صدیق جان ، اسد اللہ خان ، رضوان غلزئی نے سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر کوئی پوسٹ نہیں کی حالانکہ تینوں اسلام آباد ہوتے ہیں۔ آزاد چینل کے دو چار ملازمین نے اظہار افسوس کیا ہے۔ دو تین مزید صحافیوں نے بغیر واقعے کی نشاندہی کیے بس ہوا میں دو تیر چلا دیے ہیں۔ حامد میر والی کیٹگری ایک ہی سانس میں افسوس کا مطالبہ اور کاروائی کی امید والی مثبت رپورٹنگ کررہے ہیں۔
یہ لوگ مجبور ہیں ۔ انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن جب یہ کوئی خبر چلا رہے ہوں اور ہم کہیں کہ یہ فوج خبر کی مرضی سے چل رہی ہے درست یا غلط بعد کی بات ہے تو انہیں غصہ نہیں کرنا چاہیے۔
تین سال سے میرے دو بیٹوں کے والد اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین نے شدید سزا دی ہے،
جو آرمی چیف عاصم منیر کی ذاتی انتقام کی مہم ہے، جسے اقوام متحدہ نے تشدد قرار دیا ہے اور جو اب ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر مہلک اثر ڈال رہی ہے۔
جمائمہ خان کا ٹویٹ
"میرا یار زندہ ' صحبت باقی" (تحریک انصاف کے مایوس سپورٹرز کو یہ کالم پورا پڑھنا چاہیے )
کل کے ہسپتال ٹرانسفر ساگا میں مجھے کچھ ایسا نہی نظر آتا جس سے تحریک انصاف کے لوگوں کا مایوس ہونا چاہیے- میں اپنی بات کی وضاحت کر دیتا ہوں :
کل کے حکومتی ڈرامے کے دوران عمران خان کی ایک بہن کی ان سے ملاقات اور آج ان کی پریس کانفرنس سے جو میرے لئے سب سے تسلی بخش بات ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان حیات ہیں - ان کی صحت الحمد الله ٹھیک ہے - سیاست اور حکومت گئی تیل لینے ' میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان جن کو نو ماہ سے کسی نے دیکھا بھی نہی تھا ؛ وہ جسمانی طور پر ویسے نہی تھے جیسے بہت سے یوٹیوبرز ان کو بنا کر پیش کر رہے تھے -
میرا یار زندہ ' صحبت باقی -
اب آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف - بلاشبہ یہ ٹوپی ڈرامہ کرکے حکومت نے ووہی کیا جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی - میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کا گریس ' ظرف اور آئین کی پاسداری سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا
جواد احمد کا شائستگی سے ،
خواجہ آصف کا امور وزارت دفاع سے—
چاہت فتح علی کا سروں اور ساز سے --
ہماری عدالتوں کا انصاف سے—
اور ہماری اسٹبلشمنٹ اور فوج کا اپنے حلف سے ہے-
کل بھی انہوں نے ووہی کیا جیسے کسی محلے کے کن ٹٹے ' نومی ' پومی ' شادا' مادہ یا اچھو ' کرتے ہیں - یعنی جھوٹ ' دھوکہ ' فریب ' اور وہ بھی محض سپریم کورٹ نہیں بلکہ سو سے زیادہ لوکل چینلز ' انٹرنیشنل میڈیا' شفا کے ڈاکٹروں سمیت پچیس کروڑ اس عوام کے ساتھ جو بیچاری وہاں راستوں میں پھول بچھا رہی تھی یا بیرون ملک سے میری طرح پھول بھجوا رہی تھی - لیکن اس معصومیت اور سادگی پر پاکستان کے عوام کو اپنے آپ کو بالکل بھی بدھو اور "naive" نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ جو بھی ہوجاے سادگی اور معصومیت کبھی بدمعاشی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی -
اس سارے ڈرامے میں مجھے جو روشنی کی پہلو نظرآتے ہیں وہ یہ ہیں :
1 . سب سے بڑھ کر خان حیات ہے - الحمد لللہ - جسمانی طور پر ابھی بھی اتنا توانا ہے کہ ان کی بینڈ بجا سکتا ہے -
