میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
عورت حیا کر گئی ہے۔ نہیں تو آواز اٹھاتی تو یہ معافی بھی مانگتا اور ڈیلیٹ تو اس کا باپ بھی کرتا۔
ایسے لوگوں کے ہاتھ میں موبائل کسی عذاب سے کم نہیں..! بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ چاچا لعنت قبول فرمائیں 🖐🏿🖐🏿