" In these dark days of unprecedented oppression and tyranny, the massive turnout of the Pakistani nation in response to the August 5th call for protest is not only admirable, it is a powerful sign that a new dawn is beginning to break through the long-standing darkness of injustice that has engulfed our country. The way people took to the streets, despite extreme fascism, to assert their constitutional rights is highly commendable.
I extend special appreciation to the people of Punjab, who broke through the shackles of fear despite raids and arrests. The citizens of Sindh, Balochistan, Gilgit-Baltistan, Azad Kashmir, Punjab, and Khyber Pakhtunkhwa, who participated in the nationwide protests on August 5th in such large numbers, deserve admiration. A nationwide protest of such magnitude, despite immense pressure on the leadership, is a remarkable display of public awareness and awakening.
Never before in Pakistan’s history has any dictatorship, even under martial law, perpetrated such levels of cruelty as are being carried out today by Asim Munir under his ‘Asim Law’. This can only be compared to the era of Yahya Khan, when brutal fascism was unleashed upon Mujibur Rahman's party and the public, crushing democratic will and, ultimately, splitting the country in two, all for the sake of holding on to power. What is happening in the country today painfully echoes the Fall of Dhaka. Then too, democracy was strangled, rule of law eliminated, freedom of media and the right to protest denied, and the law of the jungle imposed. Deliverance from this system of oppression is only possible if the nation stands united.
The next significant milestone in our movement is the 14th of August: the day our forefathers, after immense sacrifices, secured independence from British colonial rule. Yet, the nation continues to be deprived of true freedom. Without the restoration of the Constitution and the rule of law, independence will remain an illusion. On August 14th, the entire nation must once again rise against the fascism gripping our beloved country.
We must liberate ourselves from this mafia. And true liberation is only possible when a nation is willing to make sacrifices. I am enduring the most inhumane conditions in prison for the sake of my people. Even fellow prisoners here acknowledge that no ordinary inmate is subjected to the kind of treatment that I am being subjected to. In their futile attempt to break me, my wife Bushra Bibi is also being held in deplorable conditions. Yet, I remain steadfast in my commitment to the supremacy of the Constitution and the restoration of democracy. Achieving genuine freedom will require collective sacrifice from all of us.
I will never bow down before this ‘Dacoits and Duffers Alliance’, nor will I ever accept ‘Asim Law’. Even if I must spend the rest of my life in prison, I am ready.
Remember: no force in the world can defeat a brave nation. I urge all Pakistanis to cast aside the fear of imprisonment. A special message to the leadership of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI): abandon your fear of jail and rise to lead the people, answering the call of democracy.
The military operation in Khyber Pakhtunkhwa is being conducted solely to weaken PTI. A similar operation was launched during the ANP's tenure, and by adopting Musharraf-era failed policies, ANP was eventually wiped out from Khyber Pakhtunkhwa. I have always maintained that military operations are never a solution, they only breed more terrorism, hatred, and destruction. A new operation must not be conducted in the tribal areas. The problems of that region can only be resolved through dialogue with local leaders and elected representatives. The merciless expulsion of Afghan refugees, merely in anticipation of a reaction from Afghanistan that never came, is deeply regrettable. 1/2
”ظلم و جبر کے بدترین دور میں 5 اگست کی کال پر پاکستانی قوم کا بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کروانا ناصرف قابل تعریف ہے بلکہ ملک پر چھائی ظلم کی اندھیری رات میں طلوع سحر کی نوید ہے۔ عوام نے جیسے تمام تر فسطائیت کے باوجود کل سڑکوں پر نکل کر اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا وہ قابل تحسین ہے۔
