے ابھی 24 گھنٹے نہیں ہوئے تھے کہ وہ سامان خیبرپختونخوا پہنچا دیا گیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں بلکہ تحریک انصاف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل تھا۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
جب رات سب سے زیادہ اندھیری ہو جاتی ہے تو سمجھ لو کہ صبح ہونے والی ہے۔۔!!
عاصم منیر جیسے آمر تاریخ میں بہت آئے، جنہوں نے اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں عوام کو دبانے کی کوشش کی، مگر ہر بار ایک ہی حقیقت سامنے آئی: تخت و تاج ہمیشہ نہیں رہتے، اور ظلم کی عمر عوام کے حوصلے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
اقتدار کے نشے میں ڈوبے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ بادشاہوں کے فرمان سے نہیں، عوام کی مزاحمت سے لکھی جاتی ہے۔
یاد رکھو! وقت کا فرعون خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے، مگر تاریخ اسے صرف عبرت کے لیے یاد رکھتی ہے۔۔۔!!
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
خیبرپختونخوا کو بلوچستان بنانے کا عملی مظاہرہ، اپنی طاقت کے نشے میں مست قابض ٹولے کو پاکستان کی فکر ہے نہ عوام کی اس وقت جو کچھ خیبرپختونخوا میں ہورہا وہ کسی صورت پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ذاتی مفاد کے لیے انہوں نے قومی مفادات کی بھینٹ چڑھا دی ہے۔ #گورنر_راج_نامنظور
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
“میں اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں،لیکن میں کسی صورت نہ ان چوروں کو مانوں گا نہ امریکہ کے غلاموں کو مانوں گا، عمران احمد خان نیازی”
#نکلو_پشاور_کی_طرف#ہر_قدم_انقلاب_کی_طرف
یہاں سے واپسی، نسلوں کی غلامی قبول کرنے کے مترادف ہو گی۔ ڈٹ جاؤ پاکستانیو! اپنے لیڈر کی طرح اور اپنے بچوں کی زندگی کی خاطر، اپنے لیڈر کی قربانیوں کی خاطر۔
#نکلو_پشاور_کی_طرف#گورنر_راج_نامنظور