2 . شفا شپتال کی جگہ پمز بھیجنے کی یہ بچگانہ حرکت کرکے اور ڈاکٹر فیصل کو شفا بھیج کر خان کو چیک کرنے والے ڈاکٹروں میں ان کو نہ شامل کرکے حکومت نے کھلم کھلا سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کرکے کم سے کم اپنے خلاف "توہین عدالت " فائل کرنے کا فورم ضرور مہیا کردیا ہے -
3 . ایک ہی رات میں عمران خان کی جیل واپسی نے غریده فاروقی جیسے بہت سے ان "دانش وڑوں" کے اس بیانیے کو بھی دفن کردیا ہے کہ عمران خان کسی "ڈھیل یا ڈیل" کے چکر میں ہیں - ساتھ میں رائٹرز (Reuters ) کو دیے گیے زلفی بخاری کے بیان کو بھی کلئیر کردیا ہے جس کو توڑ مروڑ کر حکومتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ "خان اب باہر آئیگا تو آرمی چیف پر تنقید نہی کریگا " یعنی یہ سب کسی ڈیل کا نتیجہ ہے -
4. پاکستان کے عوام کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑا کر اس حکومت نے اپنے خلاف اس نفرت کو مزید تڑکا لگادیا ہے جو پہلے ہی بام عروج پر تھی - لوگوں کو اس بات کا اور بھی یقین ہوگیا ہے کہ یہ صبح جھوٹ بولتے ہیں ' دوپہر میں کوڑ بکتے ہیں اور شام کو بھی بکواس ہی کرتے ہیں - ان میں نہ اخلاق ہے نہ احساس اور نہ آئین کی پاسداری - مجھے لگتا ہے یہ غصہ اگلے مہینے ہونے والے ستمبر 27 کے احتجاج کو نئی زندگی دیگا -
5 . اس حرکت کے بعد لوکل اور انٹرنیشنل میڈیا میں مسلم لیگ کے اس موقف کے بھی پرخچے اڑ گیے ہیں کہ ہم صحت پر سیاست نہی کرتے - ہر جگہ ایک ہی سوال ہے کہ جب بقول خود ان کے تحریک انصاف حکومت کی سفارش پر نواز شریف جیل سے لندن علاج کیلئے گیے تھے ' تو اپنی دفعہ جب یہ عمران خان کو جیل سے باہر لے ہی آیے تھے تو ایسا کیا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال کی جگہ سرکاری ہسپتال لے کر گیے - ایسا کیا ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں اور ایسا کیا ہے جس کی انویسٹیگیشن سے ان کو ڈر لگتا ہے کہ اس کو چھپانے کیلئے عدالت سے بھی متھا لگالیا اور عوام سے بھی کھلے کھاے-
6 - اس دھوکے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اتحاد بننے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے اور یہ ایک مہینے بعد ہونے والے احتجاج کیلئے مثبت ثابت ہوگا -
یہ سب پوائنٹس تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں - عمران خان شفا ہسپتال میں آ بھی جاتے وہاں بھی کچھ دن بعد وہ خود واپس جانے کی طرف مائل ہوتے کہ وہاں ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ کبھی بھی ان کو یوں اکیلا نہ چھوڑتے - ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایک ہفتے میں ان کا کارڈیک ورک اپ ضرور ہوجاتا جو اب نہیں ہوا - پر یہ بھی ایک نکتہ ہے جو عدالتوں کے سامنے اور اگلے ماہ سڑکوں پر اٹھایا جاسکتا ہے -
سو میں مطمئن ہوں کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جس سے عمران خان یا تحریک انصاف کو نقصان ہوا ہو - ہاں البتہ اس نظام کے "نومی ' اچھو ' اور ان کے پیچھے بیٹھے شادے اور گامے " اور بھی ننگے ہوگیے ہیں جو ایسا موقع ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنے منہ پر کالک مل سکیں اور پھر اتنی کالک ملتے ہیں اتنا گوبر لیپتے ہیں کہ بدبو کے بھبھوکے آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے دلیل دے کر کہتے ہیں کہ گوبر میں نیچرل توانائی ہوتی ہے اسی لیے تو اس سے ایندھن جلتا ہے -
مایوس نہ ہوں اور عمران خان کا یہ کلپ سنیں جو ان کی مظبوط شخصیت اور فولادی عزم کی ترجمان ہے --
کیوں کہ میرا یار زندہ - صحبت باقی -