میں بالخصوص پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چھاپوں اور گ��فتاریوں کے باوجود خوف کے سب بتوں کو توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی عوام جس تعداد میں 5 اگست کو ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ لیڈر شپ پر پریشر کے باوجود بھرپور ملک گیر احتجاج عوامی شعور و ��یداری کا شاندار مظہر ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ڈکٹیٹر کے مارشل لأ دور میں اس قدر ظلم نہیں ہوا جتنا “عاصم لأ” میں عاصم منیر کر رہا ہے۔ موجودہ دور کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے جب عوامی رائے کو روندنے کی غرض سے مجیب الرحمٰن کی پارٹی اور عوام پر فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے اور محض اپنے اقتدار کے لیے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر قانون کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی آزادی اور احتجاج کا حق چھین لیا گیا تھا اور ملک میں صرف جنگل کا قانون نا��ذ تھا۔ اس جبر کے نظام سے نجات صرف تب ممکن ہے جب یہ قوم یکجا ہو کر کھڑی ہو گی۔
ہماری تحریک کا اگلا اہم دن 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دے کر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن قوم آج تک “حقیقی آزادی” سے محروم ہے۔ اس ملک میں جب تک آئین و قانون کی بحالی نہیں ہو گی آزادی نہیں ملے گی۔ 14 اگست کو وطن عزیز میں جاری فسطائیت کے خلاف پوری قوم ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں نکلے۔
ہمیں اس مافیا سے آزادی لینا ہو گی۔ اور آزادی لینا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم قربانی دینے کو تیار ہوتی ہے۔ میں خود اپنی قوم کی خاطر جیل میں بدترین حالات کاٹ رہا ہوں۔ یہاں موجود قیدی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا سلوک تو کسی عام قیدی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مجھے توڑنے کی ناکام کوشش میں میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، مگر میں پھر بھی آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قربانی دینا ہو گی۔
میں اس “ڈاکو، ڈفر الائنس” کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا اور عاصم لاء کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے ساری زندگی بھی جیل میں رہنا پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں!!
یاد رکھیں کہ بہادر قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تمام پاکستانی جیل جانے کا خوف اپنے دل سے نکال دیں۔ میرا تحریک انصاف کے ذمہ داران کو بھی خصوصی پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے جیل کا ڈر نکال کر لوگوں کی قیادت کریں، اور جمہور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قیادت فراہم کریں۔
خیبرپختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے-ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔ صرف افغانستان سے ردعمل کی امید میں افغان مہاجرین کو جس بے دردی سے بے دخل کیا گیا، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو اپنے ہی لوگوں پر بندوق اٹھا کر حالات خراب کرنے کی افسوسناک کوشش جاری ہے۔
ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہوں کہ جن ممبران اسمبلی کو نا حق نااہل کیا گیا ہے ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ان لوگوں نے تمام مشکلات کے باوجود تحریک انصاف پر یقین کیا اور پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا لہٰذا یہ سیٹیں انہی کا حق ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب ہو گا کہ ہم ان کے ناجائز عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہمارے لوگوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا-
آئین و قانون کی بحالی ک�� لیے کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، قومی ڈائیلاگ کے آغاز اور اہم قومی مسائل کے حل پر متفقہ تجاویز پیش کرنے پر تمام شرکأ اور آرگنائزز خصوصاً “تحریک تحفظ آئین” کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ، وکلأ اور میڈیا سے گفتگو۔ (۶ اگست، ۲۰۲۵)
یقین کریں سال 2020 اور 2023 کے درمیان صرف آدھی ملین یورو کی سرمایہ کاری سے ہزاروں پاکستانیوں نے یورپی یونین کی شہریت خرید لی بیشک خریداروں میں شامل تھی بیوروکریٹس اور کالے دھن کے مالک ہزاروں دوسرے پاکستانی شہری آج کے On My Radar وی لاگ میں پاکستان کے معروف ٹیکس ماہر اور سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ہمارے ساتھ موجود ہیں، جنہوں نے پرتگال کے گولڈن ویزا اسکیم کے وہ تمام راز کھولے جن کے ذریعے تقریباً 20,000 پاکستانیوں نے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے پرتگال کی شہریت حاصل کی۔ اس اسکیم کے راستےمخصوص سرمایہ کاری کے بدلے یورپی پا��پورٹ مل رہا تھا اوربلیک منی بھی سفید ہو رہی تھی۔یہ on my radar Vlog صرف ایک اسکینڈل نہیں، بلکہ پاکستان کے بکھرتے اعتماد، غیر یقینی معیشت اور سرمایہ دار طبقے کی چالاکیوں کا آئینہ ہے۔مکمل سنسنی خیز وی لاگ اور شبر زیدی کا خصوصی انٹرویو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں! https://t.co/kErJLEMfWh
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail - August 2, 2025
“Every Pakistani must join the movement for genuine freedom against the system of oppression imposed on our country so that we may genuinely achieve freedom as a nation. If we stand united and resist, this system of darkness will inevitably collapse.
