مریم نواز تو بہت بزدل نکلیں۔ سیاستدان کو تو بڑے حوصلے والا ہونا چاہئے۔ ذرا سے احتجاج اور جلسے کا اعلان ہی ان کو حواس باختہ کر دیتا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے شہر بند کر کے احتجاج کو کامیاب کرا دیتی ہیں۔ عمران خان ٹھیک کہتے ہیں یہ ان کی بارھویں کھلاڑی ہیں۔
راولپنڈی، پی ٹی آئی کا احتجاج کا اعلان، لیاقت باغ کے ارد گرد پولیس نے خوف کی فضا بنا دی، پولیس اہلکاروں نے دکانیں بند کرا دیں، موبائل باہر نکالنے پر بھی پابندی
زرداری کی 2004 میں ضمانت ہوئی اس کے بعد تو یہ دبئی بھاگ گیا تھا اور گیارہ سال پیچھے جائیں تو 1993 ہے
آپ گواہی دے رہے ہیں زرداری کو خود محترمہ بےنظیر نے گرفتار کروایا تھا ؟؟
۔۔
باقی سرے محل کا شوکت خانم اسپتال سے کیا موازنہ
“کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی”
جب ایک ملک کا چیف جسٹس عام دوکان پر جائے
اور
دوکاندار آپ کا نام پوچھ کر آپ کے منہ پر لعنت ڈال دے
تو یہ صرف اس منصف کے لیے ہی نہیں، اسے لانے والوں کے لیے بھی ڈوب مرنے کا مقام ہے
پر
“مرتے وہ ہیں جن میں غیرت ہو”
" عمران خان نے کہا کہ گینگ آف تھری کو ایکسٹینشن دینے کے لئے آئین کو معطل کر کے شیطانی ترامیم لائی جا رہی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ قوم پرامن احتجاج کیلئے باہر نکلے اور ہفتے کو راولپنڈی پہنچے، NOC ہمیں اگر نہیں ملا تو پھر ہم لیاقت باغ میں ہی احتجاج کریں گے، یہ ہمارا آئینی حق ہے، اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا" علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#چلو_چلو_راولپنڈی_چلو
#عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ
کچھ لوگوں کے نزدیک تحریک انصاف کی جماعت ایسے ہی ہے جیسے کسی سٹاک میں انویسٹ کرنا، یا کسی پلاٹ کی فائل اس امید پر خریدنا کہ کچھ عرصے بعد چار گنا منافع ملے گا۔
ان میں سے وہ لوگ جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے، وہ سڑکوں پر نکل کر اپنی اہمیت جتاتے ہیں، اپنے آپ کو جلسے جلوسوں میں نمایاں کرنے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں تاکہ جب بھی پارٹی اقتدار میں آئے، وہ کوئی عہدہ سمیٹ سکیں۔
ان کے برعکس وہ لوگ جو تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہیں، ٹیکنالوجی سے واقف ہیں، تھوڑا بہت لکھ بول سکتے ہیں یا کاپی پیسٹ کرسکتے ہیں، وہ تحریک انصاف کا لبادہ اوڑھ کر سوشل میڈیا پر اپنے کانٹینٹ بیچنا شروع کردیتے ہیں، کیونکہ اس وقت صرف عمران خان کا نام ہی بک رہا ہے۔
مخصوص نشستیں ہوں یا انتخابی ٹکٹ، یہ دونوں طبقات مکھیوں کے طرح لیڈرشپ کے اردگرد بھنبھنانے لگتے ہیں۔ اتنا رش ڈال دیتے ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چہرہ دکھائی ہی نہیں دیتا۔
باقی بچنے والی اکثریت سائلنٹ سپرٹرز ہیں جو بے چارے سوشل میڈیا پر ہر وقت انصافیوں کے اکاؤنٹس سے جڑے رہتے ہیں، ان کی پوسٹس پڑھ کر امید اور حوصلہ پکڑتے ہیں، انہیں لائک، کمنٹس اور شئیر دیتے ہیں۔ جب جلسے کا اعلان ہو تو خاموشی سے جھنڈا اٹھائے اپنے خرچے پر جلسہ گاہ پہنچ جاتے ہیں۔ جب الیکشن ہوں تو صبح سویرے لائن میں لگ کر عمران خان کو ووٹ ڈال آتے ہیں۔
یہ لوگ کبھی اپنا ذاتی مفاد نہیں دیکھتے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے لائکس اور کمنٹس سے دوسرے لوگ کتنے ڈالرز کماتے ہیں، انہیں اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ کل جو عمران خان کو گالیاں دیا کرتا تھا، آج وہ پارٹی کا ماما کیسے بن گیا۔ ان لوگوں کی نظر عمران خان پر رہتی ہے، اسی سے سب امیدیں وابستہ کئے رکھتے ہیں۔
یہ لوگ ہی اصل انصافی ہیں۔ انہی لوگوں کے سر پر تحریک انصاف کھڑی ہے۔ انہی لوگوں سے عمران خان کو امید ہے، انہیں لوگوں نے ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔
یہ لوگ اصلی اور نسلی پاکستانی ہیں۔ ان کی عزت اور احترام ہم سب پر واجب ہونا چاہیئے۔ ہر وہ اکاؤنٹ جس کے فالؤرز گنتی کے چند لوگ ہوتے ہیں لیکن وہ میری گھٹیا سے گھٹیا پوسٹ کو بھی لائک کردیتا ہے کہ اس سے عمران خان کے مشن کو فائدہ پہنچے گا۔ میرے نزدیک ہر ایسا شخص قابل احترام ہے، اس کے آگے مجھے اپنے کندھے بھی جھکانے پڑیں تو کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی!!!
سلمان اکرم راجہ نے رانا ثنا اللہ کو خاموش کروا دیا۔۔۔
یہ لوگ جانتے ہیں آٹھ فروری کو عوام نے کس کو کتنے ووٹ ڈالے یہ لوگ آنکھیں نہیں ملاتے شرمندہ بیٹھتے ہیں گلی سے گزر جاتے ہیں حلقوں میں نہیں جاتے اب یہ اس شرم کو دبانا چاہتے ہیں
سنا ھے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ اردو میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ وہ بھی اچھے سے سمجھ لیں، جو ایک تو پڑھتے لکھے نہیں، اوپر سے پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔۔
"شیخ امتیاز کل کے دن کے ہیرو کیوں ہیں؟ میں بعد میں بتاؤں گا، لیکن یہ کہانی صبح 5 بجے سے شروع ہوتی ہے۔ انتظامیہ کی ایک معمولی غلطی نے جلسے کے انتظامات کروا دیے۔
انہیں گرفتار کرنے کی پانچ بار کوشش کی گئی، آخری بار شام 5 بجے، جس سے وہ بال بال بچ گئے۔