قلم کی جسارت وقاص نواز
--------------------------------------------------
@MirMAKOfficial@MoeedNj@ImranRiazKhan@soulful7867@SabeeKazmi786@agentjay2009
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
سہیل آفریدی کبھی کونسلر نہ بنتا ، سلمان اکرم راجہ کینٹ بار کا سیکرٹری جنرل نہ بنتا ، بیرسٹر گوہر یونین کونسل کا چئیرمین نہ بنتا ، محمود اچکزئی کی زندگی کا سب سے بڑا عہدہ عمران خان کے مرہون منت ہے ۔ خدا کے لیے ہمارے اوپر اپنے اوپر رحم کرو۔ کچھ کر نہیں سکتے تو نظام کو کندھے دینا بند کردو۔ گھر چلے جاؤ۔
عمران خان کا ناشتہ بریکنگ نیوز ہے، اسکی جوتی، اسکے کپڑے، اسکا رہن سہن، اس سے متعلقہ ہر چیز اس ملک کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز ہے۔ عمران خان سے بڑا سلیبرٹی اس ملک کی ۸۰ سالہ تاریخ میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔
قید کرنے سے پہلے؛ ہم عمران خان سے معافی منگوائیں گے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں گے
اب ؛ عمران خان بہن صرف یہ ضمانت دے کہ عمران خان کا پیغام باہر آکر نہیں بتائے گی
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
آج ذاتی اختلافات یا تنقید کا نہیں، بلکہ یکجہتی اور یکسوئی کا وقت ہے۔ پارٹی مفاد اور قائد کی رہائی سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔"
پیغام برائے سوشل میڈیا اور تمام کارکنان:
ہر کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے پرخلوص اپیل ہے کہ وہ ذاتی رنجشوں، الزام تراشیوں اور عوامی سطح پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے عمل سے گریز کریں۔
آج وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم انتشار کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف ایک مقصد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھیں:
بانی چیئرمین عمران خان کی فوری رہائی اور ان کی صحت و سلامتی
ملکی سلامتی، وقار اور اجتماعی مفاد کا تحفظ
صفوں میں اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا
جب تحریک ایک کٹھن اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہو، تو باہمی اختلافات کو عوامی سطح پر ہوا دینا صرف مخالفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ہمارے مشترکہ مقصد کو کمزور کرتا ہے۔
آئیے، ذاتی تلخیوں کو ختم کریں، ذمہ داری کا ثبوت دیں، اور ایک مضبوط اور متحد صف کی طرح کھڑے ہوں۔ اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
پاکستان اور تحریکِ انصاف کی بقا اور سلامتی کے لیے متحد ہو جائیں!
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
یار عمران قسم سے دل ہمارا بھی اداس ہے ، تکلیف میں تم بھی بہت ہو لیکن روز سسک سسک کر یہ حرامزادے مرتے ہیں کہ تم جھکنے سے انکاری ہو ، تم کمزور پڑنے سے انکاری ہو۔ تمہاری تکلیف ہماری تکلیف ہے تو تمہاری استقامت بھی تو ہمارا حوصلہ ہے۔ مر جائیں گے یزید کی بیعت نہیں کریں گے۔ کمزور ہیں ، موقع بنا نہیں پارہے ، موقع مل گیا تو سود سمیت حساب برابر کریں گے۔
#ناحق_قید_کے_3سال کے بعد پاکستان میں مزاحمت کا میار ہی تبدیل ہوگیا ہے۔ جو بندہ صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہو اسے اللہ رسوا نہیں کرتا۔ ہم سب کو اپنے لیڈر پر ہمیشہ فخر رہے گا کیونکہ اس نے یزید کی بیت نہیں کی۔ اللہ سے دعا ہے مکمل صحت کے ساتھ جلد رہائی ہو۔
#WorldwideProtestForImranKhan