The movement that begins on August 5th will continue until democracy is restored in its true spirit. People are no longer afraid. The shackles of fear have been broken. Just as 14th August 1947, marked our freedom from colonial rule, now August 14th has become significant once again as we confront a situation worse than that earlier slavery. Today, all institutions have been crippled and fundamental rights suspended. Just as our forefathers fought the British and secured freedom, we too must rise against this corrupt regime and reject this modern-day slavery.
PPP and PML-N are playing the same puppet role for Asim Munir that PML-Q once played for Musharraf. These parties are not political movements, they are a political front for the establishment. Under this cover, their corruption and looting continue unchecked.
It took 77 years to slowly build a few functional institutions in Pakistan despite repeated martial laws that hindered their progress. But Asim Munir’s martial law has systematically dismantled these institutions just to extend his grip on power. First, the people's mandate was stolen through electoral fraud and criminals were imposed upon the nation, ending democracy. Then the media was silenced under brutal censorship. Now, through the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has been reduced to a subservient department. Judges are handed pre-written verdicts. They themselves admit they have no real authority; they simply sign what they’re given. The judiciary today stands completely paralyzed. Kangaroo courts are operating, ripping the law to shreds. Justice cannot be expected from these courts. They do not follow the Constitution, but ‘Asim Law’. All trials and sentences now follow his script. The proceedings are on record, and sooner or later, the truth will be revealed; which judges stood for justice, and which bowed down to the Yazid of our times.
Through courts in Rawalpindi, Lahore, Sargodha, and Faisalabad, false convictions are being handed out to our party leaders, assembly members, and workers in another failed attempt to derail our movement. I salute the leadership and workers of our party who are being punished simply for standing on the side of the truth.
Sikandar Sultan Raja disqualified our assembly members without even waiting for their appeals to be heard in the High Courts. When history is written, his name will be recorded in the darkest of terms. He played a central role in fraudulently turning a party with 17 seats into a two-thirds majority within a year and a half. The system of this country has been handed over to those who have stolen both the people's vote and their wealth. Those who stood for the Constitution and democracy have been thrown in jail so that no one dares to speak of democracy again.
We will not field any candidates in the by-elections for the seats of our unjustly disqualified members. These individuals stood firm with PTI despite extreme challenges. Therefore, the party will completely boycott these by-elections.
I send a clear message to Ali Amin (Gandapur): Under no circumstances should another military operation be allowed in Khyber Pakhtunkhwa, including the tribal areas. When the military and the people confront each other, the military as an institution suffers the most damage. Military operations are never the solution. Issues must be resolved through dialogue, in accordance with local traditions. Afghanistan is our Muslim neighbor. Relations with them must improve, and all matters should be resolved through discussion.”
تنخواہ آپ کو کبھی امیر نہیں بنا سکتی اگر آپ مالی آزادی چاہتے ہیں تو سمارٹ طریقے سے کمانا سیکھیں، محنت نہیں بلکہ حکمت سے۔ خوش قسمتی سے، 2025 میں ایسی 10 ویب سائٹس موجود ہیں جو آپ کو گھر بیٹھے روزانہ پیسے دیتی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر آپ مختلف آسان کام کر کے، اپنی مہارت یا وقت استعمال کر کے، باقاعدہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں فری لانسنگ، سروے، کانٹینٹ کریشن اور افیلیئٹ مارکیٹنگ جیسی آپشنز شامل ہیں۔ اب وقت ہے کہ آپ سمارٹ کمائی کی طرف قدم بڑھائیں اور روزانہ کی بنیاد پر آمدنی شروع کریں۔
کیا آپ کے پاس کمپیوٹر ہے؟
کیا آپ کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی موجود ہے؟
اور کیا آپ کے پاس روزانہ صرف 20 منٹ کا فارغ وقت ہے؟
اگر ہاں، تو بس اتنا ہی کافی ہے کہ آپ ChatGPT کی مدد سے ماہانہ $6,247 تک کما سکتے ہیں۔
نہ کوئی بڑی سرمایہ کاری، نہ مہنگا کورس، نہ ہی کسی تجربے کی ضرورت صرف سمارٹ ورک اور درست طریقہ۔
ChatGPT کے ذریعے آپ مختلف آن لائن سروسز، ویڈیوز، بلاگز، اور افیلیٹ مارکیٹنگ جیسے طریقوں سے باقاعدہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ آپ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھائیں!
