بھکر: جمعیت علماء اسلام ضلع بھکر کے زیر اہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت وعظمت صحابہ و اہلبیت ریلی کے مناظر
سابق وفاقی وزیر فرزند قائد جمعیۃ مولانا اسعد محمود، صوبائی امیر پنجاب مولانا امجد خان، سینئر نائب امیر مولانا محمد صفی اللہ کی خصوصی شرکت
غموں کی ماری اس بہن شبانہ کی فریاد سنیں۔۔۔
شبانہ بالاکوٹ سے آگے پارس نامی کسی گاؤں کے ہنستے مسکراتے گھرانے میں خوشحال زندگی بسر کررہی تھی۔ماں باپ بہن بھائی جیسی اللہ کی عظیم نعمتوں سے مالا مال تھی۔ اسکول بھی جاتی تھی۔ بچپن میں یرقان کی مرض میں مبتلا ہوئی تھی۔ والد پارس سے مانسہرہ اسپتال علاج کے لئے لایا۔ شبانہ اپنے والد کے ساتھ مانسہرہ میں تھی۔۔۔
اتنے میں دنیا بھر میں ایک خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔۔۔۔ وہ خبر تھی 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کی۔۔۔!!
شبانہ کو والد مانسہرہ اسپتال میں چھوڑ کر اپنے آشیانے کی خبر لینے پارس گیا۔ وہاں بہت ہی مشکلوں سے پہنچا تو دیکھا کہ سب کچھ ملیامیٹ تھا۔۔۔ بستی صفحہ ہستی پر موجود نہیں تھی۔۔ والد واپس بیٹی شبانہ کے پاس مانسہرہ پہچنا اور بیٹی کو بتایا کہ سب چلے گیے ہیں۔۔۔ہم دو ہیں بس۔
والد سے یہ صدمہ برداشت نا ہوا اور دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارا ہوگیا۔ وہاں موجود کمیٹی نے تجہیز و تدفین کی اور شبانہ کو زلزلہ متاثرین کے کیمپ منتقل کردیا۔۔۔۔۔ شبانہ آج بھی زندگی کے بہت سخت مراحل سے گزررہی ہے۔۔۔ وہ بڑی ہوکر اپنے گاوں بھی گئی لیکن اسکا کہنا تھا کہ علاقہ بدل چکا تھا کسی کو پہچان نہیں سکی۔ شبانہ چاہتی ہے کہ انکی مدد کی جائے۔
خاندان کا کوئی فرد اگر زندہ ہو کہیں موجود ہو اس تک رسائی ملے۔۔یا کوئی رشتےدار دنیا میں ہو تو اس سے رابطہ ہو۔۔
شبانہ نے والد کا نام محمد سرور اور والدہ کا نام شاہدہ بتایا۔
بھائی دو تھے ریاست اور عابد ۔۔ دو بہنیں روبینہ اور ثمینہ ۔
ایک چچا کا نام الیاس دوسرا رزاق یاد ہے۔
پارس محلے میں رہتے تھے ۔ یہ شاید بالاکوٹ سے آگے کسی گاوں کا نام ہے۔۔گھر کے قریب دریا تھا لکڑی کا پل ہوتا تھا ۔ پل سے گزر کر مسجد جاتے تھے۔ گھر کے پاس ہی اسکول تھا۔ دو سال جاتی رہی ہے۔ چچازاد بہن کلاس فیلو تھی بشری نام تھا۔
گھر میں ہندکو بولتے تھے ۔
بھائی ریاست کی بیوی کا نام رضیہ تھا۔
بالاکوٹ کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کی فریاد ہر طرف عام کریں کیا پتہ کہیں پر شبانہ کا کوئی رشتےدار موجود ہو ۔۔ کم از کم شبانہ کو تسلی تو ہو کہ انکا خونی رشتہ بھی دنیا میں موجود ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof #balakot
محترمہ جب آپ کے سانڈ جیسے شوہر باقاعدہ پوری پشتون نسل کو صرف اس وجہ سے ٹارگٹ کر رہے ہیں کہ خودکش دھماکے کرنے والے پشتون ہیں جبکہ ان دھماکوں میں شہید بھی پشتون ہو رہے ہیں اور آپ اس وقت اپنے اس سانڈ جیسے پتی دیو کیساتھ ان پوسٹوں پر کمینی سی ہنسی نکالتی ہیں اور اس وقت آپ کو یہ سب یاد نہیں اتا کہ صرف ایک دن کیلئے اس ڈبو سے دوری اختیار کرتی اور اب جب کسی نے حقیقت بیان کر دی تو آپ کو ایتھکس یاد آگئیں۔۔۔۔
@fawadchaudhry@HibaFawadPk
لاہور:سابق وفاقی وزیر فرزند قائد جمعیۃ مفتی اسعد محمود کا خطاب
پاکستان اسلامی ریاست جمعیت علماء اسلام کی وجہ سے ہے
پاکستان میں جےیوآئی سے بڑے سیاسی اجتماعات کوئی نہیں کرسکتا
مولانا مفتی محمود کے نام سے کانفرنس کرکے انہیں خراجِ تحسین پیش کررہے ہیں
سیاسی ماحول یرغمال بنا لیا گیا ہے، کے پی اور بلوچستان میں سیاسی اجتماعات اور جلسوں پر پابندی ہے
کے پی اور بلوچستان میں عوام کو پاکستان سے جے یو آئی نے وابستہ رکھا ہوا ہے
پنجاب میں امن و امان کے باوجود جےیوآئی کے جلسوں پر پابندی لگانے والے کس کی زبان بول رہے ہیں؟
ہمارا سیاسی حق کوئی حکمران نہیں چھین سکتا، ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں
پاکستان کو پرامن بنانے کےلیے عوام کی امنگوں کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے
اسلامی آئین کی تشکیل میں جے یو آئی کے کردار کو کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا
مفتی محمود کی فقہی اور دینی خدمات کو کون نظرانداز کرسکتا ہے؟
مفتی محمود نے جمعیت علماء اسلام کو مضبوط سیاسی کردار کے طور پر پیش کیا
مفتی محمود کے کردار کی بدولت ہر داڑھی پگڑی والا سر اٹھا کر چل سکتا ہے
قوم کو اس کرب سے کیوں گزارا جارہا ہے؟ جےیوآئی کے ورکرز کو کنٹرول کرنے کے لیے فورتھ شیڈول میں ڈالا جارہا ہے
اگر تمہارا کردار بزدار والا رہا تو ہمارا ردعمل بھی وہی ہوگا
نہ ہم نے پچھلوں کے جبر کو تسلیم کیا، نہ ہم تمہارے جبر کو تسلیم کرتے ہیں
تمہاری حکومتیں چھینی گئیں تو ہم تمہارے ساتھ کھڑے تھے
حکومتیں بنا کر ان کے ہاتھ میں اسکرپٹ پکڑا دیے جاتے ہیں، حکمرانو! تم کب تک حکومت کے نام پر نوکری کرو گے؟
اگر آج میں اسمبلی میں نہیں ہوں تو اس لیے کہ میں نے کبھی عوام کے حقوق پر کمزور موقف اختیار نہیں کیا
نیب کے قوانین میں ترامیم حکومتوں میں بیٹھے لوگوں کو بچانے کے لیے کی جاتی رہی ہیں
حکمرانوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ختم کرکے اسے سیکولر اسٹیٹ بنایا جائے
ہم تمہیں کبھی پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ نہیں بنانے دیں گے
عنقریب موجودہ حکمران بھی ہمیں کہیں گے کہ آپ قدم بڑھائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں
ماں سن اور بول نہیں سکتی تھی۔ ملتان یا آس پاس کسی شہر سے دونوں کو ایک شیلٹر میں لایا گیا پھر کراچی منتقل ہوگئے۔
ماں دو سال قبل وفات پاگئی ۔ بیٹا اب باہر کسی کے پاس رہ رہا ہے۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اللہ کی رضا کے لئے اس ویڈیو کو خوب زیارہ شئیر کریں آپکا ایک شئیر کسی لاوارث انسان کو اسکے اپنوں سے ملا سکتا ہے۔
زیارہ سے زیادہ شئیر کریں
WhatsApp
03162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
لاہور:
مفتی محمود کانفرنس کی تیاریوں کےسلسلے میں جمعیة علماء اسلام پنجاب چار ڈویژنز لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اوع ساہیوال کے امراء و نظماء ، مجالس عاملہ اور دیگر شعبہ جات جات مشترکہ اہم اجلاس
اجلاس میں سابق وفاقی وزیر اور فرزندِ قائدِ جمعیت، مولانا اسعد محمود کی بطور مہمان خصوصی شرکت۔
اجلاس کی صدارت صوبائی امیر مولانا امجد خان نے کی۔
اجلاس صوبائی سیکرٹری جنرل حافظ نصیر احمد احرار اجلاس کی نگرانی میں منعقد ہوا۔
حافظ غضنفر عزیز، حافظ محمد تنویر گجر، مولانا عبدالمجید توحیدی، حسن معاویہ سمیت متعلقہ اضلاع و تحاصیل کے ذمہ مہ داران نے اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں 15 اکتوبر کو ملتان میں ہونے والے مفتی محمود کانفرنس کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے، اضلاع کی ذمہ داریوں اور کارکنان و عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے اور عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کے حوالے سے اہم امور پر غور کیاگیا۔
#MuftiMahmoodConferenceMultan #MaulanaFazalUrRehman #JUIPakistan🇵🇰 #TeamJUIPunjab #JUIDigitalMediaCellPunjab
سوات کے دوست مدد کریں۔۔۔۔
ممبئی انڈیا سے ایک خاتون نے رابطہ کرکے اپنے والد کے خاندان کی تلاش کے لئے کہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ:
"میرا نام ریحانہ ہے۔ میں ممبئی، بھارت میں مقیم ہوں اور اپنے والد کے خاندان اور آبائی رشتے داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والد شیبر لالا (Shebar Lala) سوات کے پٹھان تھے۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے سوات سے ممبئی، بھارت آئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ الحمدللہ، ہمارا خاندان ممبئی میں اچھی طرح آباد ہے۔ ہمیں اپنے سوات والے خاندان سے کسی قسم کا مالی فائدہ یا کوئی چیز نہیں چاہیے۔ ہماری صرف یہ خواہش ہے کہ ہمیں اپنے والد کے خاندان، اپنے آبائی گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم ہو سکے اور اگر ممکن ہو تو ایک مرتبہ اپنے خاندان کے لوگوں سے ملاقات بھی ہو جائے۔
والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں جو معلومات بتائی تھیں، ان کے مطابق:
آبائی گاؤں: بور (Bur)، سوات (شاید بر سوات بتایا ہے والد نے انکو)۔ کاسٹ یوسفزئی۔
شیبر لالا کے والد کا نام: محمد علی
والدہ کا نام: خان تولی
محمد علی کی تین شادیاں تھیں۔شیبر دوسری بیوی سے تھے۔
شیبر لالا کی ایک بہن بھی تھیں، جن کا نام: گیرانہ (ہمارے مطابق شاید گرانہ ہو ) بتایا جاتا ہے، جن کی شادی کے بعد وہ بیحا (Biha)، سوات چلی گئی تھیں۔
شیبر لالا کے بھائیوں میں سے ہمیں فی الحال صرف ان تین ناموں کا علم ہے:
• امیر خان
• دولت خان
• دلاور خان
شیبر کے مطابق وہ کل 11 بھائی اور ایک بہن تھے۔
انکے دودھ کا کاروبار تھا۔
والد صاحب غالباً 1930 سے 1940 کے درمیان ممبئی آئے تھے، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی بھارت آ چکے تھے اور بعد میں ممبئی میں مستقل آباد ہوگئے۔
والد صاحب کی ایک خاص پہچان یہ بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں، پنجے کے اوپر ایک داغ/نشان بنا ہوا تھا۔
یہ تمام معلومات ہمیں والد صاحب نے اپنی زندگی میں خود بتائی تھیں۔ ہمارے پاس اس وقت مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں، لیکن ہم انہی معلومات کی بنیاد پر اپنے والد کے خاندان اور اپنی خاندانی جڑوں (Family Roots) کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر سوات، بالاکوٹ، یوسفزئی برادری، بور گاؤں یا بہا سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ان ناموں یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا کوئی شخص اس خاندان کو پہچانتا ہو، تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔
ہم صرف اپنے والد کے خاندان کو جاننا اور اپنے آبائی رشتوں سے دوبارہ جڑنا چاہتے ہیں۔"
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید کسی تک یہ معلومات پہنچ جائیں اور ایک بچھڑا ہوا خون ایک ہوجائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
لانگ مارچ کرنا پرامن کرنا تختہ الٹنا حکومت گرانا ٹیکھنے پر مجبور کرنا مخالف کو زیر کرنا بیانیہ عام کرنا اپنی بات منوانا اپنی بات پر قائم رہنا کہنا پورا کرنا وعدہ وفا کرنا دوستی نبھانا ذاتی دشمنی عناد سے دور رہنا وغیرہ جیسے چیزیں سیاست میں کرنا ہر ایرے غیرے کا کام نہیں وسیع تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ کام صرف اور صرف قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہی کرسکتے ہیں باقی سارے بارے بارے ٹُھس ہوتے گئے اور قوم نے دیکھ لیا ان جیسے کام کےلئے قوم کو قائد جمعیت قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے اقتداء میں کھڑا ہونا پڑے گا ورنہ بہتری کی امید نہ رکھنا۔۔۔۔۔۔
یہ باباجی ضلع منڈی بہاؤالدین کے ایک میں پچھلے تین ماہ سے موجود ہے۔
بظاہر ٹھیک ہے، بھوک پیاس سمجھتا ہے، ایک دو باتیں ٹھیک کرتا ہے لیکن پھر بچوں جیسا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔
اپنا نام بنیامین ولد عبد الستار بتا رہا ہے اور زبان ہندکو اور پشتو بولتا ہے، اور جب حویلیاں اور ہری پور کا نام لیا جاتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کا تعلق ہزارہ ڈویژن (ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد) سے ہے۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
22 sept 2026
#waliullahmaroof
ڈیرہ اسماعیل خان: تحصیل پروآ
پارلیمانی لیڈر جےیوآئی خیبرپختونخوا اسمبلی مولانا لطف الرحمٰن کی ذاتی دلچسپی اور عوامی مطالبہ پر پی ڈی ایم دور کی 16 ماہ کے قلیل دوران حکومت میں سابق وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود و ورلڈ بینک کی تعاون سے
یونین کونسل نائیویلہ تا جھوک رمضان و ٹھٹ سولہن 5.5 کلو میٹر بلیک ٹاپ روڈ منظور کرایا اور اس اہم منصوبے پر تعمیر اور مکمل بحالی کا آغاز ہنگامی بنیادوں پر شروع کرایا۔
آج الحمداللہ اس اہم منصوبے کی تعمیر و بحالی کا مرحلہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے کے عوام کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی اور روزمرہ آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی۔
