“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
اگلی خبر ایہہ وے عمران خان دا تختہ ہون لگا ہے اس لئی پاکستانی تیاری پھڑو تے کسی غریبان دی موٹر سائیکل تے کاراں نا ساڑناں توانوں سب نو پتا دشمن دے ٹھکانیاں دا۔
“I appeal to the people of Pakistan to take part, with their customary zeal, in the ongoing rescue and relief efforts amidst the tragic floods engulfing the country. Pakistan Tehreek-e-Insaf will also play its role for the flood-affected without any discrimination.
I have always endeavored to raise awareness regarding climate change and the devastation it brings. Earlier, we launched the “Billion Tree Project” in Khyber Pakhtunkhwa, and upon coming into the federal government, initiated the “Ten Billion Tree Project.” Alongside this, we began work on several vital environmental protection initiatives, including small, medium, and large-scale dams as well as national parks, which have helped mitigate ecological destruction. Trees are the true guardians of the environment. Rapid progress on such projects must be made a national priority.
My heart is deeply grieved by the loss of lives and devastation caused by the earthquake in Afghanistan. We stand firmly with our Afghan brothers in this hour of trial. I also express profound concern and sorrow over the forced expulsion of Afghans from Pakistan.
Drone strikes and military operations against our own people in Khyber Pakhtunkhwa must come to an immediate halt. Chief Minister Ali Amin Gandapur and the provincial government must vigorously resist such actions. Those regions are already reeling under the destruction of floods; in such circumstances, launching operations, drone attacks, or displacements is akin to rubbing salt into fresh wounds.
In light of my directions, the decision of Pakistan Tehreek-e-Insaf to boycott the by-elections is commendable. The candidates who have withdrawn their nomination papers also deserve appreciation, as do the members who have resigned from the parliamentary committees. I further instruct them that if they have any vehicles or privileges still in use, they must return them immediately. The final date of the Peshawar rally shall be decided in consultation during September, keeping in view the flood situation.
For three years, despite enduring oppression and coercion, and despite being on the side of truth, I called for dialogue in the national interest. Yet, political vengeance was taken to its extreme against me and my family. Our people were fired upon with live bullets, and even our Opposition Leader in the Parliament was disqualified. No space for dialogue remains after such actions.
They may imprison me or whomever they wish from my family but neither shall I retreat from my stance, nor will I bow before them.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation in Adiala Jail - September 2, 2025
میرے تمام پشتون بھائیو۔۔
یہ فیصلہ عمران خان کا فیصلہ نہی ہے یہ فوجی فیصلہ ہے اور یہ تحریک انصاف فوج کی منشا پہ آپ کا خون اور ووٹ بیچ کر آپ کو عمران خان سے بدظن کرنا چاھتی ہے۔
اس لئے اپنا دفاع خود کرو ان کا بھروسہ نہی کرو۔
عمران خان باہر آیا اگر تو سہی ورنہ ان کو بھی سیدھا کرو۔
جب عمران خان کی واضح ہدایات موجود ہوں تو وہی پالیسی ہے اس پر عملدرآمد سب پر لازم ہے۔ عمران خان کے ہدایات کی موجودگی میں کسی کے بیان کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور جب خان کی ہدایات سے روگردانی ہوسکتی ہے تو میری کیا حیثیت؟
صوبائی قیادت سے لے کر مرکزی قیادت تک، جب جب، جس کو جو ذمہ داری سونپی گئی، وہ جس بھی گروپ کا حصہ تصور ہوتا تھا، ہر ایک کو مکمل خلوص اور دیانتداری سے سپورٹ کیا۔ منزلز بل، بجٹ سے لے کر، احتجاجی تحریک تک ہر موضوع، لیڈر، بی بی اور دیگر اسیران کے لیے آواز اٹھانے، پارٹی، حکومت سمیت ہر متعلقہ مسئلے پر اپنی رائے، لائحہ عمل، احتجاجی تحریک کے لیے پوائنٹ ٹو پوائنٹ پلان اور اپنی ہر طرح سے سپورٹ کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ہر ایک کے پاس اپنے فیصلوں کی توجیحات ہیں۔ آپ کریں سوال ان سے، آپ کا حق بنتا ہے۔ میری بسات میں جو ہے، جتنا ہے، جتنا تھا اس کی تفصیل بارہا بیان کرچکا ہوں۔
اور جن کی یہ سوچ ہے کہ میں کسی گھناؤنی امید پہ چھپا بیٹھا ہوں؛ ٹاؤٹ صحافیوں کے بیانات گواہی ہیں کہ ان کے مالکوں کو کیا درکار ہے؛ میرے کاندھے پہ بوجھ صرف میرے سر کا نہیں ہے۔