یہ اُن کی لاشیں ہیں جو غذا کے لئیے قطار میں کھڑے تھے اور اسرائیلی فوج نے گولیاں چلا دیں۔
ہم تو بے بس ہیں سواۓ لعنت کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں مگر اللہ اُن تمام حُکمرانوں کے بچوں کو بھی یہ دن دکھاۓ جو سب کچھ کرسکتے تھے مگر کچھ نہیں کیا۔ آمی��۔
کچھ لوگوں کے پاس ریموٹ کام کرنے کی مہارتیں نہیں ہوتیں،
لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
آج کے دور میں سیکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے، اور آپ بغیر کسی مہنگے کورس یا ڈگری کے صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہنر حاصل کر سکتے ہیں۔
یہاں ہم آپ کے ساتھ 7 ایسی ویب سائٹس شیئر کر رہے ہیں جو آپ کو وہ مہارتیں سکھاتی ہیں جن سے آپ ہر ماہ $100 سے $1000 تک کما سکتے ہیں۔
یہ مواقع سادہ، لچکدار اور گھر بیٹھے سیکھنے کے لیے بہترین ہیں۔
نیچے دی گئی فہرست پر ایک نظر ڈالیں
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف ا��ر صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطالعہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی ��سلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔
ہر کوئی آن لائن پیسے کمانے کی بات کرتا ہے، مگر بہت کم لوگ حقیقت میں طریقہ بتاتے ہیں۔
یہاں میں آپ کو وہی طریقہ دکھا رہا ہوں جس سے میں ہر مہینے $6,247 کما رہا ہوں صرف چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کر کے۔
کوئی پیچیدہ مہارت نہیں، کوئی بڑی ٹیم نہیں۔
بس سادہ پرامپٹس، سمارٹ طریقہ کار، اور تھوڑی سی مستقل مزاجی۔
اگر آپ واقعی آن لائن آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے طریقے پر عمل کریں سب کچھ سادہ اور واضح ہے۔
نو مئی کا بیانیہ تھا کیا اور برہان معظم ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے کیسے اس سارے بیانیہ کو جھوٹ ثابت کردیا؟
یہ تھریڈ اس پر ہے،
اگلے تھریڈ میں میاں علی اشفاق اور پرویز اقبال ملک ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا کی کمال جرح پر لکھوں گا
پوائنٹ نمبر 1،
نو مئی کا بیانیہ کیا تھا؟
نو مئی کا پورا بیانیہ یہ تھا کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کو ہدایات دیں کہ اگر مجھے گرفتار کیا جائے تو آپ نے فوج کی تنصیبات پر حملے کرنے ہیں،اور پھر جیسے ہی عمران خان گرفتار ہوئے تو ان کی تیار کردہ سازش پر ان کی پارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں فوج کی تنصیبات پر حملے کردیے��۔
سوال یہ اٹھا کہ ریاست کو کیسے پتا چلا کہ عمران خان نے یہ سازش تیار کی ہے؟
تو ریاست کے پاس ایک بہت ہی شاندار اور باکمال گواہ تھا،جس کا نام تھا حسام افضل،جو نو مئی کے واقعے کے وقت تھانہ شادمان میں تعینات تھا،اس نے بتایا کہ وہ سات اور نو مئی کو چھپ کر زمان پارک گیا،اس کمرے میں جہاں عمران خان میٹنگز کرتے تھے تو وہاں اس نے سنا کہ عمران خان اپنی پارٹی کے رہنماوں کو حکم دے رہے ہیں کہ اگر مجھے گرفتار کیا جائے تو آپ نے فوج کی تنصیبات پر حملے کرنے ہیں،یہ واحد اہم گواہ تھے،ان کے ساتھ ایک اور بھی اسی طرح کے گواہ تھے لیکن ان پر بعد میں آئیں گے،