علاقے کے عوام نے بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر مولانا لطف الرحمٰن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کی عوامی خدمات کو سراہا۔
یاد رہے کہ اس وقت پی ڈی ایم دور حکومت میں مولانا لطف الرحمٰن کی پر زور مطالبہ پر وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود و ورلڈ بنک کی تعاون سے
مین ہائی وے تا مکھڑ شہر سڑک ،
مین ہائی وے تا بستی ڈھانڈلہ و سکھانی سڑک ،
مین ہائی وے نائیویلہ تا جھوک رمضان و ٹھٹ سولہن 5.5 کلو میٹر سڑک کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کرکے عوام کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے،
اس وقت کے وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود و ورلڈ بنک کے منصوبے میں شامل ایک ماندہ سڑک جو کہ نائیویلہ تا رانگپور جنوبی و گرہ رشید بلیک ٹاپ سڑک جس پر تیزی سے تعمیراتی کام کا آغاز ہوچکا ہے انشاءاللہ العزیز بہت جلد اس منصوبے کی مکمل تعمیر و بحالی کا مرحلہ پائے تکمیل تک پہنچا کر اس کو عوام کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائیگا
@AsadMahmoodJUI
حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟
وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔
حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟
آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔
لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔
بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔
اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔
مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔
حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟
وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔
حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟
آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔
لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔
سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔
اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔
قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔
پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔
اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔
کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔
کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔
بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔
اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔
مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔
حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟
وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔
حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟
آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔
لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔
سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔
اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔
قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔
پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔
آج جو حکمران ہیں کل یہی لوگ ہمارے ساتھ کنٹینروں پر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباؤ ہے،آج وہ دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
کوئی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس
مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔
آج جو حکمران ہیں کل یہی لوگ ہمارے ساتھ کنٹینروں پر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباؤ ہے،آج وہ دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
کوئی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔
ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔
ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔
اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