اب اس حسام افضل کی گواہی پر عمران خ��ن کو چوبیس مقدمات میں نو مئی سازش کے مرکزی کردار کے طور پر ملوث کر لیا گیا اور گرفتاری بھی ڈال دی گئی،
یہ بات یاد رہے کہ اسی حسام افضل کی گواہی پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شہبازرضوی اور جسٹس طارق باجوہ نے عمران خان کی نو مئی کی ضمانتیں مسترد کردیں
اب اس سب کو یاد رکھیے کہ مین گواہ کون تھا؟اور ہے؟
حسام افضل۔۔۔
اب چلتے ہیں اگلے ٹویٹس میں حسام افضل پر ہونے والی جرح پر جو کہ کوٹ لکھپت جیل میں برہان معظم ایڈووکیٹ صاحب نے کی۔۔۔
(میں کیونکہ ساتھ ساتھ ٹائپ کررہے ہوں تو آپ کو اگلے ٹویٹس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا )
n/1
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
وائی فائی اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ہر مہینے $6,128 کمانا ممکن ہے اور یہ کام اتنا آسان ہے کہ میری دادی اماں بھی اسے آرام سے کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے صرف چار آسان اقدامات پر عمل کرنا ہوتا ہے، جنہیں کوئی بھی گھر بیٹھے، صرف انٹرنیٹ اور تھوڑے سے وقت کے ساتھ مکمل کر سکتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی آپ کی رہنمائی کرتا ہے، کام آسان بناتا ہے، اور وقت کی بچت کرتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا سیکھنے اور محنت کرنے کو تیار ہیں تو یہ موقع آپ کے لیے بھی ہے۔ آج ہی شروعات کریں اور اپنی آن لائن آمدنی بڑھائیں۔
آپ روزانہ $297 تک کما سکتے ہیں، اور اس کے لیے آپ کو صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایک لیپ ٹاپ، وائی فائی کنکشن، اور روزانہ صرف 20 منٹ کا وقت۔ یہ طریقہ نہایت آسان اور قابلِ اعتماد ہے، جسے آپ گھر بیٹھے، اپنی سہولت کے مطابق کر سکتے ہیں۔ نہ کوئی مہنگا کورس، نہ کوئی خاص مہارت درکار ہے۔ اگر آپ طالبعلم ہیں، نوکری پیشہ یا گھریلو فرد، تو یہ موقع آپ کے لیے بہترین ہے۔ بس تین آسان مراحل پر عمل کریں اور کمائی کا سفر شروع کریں۔ آج ہی آغاز کریں اور دیکھیں کہ تھوڑی سی محنت کس طرح بڑی آمدنی میں بدل سکتی ہے۔
آج کے دور میں صرف 15 سال کے نوجوان بھی یوٹیوب پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے، بغیر اپنا چہرہ دکھائے، مہینے کے 5,000 ڈالر سے زیادہ کما رہے ہیں۔ وہ دلچسپ ویڈیوز بنانے کے لیے AI ٹولز استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ وائس اوور، ویڈیو ایڈیٹنگ، اور اسکرپٹ رائٹنگ کے لیے مختلف ایپلیکیشنز۔ آپ کو بس ایک موضوع منتخب کرنا ہے، جیسے کہ فیکٹس، کہانیاں، موٹیویشن یا خبریں، اور AI سے مدد لے کر مواد تیار کرنا ہے۔ نہ کیمرہ، نہ مہنگا سازوسامان، بس ذہانت، تخلیق اور تسلسل کے ساتھ ��پ بھی اس کامیابی کو حاصل کر سکتے ہیں۔
یوٹیوب سے ویڈیوز بنائے بغیر ماہانہ $30,000 کمائیں!
میں نے ��یک مکمل گائیڈ تیار کی ہے جو آپ کو روزانہ $100 تک کمانے میں مدد دے سکتی ہے اور وہ بھی بالکل مفت!
یہ حاصل کرنے کے لیے صرف تین آسان قدم پورے کریں:
مجھے فالو کریں
اس پوسٹ کو لائک اور ریٹویٹ کریں
کمنٹ میں لکھیں: "Yt"
📩 گائیڈ کی فوری ترسیل یقینی ہے۔
یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں آپ کی کمائی کا سفر آج سے شروع ہو سکتا ہے!